Daily Roshni News

اخلاقی سبق سب کے لئے

اخلاقی سبق سب کے لئے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ شام کے علاقے میں واقع ایک شہر، جو اپنی سرسبز وادیوں اور بلند و بالا پہاڑوں کے لیے مشہور تھا، پر ایک  بادشاہ “قسیصر” حکومت کرتا تھا۔ اس بادشاہ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام “براق بن روحان” تھا۔ شہزادہ براق اپنی غیر معمولی خوب صورتی، بہادری اور سخاوت کے لیے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ اس کے سنہری بال اس کے کندھوں تک لٹک رہے تھے، اس کی آنکھیں شہد جیسی مٹھاس رکھتی تھیں، اور اس کی شکل و صورت دیکھ کر ہر کوئی اپنی نظریں جھکا لیتا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی وفاداری اور اپنی قوم سے محبت تھی۔ اسی شہر میں ایک نجومی رہتا تھا جس کا نام “سابا” تھا، جو براق کا روحانی پیشوا اور معتمد خاص تھا۔

ایک دن نجومی سابا نے براق کو یہ پیشین گوئی سنائی کہ اسے اپنے شہر کے باہر ایک عجیب و غریب درخت ملے گا۔ اس درخت کے پتے سونے سے بنے ہوں گے اور اس کے پھل موتیوں کی طرح چمکیں گے۔ پادری نے بتایا کہ اس درخت کے ملنے سے براق کی زندگی ایک نئے موڑ پر آئے گی۔ اس نے براق کو مزید بتایا کہ اس کے سامنے دو راستے ہوں گے: ایک اسے بڑی دولت اور شہرت کی طرف لے جائے گا، جبکہ دوسرا اسے محبت اور وفا کی راہ دکھائے گا۔

چند روز بعد براق اپنے شہر کے باہر شکار کے لیے نکلا۔ جنگل میں بھٹکتے ہوئے اس نے واقعی وہی عجیب درخت دیکھا جس کا ذکر نجومی نے کیا تھا۔ لیکن اس درخت کے نیچے ایک خوبصورت نوجوان لڑکی بے ہوش پڑی ہوئی تھی۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور اس کے جسم پر زخموں کے نشانات تھے، لیکن پھر بھی اس کی خوب صورتی دیکھتے ہی بنتی تھی۔ براق نے اسے فوراً اٹھایا اور اپنے گھوڑے پر بٹھا لیا۔ لڑکی جب اٹھی تو اس نے بتایا کہ اس کا نام “لیلیٰ” ہے اور وہ عرب کے ایک مشہور قبیلے کی کنواری ہے۔ اسے چند روز پہلے اپنے قبیلے سے اغوا کیا گیا تھا اور اب وہ راستہ بھول کر یہاں پہنچی ہے۔

براق اسے اپنے محل میں لے گیا اور اس کی ہر ممکن خدمت کی۔ لیلیٰ کی خوب صورتی نے براق کا دل موہ لیا اور وہ اس سے بے حد محبت کرنے لگا۔ لیکن لیلیٰ نے ایک شرط رکھ دی کہ وہ اس سے شادی کرے گی لیکن تب جب وہ اسے اس کے قبیلے میں واپس لے جائے گا۔ براق نے یہ شرط قبول کر لی۔ اس نے اپنے باپ سے اجازت لی اور ایک چھوٹی سی فوج کے ساتھ لیلیٰ کے قبیلے کی طرف روانہ ہو گیا۔

راستے میں انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک مقام پر ان پر ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا۔ براق نے اپنی بہادری سے ان سب کا مقابلہ کیا اور لیلیٰ کو بچا لیا۔ اس نے اپنی تلوار سے ڈاکوؤں کے سردار کا سر قلم کر دیا اور باقی ڈاکو بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیلیٰ نے براق کی بہادری دیکھ کر اس کی محبت میں مزید اضافہ ہو گیا۔

کئی دنوں کے سفر کے بعد وہ لیلیٰ کے قبیلے کے قریب پہنچ گئے۔ لیکن وہاں انہیں پتہ چلا کہ لیلیٰ کے قبیلے کے لوگ براق کو دشمن سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ایک غیر عرب شہزادہ ہے۔ انہوں نے براق کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیلیٰ نے یہ منصوبہ سن لیا اور اس نے براق کو خبردار کر دیا۔

براق نے لیلیٰ کو اپنے ساتھ واپس آنے کی دعوت دی، لیکن لیلیٰ نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے قبیلے کو نہیں چھوڑ سکتی۔ براق بہت دکھی ہوا اور وہ اپنے شہر واپس آ گیا۔ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ وہ لیلیٰ کو بھولنا چاہتا ہے، لیکن اس کا دل اسے بھولنے نہیں دیتا تھا۔ وہ دن رات صرف لیلیٰ کی یاد میں روتا رہتا۔

نجومی سابا نے براق کو سمجھایا، “شہزادے! محبت ایک عظیم طاقت ہے، لیکن یہ تکلیف بھی دیتی ہے۔ تمہیں اپنی قوم اور اپنے لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔” لیکن براق نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے نجومی سے کہا کہ وہ اسے لیلیٰ کو دوبارہ دیکھنے کا کوئی راستہ بتائے۔

نجومی نے بتایا کہ بلند پہاڑ کی چوٹی پر ایک جادوئی باغ ہے جہاں ایک عجیب و غریب پھول کھلتا ہے۔ اس پھول کی خوشبو سے کوئی بھی شخص اپنی محبوبہ کو دوبارہ دیکھ سکتا ہے۔ براق فوراً اس پہاڑ کی طرف روانہ ہوا۔ اس نے بڑی مشکل سے پہاڑ پر چڑھ کر وہ پھول حاصل کر لیا۔ لیکن جب اس نے پھول کی خوشبو سونگھی تو اسے لیلیٰ کے علاوہ سب کچھ بھولنا شروع ہو گیا۔ نجومی کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی، دولت اور شہرت کے بجائے اس نے محبت کی راہ کا انتخاب کیا تھا، اور اس راہ نے اسے سب کچھ دکھا دیا۔

براق پھر لیلیٰ کے قبیلے کی طرف روانہ ہوا۔ اس بار اس نے اپنی فوج کو ساتھ نہیں لیا، وہ اکیلا ہی گیا۔ جب وہ لیلیٰ کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا کہ لیلیٰ اپنے قبیلے کے لوگوں کے درمیان بیٹھی ہے۔ لیلیٰ نے اسے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ براق نے اسے گلے لگایا اور کہا، “میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔ چلو میرے ساتھ۔”

لیکن اس بار بھی لیلیٰ نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا “میں تم سے محبت کرتی ہوں، لیکن میں اپنے قبیلے کو نہیں چھوڑ سکتی۔ تم واپس جاؤ اور اپنی زندگی گزارو۔”

براق نے اس کی بات مانی اور واپس چلا گیا۔ لیکن اس نے کبھی شادی نہیں کی اور نہ ہی کبھی لیلیٰ کو بھلایا۔ وہ اپنی باقی زندگی ایک ویرانے میں گزار کر فوت ہو گیا۔ اس کی وفات کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر ایک خوبصورت مزار بنوایا۔

یہ کہانی عربی ادب کی بہترین رومانی داستانوں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ایثار اور وفاداری جیسی خوبیاں کیسے انسان کو زندہ جاوید کر دیتی ہیں۔

اخلاقی سبق:

سچی محبت کو زمانے کی سختیاں اور رکاوٹیں ختم نہیں کر سکتیں۔ یہ بہادری کا درس دیتی ہے کہ کس طرح عظیم محبت وقت اور فاصلے سے بلند ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔

حوالہ: یہ کہانی مشہور عربی ناول “Qissat al-Barrāq ibn Rawḥān” کے اردو ترجمے سے ماخوذ ہے

Loading