Daily Roshni News

میں کون ہوں؟۔۔ تحریر۔۔۔ممتاز مفتی۔۔۔قسط نمبر2

میں کون ہوں؟

تحریر۔۔۔ممتاز مفتی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ میں کون ہوں؟۔۔ تحریر۔۔۔ممتاز مفتی)خود بھی علم نہ ہو ، وہ ایسا کیوں کرتی ہے۔

پھر ایک نیا واقعہ عمل میں آیا۔ ایک روز جب میں کالج جانے کی تیاری کر رہا تھا تو اتفاقا میری نگاہ اخبار کے ایک آرٹیکل پر پڑی۔ یہ آرٹیکل اوری گیلر Uri Geller پر تھا۔ اور ی اسرائیل کا رہنے والا ایک یہودی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی توجہ سے کئی ایک شعبدے کر سکتا ہے۔ مثلا لوہے کی کنجی موڑ سکتا ہے ، گھڑی کی سوئیاں ہلا سکتا ہے، چیزیں غائب کر سکتا ہے۔ میں یہ آرٹیکل پڑھنے بیٹھ گیا اور بھول ہی گیا کہ مجھے کالج جاتا ہے۔ اسمارہ کمرے میں داخل ہوئی اور مجھے وہاں بیٹھے دیکھ کر چلا کر بولی: ” فاضل ! آپ کالج نہیں جائیں گے کیا ….؟

فاضل ….! میں نے حیرت سے اسمارہ کی طرف دیکھا۔

“فاضل ” وہ گھر اکر بولی نہیں تو میں نے تو افضل کہا ہے“۔

کیا تو فاضل ہی تھا“ میں نے جواب دیا۔ ”شاید “ وہ بولی ” منہ سے نکل گیا ہو“ وہ سخت گھبرائی ہوئی تھی۔ کچھ روز بعد پھر اس نے انجانے میں مجھے فاضل کہہ کر بلایا۔ اس روز میں نے اسے جتایا نہیں۔ چھ ماہ میں اسمارہ نے چار پانچ مرتبہ مجھے فاضل

کہہ کر بلایا۔

میرے ذہن میں ایک اور سوالیہ نشان ابھر آیا۔ ابھی پہلی پر اہلم حل نہ ہوئی تھی کہ ایک اور پر اہلم پیدا ہو گئی۔ پھر مجھے خیال آیا شاید یہ دونوں باتیں ایک ہی شاخ کی دو کو نپلیں ہوں۔

ایک رات مجھے نیند نہ آرہی تھی۔ دس بجے کے قریب میں سو گیا تھا، لیکن بارہ بجے کے قریب جاگ پڑا تھا۔ اس کے بعد میں نے بڑی کوشش کی کہ سو جاؤں۔

مگر نیند نہ آئی۔ اتفاقا میری نگاہ اسمارہ پر پڑی، وہ سو رہی تھی لیکن اس پر گو یا اضطراب کا عالم چھایا ہوا تھا۔ اس سے پہلے سوتے میں میں نے اسے کئی بار دیکھا تھا، کئی بار اس کی نیند بچے کی نیند جیسی تھی۔ گہری نیند جیسے کہ معصوم لوگوں کی ہوتی ہے لیکن اس روز وہ بات نہ تھی۔ سوتے میں وہ بل کھارہی تھی۔ جیسے سخت اضطراب میں ہو۔ پھر اس نے چیخ ماری۔ فاضل ….!” میں نے اسے سہارا دیا۔ ڈر گئی ہو اسمارہ ….؟”

میں نے کہا۔فضل، افضل امجھے چھوڑ کر نہ جانا“۔

میں نے اسے بیڈ پر لٹایا۔ کوئی بات نہیں، کوئی بات نہیں۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ لیٹ جاؤ اسمارہ، لیٹ جاؤ“۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

میں نے اسے تسلی دی۔ حتی کہ وہ خاموش ہو گئی۔ میرا خیال تھا اس نے رونا بند کر دیا ہے لیکن جلد ہی میرے ہاتھوں پر ایک آنسو آگرا پھر ایک اور ایک اور ، پھر میں نے جانا کہ وہ آنسوؤں والا رو نارور ہی تھی۔ تمہیں کوئی تکلیف ہے سماره…؟

میں نے پوچھا۔

نہیں، نہیں تکلیف تو نہیں، لیکن “. لیکن کیا….؟” میں نے پوچھا۔

میں تمہیں سکھ نہ دے سکی۔ وہ رونی آواز میں بولی ” الٹا میں نے تمہاری پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے….؟

نہیں نہیں۔ میں تو بہت خوش ہوں“ میں نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔

” مجھے پتہ ہے“۔ وہ بولی ” تم کتنے فکر مند ہو۔ میری وجہ سے فکر مند ہو۔ کاش میں تمہارا ساتھی بن سکتی۔ وہ پھر رونے لگی۔ دیر تک میں اسے پہلا تا رہا۔

حتی کہ وہ روتے روتے سو گئی۔

اس روز میں واقعی گھر آگیا۔ ضرور اسمارہ کے دل میں کوئی کا نا لگا ہو اہے اور پھر جب وہ ڈر کر جاگی تھی، تو اس نے فاضل کو آواز کیوں دی تھی؟ فاضل کون تھا ؟ اس واقعے سے میں اس قدر گھبر اگیا کہ میں ظہیر سے جاکر ملا۔ ظہیر میرا پرانا دوست ہے، وہ سند یافتہ سائیکاٹرسٹ ہے۔ میں نے اسے اسمارہ کے متعلق ساری تفصیلات سنائیں۔

وہ ہنس پڑا بڑا دلچسپ کیس ہے، لیکن پریشانی کی کوئی خاص بات معلوم نہیں پڑتی۔

و پھر بھی تمہارا کیا اندازہ ہے….؟”

میں نے پو چھا۔

اس معاملے میں اندازے نہیں چلتے“۔ ظہیر نے جواب دیا ” ممکن ہے دہا ہوا احساس گناہ ہو۔ کوئی غیر عقلی ڈر ہو ، خوف ہو“۔

احساس گناہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔ میں نے کہا ” اسمارہ اتنی پاکیزہ اور معصوم لڑکی ہے کہ ….. ظہیر نے قہقہہ لگایا ” انسان ایک معمہ ہے اور انسانی ذہن ایک گورکھ دھندا۔ تم بھابھی کو میرے پاس لے کر آؤ تا کہ میں ان کا مسئلہ سن کر کسی نتیجے پر پہنچ سکوں ، پھر شاید میں کوئی اندازہ لگا سکوں۔

گھر آکر میں نے بڑے محتاط انداز سے اسمارہ سے بات کی۔

نہیں نہیں“۔ وہ سخت گھبراہٹ سے بولی۔ ” میں سائیکاٹرسٹ کے پاس نہیں جاؤں گی“۔

اس روز پہلی مرتبہ اس کے انداز میں شدت تھی۔ اتنی شدت تھی کہ میں حیران رہ گیا۔

چند ہی دنوں کے بعد ایک اور واقعہ رونما ہوا۔ آدھی رات کے وقت میں نیند سے جاگا تو میں نے دیکھا کہ اسمارہ سوتے میں شدید اضطراب محسوس کر رہی تھی۔

میں اسے دیکھتا رہا، دیکھتا رہا۔ میرا خیال تھا کہ وہ ابھی چیخ مار کر جاگ اٹھے گی لیکن میر امیہ خیال غلط ثابت ہوا۔ آہستہ آہستہ اس کا یہ اضطراب ختم ہو گیا اور وہ اکثر گئی جیسے لکڑی کی بنی ہو۔ پھر آہستہ آہستہ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ میں نے بیڈ سونچ دبا کر بلب روشن کر دیا لیکن اسمارہ کو کچھ پتہ نہ چلا۔ وہ جوں کی توں بیٹھی رہی۔ پھر وہ اٹھ بیٹھی اور چلنے لگی۔ اس وقت میں نے جانا کہ وہ نیند میں چل رہی ہے۔ میں نے تاریخ اٹھائی اور اس کے

پیچھے پیچھے چل پڑا۔ ہمارا گھر پرانی طرز کا بنا ہوا ہے۔ اس کا ایک حصہ خاصا بوسیدہ ہے۔ ہمارا بیڈ روم دوسری منزل پر ہے۔ دوسری منزل سے روزینے نیچے آتے ہیں۔ ان میں سے ایک سیدھا ڈرائنگ روم میں اترتا ہے۔ اسمارہ غلام گردش سے چلتی ہوئی اس زینے سے اترنے لگی جو ڈرائنگ روم میں جاتا ہے۔ جب چند ایک سیڑھیاں باقی رہ گئیں تو وہ رک گئی۔ میں اس کے پاس سے گزر کر نیچے اتر گیا۔ میں نے ڈرائنگ روم کی بتیاں جلا دیں۔ اس کے باوجود وہ جوں کی توں لکڑی کے جنگلے سے ٹیک لگائے کھڑی رہی۔ پھر مجھے ایسے لگا جیسے وہ کسی کو آوازیں دے رہی ہو ۔ اس کا منہ کھلتا اور بند ہو جاتا ، لیکن حلق سے آواز نہ نکلتی تھی۔ چند ایک ساعت وہ وہاں کھڑی رہی۔ پھر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ گرنے لگی ہو۔ میں نے لپک کر اسے بازؤں میں تھام لیا۔ اسمارو، اسمارہ ” میں نے اسے آواز دی۔ وہ جاگ پڑی۔ سخت گھبر آگئی۔

میں کہاں ہوں … افضل ہے ..؟ شکر ہے تم ہو، تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو …. ؟” وہ اکھڑی اکھڑی باتیں کرنے لگی۔

اگلے روز بڑی سنجیدگی سے اسمارہ سے بات کی۔ اسمارہ، تم پڑھی لکھی ہو، سمجھدار ہو اگر تم نے فوری طور پر اپنا علاج نہ کرایا تو ممکن ہے یہ ساری علامات کسی بیماری کی شکل اختیار کرلیں۔ اس لیے ضد نہ کرو چلو ظہیر سے اپنے مسئلے کو ڈسکس کر لو کیا حرج ہے….؟ اس نے سر نفی میں بلا دیا اور رونے لگی۔

میں نے اصرار کیا تو بولی۔

” میں ان سے ڈسکس نہیں کروں گی، کبھی نہیں۔ میں آپ کو سب کچھ بتادوں گی، لیکن

تمہیں پڑا ہے امارہ، میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں…؟

یہی تو مصیبت ہے “۔ وہ چلائی ۔ پھر ہچکیاں لینے لگی۔ کچھ دیر کے بعد سنبھل کر بولی

” میں نے بہت مرتبہ چاہا تمہیں سب کچھ بتادوں، مگر، مگر ہمت نہ پڑی۔

تو اب بتا دو“ میں نے کہا۔

یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے”۔ وہ بولی” اس کی وجہ

ایک خواب ہے“۔

خواب ….؟”۔

“ہاں” وہ بولی ” ایک منحوس خواب جو مسلسل دیکھ رہی ہوں۔ میں نے کبھی کوئی اور خواب نہیں دیکھا۔ وہ بولی صرف یہی ایک خواب بار بار یہی ایک خواب۔ اس کی کوئی تفصیل نہیں بدلتی۔ پہلے یہ خواب میں تقریباً تین مہینے کے بعد دیکھتی تھی ، پھر ہر مہینے دیکھنے لگی اور اب شادی کے بعد ہفتے میں ایک یا دو بار دیکھتی ہوں“۔

تو کیا شادی سے پہلے بھی دیکھتی تھیں ؟میں نے پوچھا۔

”ہاں“ وہ بولی۔ ” تمین سال شادی سے پہلے اور اب دو سال شادی کے بعد بھی “۔ وہ کچھ ساعت کے لیے خاموش ہو گئی ، پھر بولی ” جب میں نے پہلی دفعہ یہ گھر دیکھا تھا تو میں حیران رہ گئی تھی۔ وہی بیڈ روم، وہی گیلری ، وہی زینہ جو ڈرائنگ روم میں اترتا ہے“۔ ” کیا مطلب ….؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔ میں اس مکان سے پوری طرح واقف تھی۔ خواب میں اسے بیسیوں مرتبہ دیکھ چکی تھی۔ تو کیا تم خواب میں یہی مکان دیکھتی رہیں ..؟”

میں نے پو چھا۔

”ہاں“ وہ بولی ” یہی مکان، یہی بیڈ، یہی گیلری

اور یہی زینہ“۔

مگر خواب میں تم دیکھتی کیا ہو….؟

میں نے پو چھا۔

دیکھتی  ہوں کہ میں اس پلنگ پر لیٹی ہوئی ہوں۔ پہلے میرے سامنے ایک بڑی سی سختی آجاتی ہے جس پر مونے حروف میں نام لکھا ہوتا ہے “افضل” پھر ایک ڈراؤنی آواز سنائی دیتی ہے ” نہیں ” ایک ہاتھ ابھرتا ہے اور اس تختی پر کوچی پھیر دیتا ہے“۔ افضل مٹ جاتا ہے اور اس کی جگہ فاضل لکھا جاتا ہے۔ پھر وہی ڈراؤنی آواز کہتی ہے “فاضل، فاضل” پھر میں ڈر کر اٹھ بیختی ہوں۔ نہیں نہیں”۔ وہ بولی میں جاگتی نہیں، خواب میں اٹھ بیٹتی ہوں۔ دیکھتی ہوں تم پانگ پر موجود نہیں۔ پھر نیچے ڈرائنگ روم سے تمہاری آواز سنائی دیتی ہے اور میں اٹھ کر گیلری سے گزر کر زینہ اترتی ہوں۔ تم ڈرائنگ روم میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہو۔ پھر میں چیخ کر تمہیں آواز دیتی ہوں لیکن میرے منہ سے تمہارے نام کے بجائے “فاضل “ نکل جاتا ہے۔ اس پر تمہارے دوستوں میں سے ایک اجنبی اٹھ۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مئی 2019

Loading