حج مذہبی فریضہ یا فیشن
تحریر۔۔حمیراعلیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ حج مذہبی فریضہ یا فیشن ۔۔۔ تحریر۔۔حمیراعلیم)حج ایسی عبادت ہے جو صرف صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر فرض ہے جس میں مالی اور جسمانی استطاعت دونوں شامل ہیں۔ ایک بار حج فرض ہےباقی تمام نفل کہلاتے ہیں۔ جونہی ذی القعدہ کا آغاز ہوتا ہے ہر طرف ایک مہم شروع ہو جاتی ہے جس کا ایجنڈا کچھ یوں ہوتا ہے:”بار بار حج کرنے اور مہنگی قربانی کرنے سے بہتر ہے کہ وہی پیسہ غریبوں پر خرچ کریں، اتنے لاکھ خرچ کر کے پھر بھی دل صاف نہیں تو کیا فائدہ، حج پر جانا فیشن بن گیا ہے، یہ صرف دولت کی نمائش ہے۔”
ایسے بیانات سن کر افسوس بھی ہوتا ہے اور حیرت بھی کہ آخر ایک شخص کی ذاتی عبادت پر دوسرے لوگ کیوں تنقید کرتے ہیں؟ کیا ہمیں یہ اختیار حاصل ہے کہ ہم کسی کی نیت، عمل یا عبادت پر انگلی اٹھائیں؟ کیا حج صرف وہی مسلمان کرسکتا ہے جسے ہم اجازت دیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا بار بار حج کرنا کوئی گناہ ہے؟
کیا ہم کسی نمازی کو کہتے ہیں کہ بس دو نمازیں کافی ہیں باقی وقت میں غریبوں کی مدد کرو؟ کیا روزے دار کو مشورہ دیتے ہیں کہ رمضان میں روزے نہ رکھو صرف فطرانہ دے دو؟ نہیں۔تو پھر حج کے معاملے میں یہ منطق کیوں؟ نفل حج بالکل نفل نمازوں اور روزوں کی طرح اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے۔ اگر کوئی شخص استطاعت رکھتا ہے اور حج کا شوق رکھتا ہے تو ہمیں کیا حق حاصل ہے کہ اسے روکیں؟ عبادت ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔
جو لوگ متعدد بار حج کرتے ہیں وہ اکثر مالی طور پر خوشحال اور دین دار ہوتے ہیں۔ یہ لوگ باقاعدگی سے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، غریبوں کی کفالت کرتے ہیں، یتیم بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھاتے ہیں، مساجد و مدارس کے لیے عطیات دیتے ہیں اور فلاحی اداروں کی مدد کرتے ہیں۔ مگر چونکہ ان کی عبادت نظر آتی ہے اور خیرات پوشیدہ ہوتی ہے اس لیے ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ صرف اپنے شوق پورے کر رہے ہیں۔
لوگ کسی کے مہنگے موبائل، گاڑی، گھڑی یا دیگر ذاتی شوق پر اتنا اعتراض نہیں کرتے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ آئی فون نہ خریدو، گاڑی نہ لو، یہی پیسے غریبوں پر خرچ کر دو۔ لیکن جیسے ہی بات عبادت کی آتی ہے فوراً دوسروں کی مدد یاد آ جاتی ہے۔ یہ رویہ ہماری منافقت اور تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
خیرات، زکوٰۃ اور حج اسلام کے بنیادی ستونوں میں سے ہیں اور ہر ایک اپنی جگہ اہم ہے۔ ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا صرف حالات اور نیت پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر کسی پر حج فرض ہو جائے اور وہ صرف اس لیے نہ جائے کہ وہ پیسے چیریٹی میں دینا چاہتا ہے تو یہ درست عمل نہیں۔ عبادت کو خیرات کے بہانے ترک کرنا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ اسلام دینِ اعتدال ہے اور یہی میانہ روی عبادت اور خدمتِ خلق دونوں میں برقرار رکھتا ہے۔
اگر کوئی دکھاوے کے لیے حج، خیرات یا دیگر عبادات کرتا ہے تو اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ ہم باقی عبادت گزاروں کو بھی غلط نہیں کہہ سکتے جن کی نیت خالص اللہ کی خوشنودی ہوتی ہے۔ ہمیں ظاہر پر معاملہ کرنے کاحکم دیا گیا ہےنیتوں کا حال اللہ جانتا ہے اور وہی حساب لینے والا ہے۔
فرض کریں ایک شخص پانچ وقت نماز، نفل اور تہجد بھی پڑھتا ہے۔ کیا ہم اسے کہیں گے کہ تہجد چھوڑ کر رات کو مزدوروں کو کھانا کھلاؤ؟ نہیں۔ کیونکہ دونوں کام نیکی ہیں۔ اسی طرح حج اور چیریٹی دونوں نیک اعمال ہیں۔ ایک کو دوسرے کے مقابل لا کر پیش کرنا اسلام کی روح کے خلاف ہے۔
بہتر یہ ہوگا کہ ہم دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم خود زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، کبھی کسی غریب بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھایا، باقاعدگی سے صدقہ، زکو ادا کرتے ہیں، کبھی حج یا عمرہ کے لیے بچت کی،ہماری نیت عبادات اور صدقات میں خالص ہے؟اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہو تو ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے۔
اسلام صرف خدمتِ خلق کا مذہب نہیں بلکہ عبادت اور بندگی کا مکمل نظام ہے۔ جس میں نماز، روزہ، حج پہلے اور زکوہ بعد میں ہے۔ ہمیں مکمل دین کو اپنانا ہے نہ کہ اپنی مرضی کے مطابق کچھ حصے لینے ہیں۔
جو لوگ بار بار حج کرتے ہیں، وہ اپنی استطاعت، حبِ الٰہی اور شوق کے تحت کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان کا حوصلہ بڑھائیں ان سے سیکھیں اور اپنی اصلاح کریں۔ دوسروں کی عبادات پر سوال اٹھانے کے بجائے اپنی عبادات پر توجہ دیں۔اللہ ہمیں نیتوں کی پاکیزگی عطا فرمائے ۔عبادت کا شوق دے اور خدمتِ خلق کی توفیق بھی۔ آمین۔
![]()

