دل کی دھڑکنوں میں بسنے والی رحمت
انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ دل کی دھڑکنوں میں بسنے والی رحمت۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی)کبھی ایسا ہوتا ہے کہ رات کی خاموشی میں انسان خود سے باتیں کرنے لگتا ہے… دل کے کسی کونے میں ایک ہلکی سی بے چینی جاگ اٹھتی ہے، جیسے کوئی ادھورا سوال ہو، کوئی ایسی کمی جو الفاظ میں بیان نہ ہو سکے۔ انسان اپنے اردگرد لوگوں کے ہجوم میں بھی تنہا محسوس کرتا ہے، اور پھر دل بے اختیار کسی ایسے سہارے کو ڈھونڈنے لگتا ہے جو نہ صرف سن سکے بلکہ سمجھ بھی سکے… جو صرف الفاظ نہیں بلکہ دل کی کیفیت کو بھی محسوس کرے۔
ایسے ہی ایک لمحے میں یہ آیت روشنی کی طرح دل میں اترتی ہے:
“لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ”
(سورۃ التوبہ: 128)
ترجمہ:
“یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں، تمہاری تکلیف ان پر بہت گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے بہت حریص ہیں، ایمان والوں پر نہایت شفقت کرنے والے، بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔”
یہ آیت محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل احساس ہے… ایک ایسا یقین جو دل کے اندر اتر کر انسان کو بدل دیتا ہے۔ یہاں ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہمارے پاس جو ہستی آئی، وہ ہم میں سے ہی تھی… ہمارے دکھوں کو سمجھنے والی، ہماری تکلیفوں کو محسوس کرنے والی۔ یہ کوئی دور کی یا اجنبی شخصیت نہیں تھی، بلکہ ہماری طرح کے جذبات رکھنے والی، مگر دل میں پوری انسانیت کے لیے بے مثال رحمت رکھنے والی ہستی تھی۔
“عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ” — تمہاری تکلیف اسے بھاری لگتی ہے۔
یہ جملہ انسان کو اندر سے ہلا دیتا ہے۔ ہم اپنی زندگی میں اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ہماری پریشانیوں کو کوئی نہیں سمجھتا، ہم اکیلے ہیں، مگر یہاں ایک ایسا تعلق بتایا جا رہا ہے جہاں ہماری تکلیف کسی اور کے دل پر بوجھ بن جاتی ہے۔ یہ احساس انسان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے، اسے امید دیتا ہے کہ وہ بے سہارا نہیں۔
“حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ” — وہ تمہاری بھلائی کے لیے بے حد فکرمند ہیں۔
یہاں ہمیں یہ سکھایا جا رہا ہے کہ حقیقی محبت وہ ہے جو انسان کو بہتر بنانا چاہے۔ ہماری زندگی میں اکثر ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جو وقتی طور پر آسان لگتے ہیں مگر انجام میں نقصان دہ ہوتے ہیں۔ مگر یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری بھلائی کے لیے ایک مکمل راستہ موجود ہے، بس ہمیں اسے اپنانا ہے۔
“بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ” — وہ ایمان والوں کے لیے انتہائی نرم دل اور رحم کرنے والے ہیں۔
یہ الفاظ دل کو سکون دیتے ہیں۔ جب انسان اپنے گناہوں، اپنی کمزوریوں اور اپنی غلطیوں کو دیکھتا ہے تو اکثر مایوس ہو جاتا ہے، مگر یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ بس ایک قدم سچائی کی طرف بڑھانے کی دیر ہے۔
یہ آیت ہمیں اللہ پر یقین اور توکل کا بھی سبق دیتی ہے۔ جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ نے ہمیں ایک ایسا راستہ دیا ہے جس میں ہماری بھلائی ہے، تو پھر ہمیں اپنی فکر، اپنے خوف، اپنی بے چینی کو اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے۔ زندگی میں مسائل آتے ہیں، دل گھبراتا ہے، حالات بگڑتے ہیں، مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایمان کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔ کیا ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں یا نہیں؟
روزمرہ زندگی میں اس آیت کا اطلاق بہت سادہ مگر گہرا ہے۔ جب ہم کسی مشکل میں ہوں، تو یاد کریں کہ ہماری تکلیف کو سمجھا جا رہا ہے۔ جب ہم کسی غلط راستے کی طرف بڑھیں، تو سوچیں کہ کیا یہ واقعی ہمارے حق میں بہتر ہے؟ جب ہم دوسروں کے ساتھ سختی کریں، تو خود سے پوچھیں کہ کیا ہم بھی ویسی ہی نرمی دکھا رہے ہیں جس کا ہمیں درس دیا گیا ہے؟
دل کا سکون کسی باہر کی چیز میں نہیں، بلکہ اندر کے یقین میں ہے۔ جب انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ وہ تنہا نہیں، کہ اس کے لیے رحمت موجود ہے، کہ اس کی ہر تکلیف کو دیکھا اور سمجھا جا رہا ہے، تو اس کا دل آہستہ آہستہ مطمئن ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ اندرونی تبدیلی ہے جو انسان کو بے چینی سے نکال کر سکون کی طرف لے جاتی ہے۔
آخر میں یہی بات دل میں اترتی ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ ہم کسی نہ کسی سہارے کی تلاش میں رہتے ہیں، مگر اصل سہارا وہی ہے جو ہمیں اندر سے مضبوط کرے، ہمیں بہتر انسان بنائے، اور ہمیں امید دے۔ یہ آیت ہمیں اسی راستے کی طرف بلاتی ہے… ایک ایسا راستہ جہاں خوف کے بجائے یقین ہو، مایوسی کے بجائے امید ہو، اور بے چینی کے بجائے سکون۔
اگر ہم واقعی اس پیغام کو سمجھ لیں، تو شاید ہماری زندگی بدل جائے… اور شاید ہم وہ سکون پا لیں جس کی تلاش میں ہم برسوں سے بھٹک رہے ہیں۔
![]()

