Daily Roshni News

نماز پڑھو اپنے گھروں میں اور ان کو قبرستان نہ بناؤ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔سید  اسلم  شاہ

نماز پڑھو اپنے گھروں میں اور ان کو قبرستان نہ بناؤ۔

تحریر  ۔  سید  اسلم  شاہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ نماز پڑھو اپنے گھروں میں اور ان کو قبرستان نہ بناؤ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔سید  اسلم  شاہ)آئیں فقیر آپ کو وہ حدیث سنانے لگا ہے جو آپ کو آج کے دن کوئی بھی مسجد میں نہیں سنائے گا اور یہ حدیث صحیح مسلم کی حدیث ہے1821  ترمذی میں یہ حدیث 451 کے نمبر سے ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔ یہ حدیث آپ کو ابو داؤد میں بھی مل جائے گی ۔

مسلم کے مطابق ۔۔ وحدثنا ابن المثنى ، حدثنا عبد الوهاب ، اخبرنا ايوب ، عن نافع ، عن ابن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ” صلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا “.

‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”نماز پڑھو اپنے گھروں میں اور ان کو قبرستان نہ بناؤ۔“ ۔۔۔۔۔۔ آپ نے جب حدیث کو لینا ہے تو تبصرے کے بغیر لینا ہے صرف اتنی ہی لینا ہے جتنی یہ ہے ۔۔۔ لیکن کوئی اس حدیث کا وہ مطلب نہیں لے گا جو قوم کو آج درکار ہے کیونکہ حدیث کو وہ مطلب لیا جاتا ہے جو آج کل حدیث بیان کرنے والے کا مطلب ہوتا ہے ۔۔ اس سارے معاملے کو سمجھنے کے لئے آپ کو اردو کی لغت میں جانا پڑے گا جو بہت اہم ہےتھوڑی دیر کے کے معانی تک جانے کے لئے الفاظ کی حرکات کو نظر انداز کرنا ہوگا کیونکہ حرکات کو نظر انداز کئے بغیر چیزوں کو سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے ہر حرکت کے پیچھے ایک نیت ہوتی ہے حرکات دراصل زیر زبر پیش کو بھی کہا جاتا ہے اور حرکت کو ہر قسم کی ہوتی ہے اچھی بھی بری بھی جو کسی سے بھی سرزد ہوجایا کرتی ہے فقیر کی کسی بھی پوسٹ کے لئے آلہ سماعت کی ضرورت کبھی نہیں پڑے گی مگر اعلی سماعت کے بغیر سمجھنا کافی مشکل ہوگا ۔۔۔ ۔۔ ہاں توفقیر عرض کررہا تھا کہ لغت میں  آپ کو ایک لفظ ملے کا ۔۔” بچے” ۔۔۔ آپ نے دیکھا ہوگا ہر بندے کو اپنے بچے سے بڑا پیار ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن جب ساری رقم  استعمال کرچکتے ہیں تب جو بچے وہ بچنا اصل بچنا ہوتا ہے ۔۔ اگر فقیر کی عبارت کو پڑھنے میں آپ کو دقت نہیں ہوتی اور آسانی سے سمجھ آجاتی ہیں تو براہ کرم آپ اس کو درست نہیں پڑھ رہے مت پڑھیں ، ہاں تو فقیر عرض کررہا تھا کہ اردو محاوروں میں ایک محارہ بولا جاتا ہے کہ ۔۔ بچے کے ہاتھ کا بتاشہ ۔۔ جن لوگوں کو بتاشے کا نہیں پتہ اس کے علم میں تھوڑا آضافہ کرنا بنتا ہے ایک وقت تھا کہ بچوں کے پاس ٹافیاں اور کنفیکشری آئٹم نہ ہونے کے برابر ہوا کرتی تھیں اس وقت بچوں کا بچپن تین چیزؤ ں کی تلاش میں گزرا کرتا تھا ایک پھلیاں ایک بتاشے اور ایک مکھانے ۔۔ یہ ساری بات اس لئے بتا رہا ہوں کہ آپ کو سمجھ آئے کہ جو محاورہ بیان کرنا چاہتا ہوں اس کا مطلب کیا ہے محاورہ ہے ۔۔ بچے کے ہاتھ کا بتاشہ ہونا ۔۔ ایک ایسی  چیز کو کہتے ہیں کہ جس کو اگر لے لیا جائے تو بچہ بہت شور کرتا ہے یعنی جو چیز اتنی دیر بعد ہاتھ آئے اور اتنی مزے کی میٹھی ہو اسے کیسے چھوڑا جاسکتا ہے جب کہ آپ کے پاس سب سے اونچی آواز بھی ہو اور پھر اس وقت پڑوسن ایک منٹ نہیں لگاتی تھی یہ پوچھنے کے لئے کہ بچہ رو کیوں رہا ہے ۔۔ وہی حال ہے کہ لے دے کہ سال بعد آتا ہے رمضان سب نے اسی مہینے میں ذکوۃ دینا ہوتی ہے اور آپ ساری دوکانیں بند کرسکتے ہو مولوی کی دوکان بند کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس لاؤڈ سپیکر ہوتا ہے اور پڑوسن منٹ نہیں لگاتی میڈیا بن کا حاضر ہوجاتی ہے کہ مولوی رو کیوں رہا ہے ۔ حکومت بچاری کیا کرئے  حکومت تو ساری احادیث بھی نہیں پڑھی اور نہ کوئی تھوڑا بہت سدھ بدھ رکھنے والا بندہ ان کے پاس موجود ہے اور جن پر حکومت کا تکیہ ہے وہ تکیہ سر تو سہہ لیتا ہے کونی رکھو تو گرا دیتا ہے ۔۔ کیونکہ وہ سر سر کرنے  میں آگے ہے فقیر کا کام تو صرف اردو دے متعلقہ ہے قسم لے لو جو اردو کے علاوہ کچھ بتانے کی کوشش کی ہو ۔۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔۔ لغت سے معاملہ نکل کر محاوروں کی شرح پر چلا گیا حالانکہ بات صرف اور صرف لفظ ۔۔ بچے ۔۔ پر ختم ہوسکتی تھی کسی کو کچھ بچے نہ بچے کسی کی دوکان کھلے نہ کھلے مولوی کو بچپنا بھی چاہیئے اور دوکان کھلنی بھی چاہیئے جسے سب مسجد کہتے ہیں کیونکہ اگر مولوی کی نہ مانی جائے تو وہ بچے سے زیادہ روتا ہے اور زیادہ شور مچاتا ہے ہے اس نے اپنے اپنے مسالک بنا رکھے ہیں اور منشور ہیں اور ان کے اپنے اپنے لیڈر ہیں جن کو یہ پورا سال اسی شے کا بھتہ دیتے ہیں کہ اگر ان پر کوئی برا وقت آیا تو یہ بھتہ دینا بند کردے گا اب سارے بڑوں کو اکٹھا ہونا پڑتا ہے کیونکہ نماز یہ ایک دوسرے کے پیچھے نہیں پڑھتے مگر جب دوکان بند ہونے کا معاملہ ہو تو مشترکہ پریس کانفرنس ہوا کرتی ہے اور سب سے بڑا وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ مسجدوں کا منتظم ہوتا ہے  یعنی بڑی فرنچائز کا مالک کہتے ہیں ادارہ اگر منظم ہو تو مالک مر بھی جائے تو ادارہ چلتا رہیتا ہے ۔۔ لیکن ایک بات طے ہے جو لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی کسی طرح کا بھی اور نبی ہوسکتا ہے حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کے بعد بھی ان کا دین اسلام نہیں ہوسکتا ۔۔

Loading