معرفت کی مشعل
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) تیسری صدی ہجری کے علمائے باطن: تیسری صدی ہجری صوفیائے کرام کا ایک خوب صورت گلدستہ ہے، اللہ کے بہت سے قدسی نفس دوست اس صدی میں گزرے ہیں مثلاً حضرت بایزید بسطامی (261تا128ھ)، حضرت سری سقطی (257تا179ھ)، حضرت ممشاد دینوری و سال 299) حضرت جنید بغدادی (298تا215ھ)، حضرت ذوالنون مصری (246تا180ھ)، حضرت حارث محاسبی (165تا 246ھ)، حضرت سہل تستری (283تا203) حضرت ابو سعید فراز ( وصال 286ھ) اور حضرت ابو عبدالله حکیم ترندی و سال 258)…. ان بزرگان دین میں سے اکثر کسی نہ کسی سلسلہ طریقت کے امام ہیں مثلاً حضرت بایزید بسطامی سلسلہ طیفوریہ، حضرت جنید بغدادی سلسلہ جنیدیہ، حضرت ممشاد دینوری سلسلہ چشتیہ، حضرت ذوالنون مصری دو سلاسل قلندریہ اور ملامتیہ کے امام ہیں۔ سہل تستری سلسله سہیلیہ، حارث محاسبی سلسلہ محاسبیہ، ابو سعید فراز سلسلہ فراز یہ اور ابو عبداللہ حکیم ترمذی سلسلہ حکیمیہ کے امام ہیں۔
سلسلہ چشتیہ کے امام ممشاد دینوری ہیں۔ آپ مغربی کو ہستان موضع دینور میں پیدا ہوئے۔ آپ کی پرورش بغداد میں ہوئی۔ آپ نے اپنے روحانی شاگرد حضرت ابو اسحاق کو وسط ایشیائی ریاستوں کی طرف روحانی مشن کی ترویج کے لئے روانہ کیا۔
بر صغیر میں چشتیہ سلسلہ کو حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے بام عروج پر پہنچایا۔ سلسلہ چشتیہ خصوصی چک ، رواداری اور عارفانہ رنگ کی وجہ سے بہت پچھلا پھولا۔
چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے اولیائے کرام:
چوتھی صدی کے سب سے نمایاں صوفی حضرت جنید بغدادی کے روحانی شاگرد ابو بکر شیلی (334تا247ھ) ہیں۔ آپ علم و معرفت میں یگانہ تھے۔ حضرت شیلی نے تصوف کو عام فہم انداز میں عوام میں پیش کیا۔
خواجہ عبداللہ انصاری نے تحریر کیا ہے کہ سب سے پہلے ذوالنون مصری نے رمز و کنایہ میں بات کی۔ جنید نے آکر اس علم کو مرتب کیا اور اس علم میں متعدد کتا ہیں لکھیں۔ شبلی نے اس علم کو منبروں تک پہنچادیا۔ یعنی حضرت ذوالنون مصری کے دور سے اہل روحانیت کی کوششوں کی وجہ سے لوگوں کا جو ذہن تیار کیا جار ہا تھا، حضرت شبلی کے دور میں یہ اس صبح کو پہنچا کہ تصوف کو وضاحت کے ساتھ عام لوگوں میں بھی متعارف کرایا جانے لگا۔
اب تصوف کے موضوع پر کتب تحریر کرنے کا رجحان بڑھنے لگا تھا۔ اسی دور کے ایک مشہور صوفی ابو نصر سراج طوسی (وصال 378ھ) نے تصوف کی ایک معتبر کتاب اللمعہ “ تحریر کی۔
اسی دور میں حضرت ابو طالب کی (وصال 385ھ) نے قوت القلوب“ نامی کتاب تحریر کی۔ اس کتاب کا شمار بھی تصوف کی قدیم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔
پانچویں صدی ہجری، اللہ کے ایک دوست کے تذکرے کے بغیر ادھوری نظر آتی ہے۔ یہ بزرگ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش(465تا400) ہیں۔
داتا صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ روحانی تجربات و مشاہدات اور تزکیہ نفس کے لئے سیر و سیاحت میں گزرا۔ اپنے مرشد حضرت ابوالفضل غزنوی کے حکم پر لاہور تشریف لائے۔
پانچویں صدی ہجری کا ایک روشن نام حضرت امام غزالی (505تا445ھ) کا ہے۔ آپ نے عمر عزیز کا طویل عرصہ مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہ کر گزارا۔ جب آپ نے محسوس کیا کہ یہ علم و شہرت آپ کو روحانی سکون نہیں دے سکی ہے تو حقیقت کی تلاش میں سفر اختیار کیا۔ اسی تلاش میں ان کی توجہ تصوف اور عرفان اسی کی طرف ہو گئی۔ اللہ تک پہنچنے کے لئے تزکیہ نفس کی سخت مشقوں سے گزرے۔ آپ نے تصوف پر کئی کتابیں تحریر کیں جن میں احیاء العلوم اور کیمیائے سعادت کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔
اسی صدی کے چند دیگر مشہور اولیاء اللہ میں حضرت ابوالحسن خرقانی ( وصال 425ھ)، ابو سعید ابوالخیر ( وصال 440 )، ابو علی و قاق (وصال 405 ، پیر ہرات حضرت خواجہ عبداللہ انصاری (وصال 481ھ) ہیں۔
چھٹی اور ساتویں ہجری کے اہل روحانیت:چھٹی صدی کے عظیم روحانی بزرگ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی المعروف به پیران پیر غوث اعظم عمیر (561تا470ھ) ہیں۔ غوث پاک کے روحانی مرتبے اور بزرگی کا ایک عالم معترف رہا ہے۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی نے سلسلہ قادریہ کی بنیادر کھی۔
اس صدی کی ایک اور سر بر آوردہ روحانی شخصیت حضرت خواجہ معین الدین چشتی معروف غریب نواز (633تا536ھ) کی ہے۔
آپ نے ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کے پلیٹ فرام سے توحید کی ایسی شمع روشن کی کہ سینکڑوں سال میں طرح طرح کی آندھیاں بھی اس ضیائے تابناک کو بجھانے میں ناکام ہو ہو گئیں۔
چھٹی صدی کے ایک بلند پایہ روحانی بزرگ حضرت ابو نجیب ابو القاہر سہر وردی (490) تا 563ھ) ہیں۔ حضرت ابوالقاہر سہر وردیہ ۔ کے امام ہیں۔ آپ اپنے عہد شباب میں بغداد چلے گئے۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اور امام غزائی سے ملاقاتیں رہیں۔ حضرت امام غزالی کی رہنمائی میں راہِ سلوک کی منازل طے کیں۔
اس روحانی مشن کو آپ کے روحانی شاگرد شہاب الدین سہروردی نے آگے بڑھایا۔
حضرت نجم الدین کبری” (618تا504ھ) نے بھی چھٹی صدی ہجری کو رونق بخشی۔ حضرت ابو نجیب ابو القاہر نے ان کی روحانی تربیت کی۔ یہ عظیم المرتبت روحانی بزرگ سلسلہ فردوسیہ کے امام ہیں۔ حضرت سخی لعل شہباز قلندر (560 تا 650ھ) نے اپنے عارفانہ نور سے چھٹی اور ساتویں صدی ہجری کی وسط میں سر زمین سندھ کو روشن کیا۔ آپ کی پیدائش صوبہ ہرات (افغانستان) کے مقام مروند میں ہوئی تھی۔ آپ کا اصل نام سید محمد عثمان مروندی ہے۔ آپ دنیاوی علوم سے بہرور تھے۔ کئی زبانوں پر عہد رکھتے تھے۔
ساتویں صدی ہجری میں اولیاء اللہ کی ایک۔۔۔جاری ہے۔۔۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026
![]()

