Daily Roshni News

جب آپ نے کچھ مانگا

جب آپ نے کچھ مانگا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب آپ کوئی غلطی کرتے ہیں

تو سب سے پہلے آواز کہاں سے آتی ہے؟

باہر سے نہیں۔

اندر سے۔

تم ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہو۔

تم سے کچھ نہیں ہوگا۔

تم کمزور ہو۔

یہ آواز آپ کی اپنی ہے۔

مگر یہ الفاظ آپ نے خود نہیں لکھے

1960 میں ایک ماہر نفسیات نے کچھ بچوں پر تجربہ کیا۔

Albert Bandura۔

Stanford University۔

اس نے بچوں کو ایک کمرے میں بٹھایا۔

سامنے ایک بڑی گڑیا تھی — Bobo Doll۔

ایک بڑے نے گڑیا کو مارا۔ چیخا۔ دھکے دیے۔

پھر وہی بچے اکیلے کمرے میں گئے۔

انہوں نے بالکل وہی کیا

جو انہوں نے دیکھا تھا۔

Bandura نے اسے کہا —

 Observational Learning۔

یعنی —

انسان وہ نہیں بنتا جو وہ چاہتا ہے

انسان وہ بنتا ہے جو اس نے دیکھا ہے

اب سوچیں

آپ کے بچپن میں کیا ہوا تھا؟

جب آپ نے رونا چاہا

کیا کسی نے کہا “مرد نہیں روتے؟

جب آپ نے کچھ مانگا

کیا کسی نے کہا “شرم نہیں آتی؟

جب آپ نے غلطی کی

کیا کسی نے کہا “تم کبھی نہیں سدھروگے؟

وہ الفاظ ہوا میں نہیں گئے۔

Neuroscience بتاتی ہے —

بچپن میں سنے ہوئے الفاظ

دماغ کے Prefrontal Cortex میں

ایک مستقل pathway بناتے ہیں۔

اور یہ pathway —

جب بھی آپ مشکل میں ہوتے ہیں

automatically activate ہو جاتی ہے۔

یعنی —

وہ آواز آپ کی نہیں ہے۔

وہ آواز کسی اور کی ہے

جو آپ کے اندر رہ گئی ہے

Psychology میں اسے کہتے ہیں —

Internalized Critical Voice۔

Dr. Eugene Gendlin نے 1978 میں لکھا —

یہ آواز اتنی گہری ہو جاتی ہے کہ —

انسان اسے اپنی شخصیت سمجھ لیتا ہے۔

میں ایسا ہی ہوں۔

میری یہی قسمت ہے۔

بس یہی میری اوقات ہے۔

نہیں۔

یہ آپ نہیں ہیں۔

یہ وہ ہے جو آپ کو بتایا گیا۔

ایک اور تحقیق —

Harvard Medical School کے Dr. Martin Teicher نے 2006 میں ثابت کیا:

بچپن میں سخت الفاظ سننے سے

دماغ کے Corpus Callosum کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے

وہ حصہ جو دونوں جانب کے دماغ کو جوڑتا ہے۔

یعنی سخت الفاظ

دماغ کو جسمانی طور پر بدل دیتے ہیں۔

یہ metaphor نہیں

یہ MRI scan میں نظر آتا ہے۔

مگر ایک اور سچ ہے

Neuroplasticity۔

دماغ بدل سکتا ہے۔

Dr. Richard Davidson — University of Wisconsin —

نے ثابت کیا کہ صرف 8 ہفتے کی conscious practice سے —

دماغ میں نئی pathways بنتی ہیں۔

وہ آواز جو سالوں سے آپ کو کمزور کہتی آئی

اسے بدلا جا سکتا ہے۔

مگر اس کے لیے —

پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ

وہ آواز آپ کی نہیں تھی۔

آج رات —

جب وہ آواز آئے

ایک لمحے کے لیے رکیں۔

اور خود سے پوچھیں:

“یہ میں نے سوچا

یا یہ مجھے سکھایا گیا؟”

یہ ایک سوال —

آپ کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔

کیونکہ جو آواز آپ کو سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے

وہ اکثر سب سے پرانی ہوتی ہے۔

اور سب سے پرانی چیزیں

سب سے پہلے بدلی جا سکتی ہیں۔

#highlightseveryone

#urduhaijiskaname

#everyonefollowers

Loading