Daily Roshni News

چغل خوری ، ایک سنگین گناہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )چغل خوری ایک کی بات دوسرے کو بگاڑنے کی نیت سے بتانا اسلام میں ایک سنگین گناہ ہے اور اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔

سب سے بڑی اور ہولناک سزا یہ ہے کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

اللہ کے رسول ﷺ نے واضح طور پر فرمایا “لا يدخل الجنة نقام “

چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا صحیح بخاری و مسلم]

چغل خوری ان گناہوں میں سے ہے جن کی سزا مرنے کے فوراً بعد قبر میں شروع ہو جاتی ہے۔

ایک مشہور حدیث میں ذکر ہے کہ نبی کریم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے۔

ان میں سے ایک شخص کی سزا کی وجہ یہ تھی کہ وہ چغل خوری کیا کرتا تھا۔

بعض روایات میں آتا ہے کہ چغل خوروں کو جہنم میں ایسی حالت میں رکھا جائے گا کہ ان کے منہ سے بدبو آئے گی اور انہیں ذلیل و خوار کیا جائے گا

کیونکہ انہوں نے دنیا میں لوگوں کے درمیان نفرت کے بیج ہوئے اور باعزت لوگوں کی آبرو پر حملے کیے تھے۔. کچھ علماء اور مفسرین نے بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن بعض گناہگاروں کے چہرے ان کے گناہوں کی نسبت سے بدل دیے جائیں گے۔

چغل خور جو اپنی زبان سے لوگوں کے گھر اجاڑتا تھا، اسے وہاں سخت رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

معراج کے واقعے میں نبی کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔

جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے تھے یعنی غیبت اور چغل خوری کر کے ان کی عزت اچھالتے تھے)۔

چغل خور کو شریر ترین انسان قرار دیا گیا ہے۔

حدیث میں ہے کہ کیا میں تمہیں تمہارے میں سے بدترین لوگوں کی خبر نہ دوں؟ وہ جو چغل خوری کرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔

ایسا شخص دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کی رحمت اور برکت سے محروم رہتا ہے کیونکہ وہ اللہ کی مخلوق کے درمیان فساد برپا کرتا ہے۔

ایک روایت کے مطابق جو شخص دنیا میں دو رخا پن اختیار کرتا ہے یعنی یہاں کی باتیں وہاں اور وہاں کی یہاں کرتا ہے)   قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی دو زبانیں ہوں گی جو اس کے اس گناہ کی علامت ہوں گی۔

بنی اسرائیل کے دور کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ جب سخت قحط پڑا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تو وحی آئی کہ آپ کی قوم میں ایک چغل خور موجود ہے

جب تک وہ توبہ نہیں کرے گا بارش نہیں ہوگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک چغل خور کی وجہ سے پوری قوم کی دعائیں رک سکتی ہیں۔

اگر کسی سے یہ گناہ سرزد ہوا ہے تو اسے درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں

خالص توبہ

اللہ سے معافی مانگیں کہ زبان کا غلط استعمال کیا۔

معافی تلافی

جن لوگوں کے تعلقات آپ کی وجہ سے خراب ہوئے، ان کی اصلاح کی کوشش کریں اور ان سے معافی مانگیں۔

خاموشی

آئندہ کے لیے عہد کریں کہ کسی کی بات دوسرے تک نہیں پہنچائیں گے۔

چغل خوری محض ایک عادت نہیں بلکہ معاشرتی زہر ہے۔ اگر کبھی نادانی میں یہ گناہ ہوا ہو

تو اس کا حل یہ ہے کہ اللہ سے توبہ کی جائے اور جن  لوگوں کے درمیان غلط فہمی پیدا کی تھی

ان سے معافی مانگی جائے یا ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔

#creatorsearchinsights

#بیک بِٹنگ

#Islamic Reminders

#

Loading