Daily Roshni News

معرفت کی مشعل۔۔۔قسط نمبر1

معرفت کی مشعل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قدرت اپنے پیغام کو پہچا نے کے لئے دیے سے دیا جلا تی رہتی ہے ۔ معرفت کی مشعل ایک ہا تھ سے دو سرے ہا تھ میں منتقل ہو تی رہتی ہے۔ صوفی ، ولی ، غوث ،، قطب ، مجذوب ، اوتار ، قلندر ، ابدال قدرت کے وہ ہا تھ ہیں جن میں رو شنی کی مشعل روشن ہے ۔یہ پا کیزہ لوگ اس رو شنی سے اپنی ذات کو بھی روشن رکھتے ہیں اور دو سروں کو بھی رو شنی کا انعکاس دیتے ہیں۔ صرف تا ریخ کے اوراق ہی نہیں ،لو گوں کے دلوں پر بھی ان بزرگوں کی داستا نیں اور چشم دید واقعات زندہ اور محفوظ ہیں ۔ ان کی دعا ؤں سے مر دوں کو زندگی ، بیماروں کو شفاء ، بھوکوں کو غذا ، غر یبوں کو زر ،بے حال لوگوں کو بال وپر ،بے سہا را اور بے کس لوگوں کو اولاد اور مال ومتاع کے انعامات ملتے رہتے ہیں ۔

تصوف مذہب کی روح ہے۔ یہ بات اب بیشتر تسلیم کی جارہی ہے کہ روحانی تعلیمات کی بنیاد پر دنیا کو ظلم و جبر ، نا انصافی ولا قانونیت سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ اسی بات سے متاثر ہو کر مشہور فلسفی پر ٹرینڈرسل پکار اٹھا “دنیا میں جس قدر عظیم ترین فلسفی گزرے ہیں سب نے فلسفے کے ساتھ ساتھ تصوف کی ضرورت کا بھی اعتراف کیا ہے۔ دنیائے افکار میں انتہائی بلند مقام صرف سائنس اور تصوف کے اتحاد سے حاصل ہو سکتا ہے۔ بہترین انسانی خوبیوں کا اظہار صرف تصوف ہی کے ذریعے سے ممکن ہے …. ( Mysticism, Logic, and Other Essays، تصوف، منطق اور دیگر مضامین، از برٹرینڈ رسل، ترجمہ محمد بشیر ۔ صفحہ 12) اسلامی تاریخ میں صوفیائے کرام کا کردار نہایت قابل قدر رہا ہے۔ ان بلند پایاں شخصیات نے جب انسی کے ساتھ حب خلق کی بھی تعلیم دی۔ اللہ کے رسول می بینیم کی تعلیم یہ ہے کہ “مخلوق اللہ کا کنبہ ہے لہذا تمام مخلوقات میں اللہ کے نزدیک محبوب ترین وہ شخص ہے جو اللہ کے کنبہ کے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والا ہو“۔ (مشکوۃ)

اللہ کے طالب ہر زمانے اور قوم میں موجود رہے اور قیامت تک یہ طلب قائم رہے گی۔ اولیائے کرام ہر دور میں محبت والفت اور امن و سلامتی کے علم بردار رہے ہیں۔

آئیے یہ جائزہ لیتے ہیں کہ صوفیائے کرام نے اسلام کے روحانی اور ظاہری دونوں پہلوؤں کا تحفظ و احیاء کس طرح کیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان عاشقان رسول سے کوئی دور خالی نہ رہا۔ اولیاء اللہ ہر دور میں ہدایت ، رہبری اور خداشناسی کا ذریعہ بنے رہے۔

پہلی صدی ہجری کے عارف:یہ صدی تابعین اور تبع تابعین کے دور پر ہے۔ اس دور میں تصوف کی ابتدائی جھلکیاں نظر آتی ہیں، پہلی صدی ہجری میں جن شخصیات نے صوفیانہ تعلیمات کی بنیاد رکھی ، ان میں حضرت حسن بصری کا نام زیادہ نمایاں ہے۔ حضرت حسن بصری (21 110) کی والدہ ام المومنین حضرت ام سلمہ کی خادمہ تھیں۔ آپ کو بچپن میں باب اعلم حضرت علی کی قربت نصیب ہوئی۔

حضرت حسن بصری ؒنے ” رعایت حقوق اللہ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی تھی جو تصوف پر پہلی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کا واحد نسخہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی لائبریری میں آج بھی محفوظ ہے۔ ڈاکٹر انکلسن کے مطابق “حسن بصری پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے صوفی طریقہ زندگی کے بارے میں لکھا ۔ ( از میراث اسلام صفحہ 85)…. پہلی صدی ہجری کی ایک بلند مرتبہ شخصیت حضرت سعید بن المسیب (944ھ) ہیں۔ حضرت سعید کو علوم کی روشنی صحابہ کرام سے حاصل ہوئی تھی۔ روایت ہے کہ حضرت ابن مسیب کو حضرت ابو بکر کی صاحبزادی حضرت اسماء سے خواب کی تعبیر کا علم منتقل ہوا تھا۔ (از طبقات ابن سعد جلد 5)…. آپ کی بیان کردہ تعبیروں کی بڑی شہرت تھی۔ آپ کی بیان کردہ بہت سی تعبیریں تاریخ کی کتابوں میں بھی محفوظ ہیں۔

دوسری صدی ہجری کے عارفان حق: دوسری صدی ہجری کے ایک بلند پایہ عارف حضرت امام جعفر صادق (148:80ھ) ہیں۔ آپ علم لدنی کے حامل، علم نبوت کے وارث، علم و معرفت کے درخشندہ ستارے تھے۔ آپ کا مدرسہ اپنے دور کی بین الا قوامی یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کر گیا تھا جو ظاہری علم کے ساتھ باطنی علوم کی بھی ایک عظیم درس گاہ تھی۔

آپ کے مشہور شاگردوں میں حضرت سفیان ثوری، حضرت بایزید بسطامی ،امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور جابر بن حیان شامل ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق کے بعد اس روحانی مشن کو آپ کے صاحبزادے امام موسیٰ کاظم رضاً (186128ھ) نے آگے بڑھایا۔

دوسری صدی کی ایک نمایاں روحانی شخصیت قلندر یہ رابعہ بصری (185198ھ) کی ہے۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026

Loading