جن زاد
تحریر: دیور بھابی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ جن زاد۔۔۔ تحریر: دیور بھابی)زمانوں کی بے رحم خاک چھاننے اور لامتناہی مسافتوں کی تھکن سمیٹنے کے بعد، میں نے آخر کار یہ فیصلہ کیا کہ اب سائے کی بے نام بستی سے نکل کر مٹی کے کسی جیوندے ٹھکانے میں قیام کیا جائے۔ میری ازلی پیاسی نظریں ایک ایسی قدیم اور شکستہ حال حویلی پر جا کر ٹھہر گئیں جو شہر کے جدید ہنگاموں سے کوسوں دور، اپنی تنہائی اور ویرانی پر کسی بیوہ کی طرح نوحہ کناں تھی.
اس حویلی کے ایک ایک در و دیوار سے کسی بھولی بسری داستان کی سڑاند اور ماضی کے گمشدہ لمحات کی خوشبو آتی تھی، اور اس کی بوسیدہ اینٹوں کے سکون میں ایک ایسی مقناطیسی کشش تھی جو مجھ جیسے آوارہ روح کے لیے کسی مقتل سے کم نہ تھی۔ میں نے اس حویلی کے اس سب سے تاریک اور وحشت ناک گوشے کو اپنا ابدی مسکن بنایا جہاں یادوں کے نوکیلے سائے اور رات کی مہیب خاموشی آپس میں سرگوشیاں کرتے تھے، اور جہاں روشنی قدم رکھتے ہوئے بھی اپنی فنا کا خوف محسوس کرتی تھی۔
اس عالی شان مگر اجڑی ہوئی حویلی کے مکینوں میں ایک متوسط درجے کا خاندان سانسیں لے رہا تھا، جو اس دہلا دینے والی حقیقت سے قطعی طور پر بے خبر تھا کہ ان کی بوسیدہ چھت تلے اب ایک ‘ناری وجود’ اپنی پوری تپش کے ساتھ ڈیرہ ڈال چکا ہے۔
میں دن بھر نادیدہ رہ کر، سائے کی طرح ان کی زندگیوں کے معمولات کا مشاہدہ کرتا اور انسانی رشتوں کی ان پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے کی ناکام کوشش کرتا جو صدیوں سے میرے لیے ایک معمہ رہی تھیں۔
میرے لیے یہ سب ایک تماشہ تھا، ایک ایسا کھیل جس کے کردار مٹی کے بنے ہوئے تھے، مگر اس کھیل میں ایک ایسا کردار بھی موجود تھا جس نے میری ہزاروں سال کی جمی ہوئی بے حسی اور پتھرائے ہوئے وجود کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ اس کی موجودگی کا احساس میرے آتشیں خون میں ایک ایسا ارتعاش پیدا کر رہا تھا کہ کائنات کے تمام قدیم راز اس کے ایک لمس کے سامنے ہیچ نظر آنے لگے تھے۔
وہ اس گھر کی جوان اور بے پناہ حسین بیٹی تھی، جسے گھر والے پیار سے ‘زوہا’ کہہ کر پکارتے تھے، اور اس کے حسن میں وہ فطری بانکپن اور رعنائی تھی جو کسی کتابی تعریف یا مصنوعی سنگھار کی مرہونِ منت نہ تھی۔
میں نے اسے زندگی کی پہلی بے خودی میں تب دیکھا جب وہ رات کو، جب کائنات اپنی نیند میں غرق تھی اور ستارے تھک کر چور ہو چکے تھے، صحن میں بنے غسل خانے سے تازہ غسل کر کے باہر نکلی تھی۔ آسمان پر سیاہ بادلوں کا استبداد تھا اور فضا میں مٹی کی وہ سوندھی خوشبو رچی ہوئی تھی جو برکھا کی پہلی بوند سے پیدا ہوتی ہے، مگر اس خوشبو کو زوہا کے وجود سے اٹھنے والے صندل اور عرقِ گلاب کے لمس نے ایک ناقابلِ بیان سحر انگیزی میں بدل دیا تھا۔
اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ مٹی کا یہ شاہکار ان تمام کہکشاؤں سے زیادہ تابناک ہے جن کی آغوش میں میں نے لاکھوں سال گزارے تھے، اور میرا ناری غرور اس کے پاؤں کی دھول بننے کو بے تاب تھا۔
وہ اپنے کمرے کی دہلیز پر کھڑی، نیم وا آنکھوں کے ساتھ اپنے گیلے بالوں کو تولیے کی ضربوں سے جھٹک رہی تھی، اور اس کے بال کسی جادوئی داستان کی طوالت لیے اس کی مخروطی کمر پر کالے ناگوں کی طرح بل کھا رہے تھے۔
پانی کی چھوٹی چھوٹی شفاف بوندیں اس کے منور اور تیکھے نقش و نگار والے چہرے سے ڈھلک کر، جو چودھویں کے کامل چاند کی مانند اندھیرے میں اپنی ضیا بکھیر رہا تھا، اس کی صراحی دار گردن کے نشیب و فراز میں پناہ لے رہی تھیں۔
اس کی بڑی بڑی مخمور اور گہری آنکھیں، جن میں نیند کا ایک لطیف سا خمار اور بیداری کی ایک عجیب سی بے چینی تھی، رات کے اندھیرے میں دو روشن ستاروں کی طرح چمکتی ہوئی میرے دل کے پار اتر رہی تھیں۔ اس کے حسن کی حدت میری اپنی آتشیں فطرت سے کہیں زیادہ تیز تھی، ایک ایسی تپش جو جلاتی نہیں تھی بلکہ روح کو پگھلا کر ایک نئی صورت میں ڈھالنے کی قوت رکھتی تھی۔
اس نے ایک گہرا اور طویل سانس لیا، جیسے وہ کائنات کی تمام آکسیجن اپنے اندر سمو لینا چاہتی ہو، اور اپنے بھیگے ہوئے ریشمی بالوں کو شانوں پر پھیلا کر رات کی خنک اور شرارتی ہوا کے حوالے کر دیا۔ اس کے گلابی لبوں پر ایک بے ساختہ اور معصوم سی مسکراہٹ رقص کرنے لگی، مگر بالکل اسی لمحے، جیسے کسی غیبی طاقت نے اسے چونکا دیا ہو، اسے شدت سے محسوس ہوا کہ کوئی نادیدہ وجود اسے دیکھ رہا ہے۔
میں سائے کی صورت چھپا اس کے سراپے کا طواف کر رہا تھا اور اس کی ایک ایک جنبش کو اپنی یادداشت کے نقشے پر ثبت کر رہا تھا۔
میرا ازلی ناری جوہر، جو کبھی کائنات کے بڑے بڑے جابروں کے سامنے نہیں جھکا تھا، آج اس مٹی کے حسین بت کے سامنے اپنی تمام تر ہیبت اور حدت کھو کر ایک گداگر کی طرح کھڑا تھا۔
زوہا یکدم تھٹھک کر رہ گئی، اور اس کے لبوں پر کھیلتی ہوئی وہ معصوم مسکراہٹ لمحوں میں ایک ہولناک خوف میں تبدیل ہونے لگی، جس نے اس کے چہرے کی رنگت اڑا دی۔ اس نے گھبرا کر اپنے اردگرد کی تاریکی میں نظریں دوڑائیں۔
اس کے دودھیا جسم میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی اور اس کا وہ چہرہ جو ابھی تھڑی دیر پہلے دمک رہا تھا، اب کسی انجانے خوف سے زرد پڑنے لگا، جیسے خون نے گردش کرنا چھوڑ دیا ہو۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کا دل کسی قفس میں قید خوفزدہ پرندے کی طرح پاگل پن کی حد تک دھڑک رہا ہے، اور وہ دھڑکن میرے اپنے وجود کے ارتعاش میں شامل ہو کر ایک خوفناک موسیقی تخلیق کر رہی تھی۔
میں ایک شدید تذبذب اور کرب کی کیفیت میں مبتلا ہو گیا، میرے بڑھتے ہوئے قدم وہیں ساکت ہو گئے جہاں وہ اسے چھونے کی تمنا لیے بے تاب تھے۔ میں نے سوچا کہ اگر میں نے اس وقت اپنی موجودگی کا ذرہ برابر بھی مزید احساس دلایا، تو اس کا یہ نازک انسانی دل خوف کے اس بے رحم بوجھ کو سہار نہیں پائے گا اور وہ وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑے گی۔
وہ مٹی کی ایک معصوم اور نازک سی تخلیق تھی اور میں کائنات کا ایک ہولناک اور قدیم ترین راز؛ میرا تھوڑا سا قرب بھی اسے جلا کر راکھ تو نہ کرتا مگر اس کی روح کو عمر بھر کے لیے زخمی کر سکتا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنے جادو کے پھیلتے ہوئے اثرات کو سمیٹا اور اس کی سماعتوں کے پردوں پر چھائی ہوئی اپنی ناری سرسراہٹ کو آہستہ آہستہ مدہم کر دیا، تاکہ وہ دوبارہ سکون کا سانس لے سکے۔
وہ کسی ہرنی کی طرح چوکڑی بھرتی ہوئی تیزی سے اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور لرزتے ہاتھوں سے دروازہ اندر سے بند کر کے اس سے پشت لگا کر کھڑی ہو گئی۔
وہ آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور لمبی لمبی، اکھڑی ہوئی سانسیں لینے لگی، جبکہ اس کے گیلے بال اب اس کے لرزتے ہوئے سفید شانوں پر بکھرے ہوئے ایک ماتمی منظر پیش کر رہے تھے۔
اس نے آئینے میں اپنے عکس کے پیچھے چھپے کسی موہوم سائے کو ڈھونڈنے کی دیوانہ وار کوشش کی، مگر وہاں سوائے تاریکی کے کچھ نہ تھا، جو اسے مزید ڈرا رہی تھی۔ اس نے اپنے سر کو زور سے جھٹک دیا اور ہانپتے ہوئے خود سے سرگوشی کی، “زوہا، تم پاگل ہو رہی ہو، یہ سب تمہارا وہم ہے، اس منحوس اور پرانی حویلی میں تو ہوا کا ایک معمولی جھونکا بھی کسی سائے کی طرح پیچھا کرتا محسوس ہوتا ہے۔”
اس نے وہم اور اتفاق کا سہارا لے کر اپنے لرزتے ہوئے دل کو جھوٹی تسلی تو دے لی، مگر اس کے ماتھے پر ابھر آنے والی پسینے کی ٹھنڈی بوندیں چیخ چیخ کر بتا رہی تھیں کہ وہ اندر سے پوری طرح ٹوٹ چکی اور لرز چکی ہے۔
وہ بستر پر لیٹ گئی اور کمبل اپنے سر تک تان لیا، مگر اس کی آنکھیں بار بار کمبل کی اوٹ سے کمرے کے ان تاریک گوشوں کی طرف اٹھتی رہیں جہاں اندھیرا کچھ زیادہ ہی گہرا اور پراسرار تھا۔
میں حویلی کی بلند ترین چھت پر بیٹھا، ستاروں کی بدلتی ہوئی چال کا مشاہدہ کرتا رہا میرا بڑھتا ہوا جنون اور اس کا لافانی حسن، دونوں ایک دوسرے کی سمت اتنی تیزی سے کھینچ رہے تھے کہ یہ کشش کسی بڑے کائناتی طوفان کا پیش خیمہ بننے والی تھی۔
رات اپنی تمام تر سنگینیوں کے ساتھ بیت گئی، مگر میرے وجود میں لگی وہ آگ اب ایک نئی تڑپ میں ڈھل چکی تھی جو صدیوں کی ریاضت پر بھاری تھی۔
جب سورج کی پہلی کرن نے حویلی کے شکستہ کنگروں کو چھوا، تو میں نے خود کو ایک نادیدہ سائے کی صورت دیواروں میں جذب کر لیا، مگر میری روح اسی کمرے کے گرد طواف کرتی رہی جہاں زوہا اپنی ادھوری نیند کے خواب بن رہی تھی۔ دن کی روشنی میں انسانی بستی کے ہنگامے میرے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھے، مگر اس بار ان ہنگاموں کے پیچھے ایک ایسی کشش تھی جس نے مجھے ہجرت کے تمام خیالوں سے دستبردار کر دیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس لڑکی کے وجود سے اٹھنے والی معصومیت کی مہک اب میرے ناری جوہر کا حصہ بنتی جا رہی ہے، اور میں جو کائنات کا شہنشاہ تھا، اب اس مٹی کی زادِ راہ کا اسیر ہو چکا تھا۔
زوہا جب بیدار ہوئی تو اس کے چہرے پر رات کے خوف کی ہلکی سی پرچھائیں اب بھی موجود تھی، مگر دن کے اجالے نے اس کے وہم کو ایک عارضی پناہ گاہ فراہم کر دی تھی۔ وہ سارا دن گھر کے کام کاج میں مصروف رہی، کبھی باورچی خانے میں برتنوں کی صدا بن کر گونجتی تو کبھی صحن میں لگے پودوں کو پانی دیتے ہوئے خود کسی کھلتی ہوئی کلی کی طرح مسکراتی۔ میں نے دیکھا کہ اس کی ہنسی میں وہ کھنک تھی جو ستاروں کے ٹوٹنے کی آواز سے بھی زیادہ سحر انگیز تھی، اور اس کی ہر جنبش میرے اندر ایک عجیب سا ہیجان پیدا کر رہی تھی۔
میں دیواروں کے پیچھے سے اسے تکتا رہا، اور ہر بار جب وہ میرے قریب سے گزرتی، میرا وجود اس کی تپش کو محسوس کر کے پگھلنے لگتا۔ میری طاقت، میرا جاہ و جلال، اور میرا وہ غرور جو عرشِ بریں تک پھیلا ہوا تھا، اب اس ایک لڑکی کے قدموں کی چاپ میں سمٹ کر رہ گیا تھا۔
شام کے سائے گہرے ہوتے ہی حویلی کی فضا میں ایک عجیب سی بوجھل خاموشی چھانے لگی، جیسے دیواریں بھی کسی آنے والے حادثے کی منتظر ہوں۔ زوہا کے گھر والے اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے، مگر زوہا آج پھر صحن میں بنے اسی پرانے چبوترے پر آ بیٹھی جہاں سے آسمان کی وسعتیں صاف نظر آتی تھیں۔
ٹھنڈی ہوا اس کے دوپٹے سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی اور وہ خاموشی سے ان تاروں کو تک رہی تھی جن کے ساتھ میرا ازلی رشتہ تھا۔ میں نے چاہا کہ میں اس کے سامنے ایک انسان کے روپ میں آ جاؤں، اسے وہ سب بتاؤں جو میں نے لاکھوں سالوں میں دیکھا ہے، اسے دکھاؤں کہ کائنات کے سینے میں کتنے راز دفن ہیں، مگر میری جبلت نے مجھے پھر روک دیا۔ میں جانتا تھا کہ میرا اظہار اس کے لیے زندگی کی آخری سسکی بھی ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ مٹی اور آگ کا ملاپ صرف تباہی لاتا ہے۔
زوہا نے اچانک ایک لمبی آہ بھری اور اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو ایسے دیکھنے لگی جیسے وہ اپنی تقدیر کا لکھا پڑھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اس لمحے اس کی آنکھوں میں وہ ویرانی تھی جس نے میرے اندر کے ‘جن زاد’ کو تڑپا کر رکھ دیا۔ میں نے اپنے جادو سے فضا میں ایک مدھر اور لطیف سی موسیقی بکھیر دی، ایک ایسی دھن جو انسانی کانوں نے کبھی نہیں سنی تھی، جو صرف روح کے تاروں کو چھیڑتی تھی۔ زوہا چونک کر سیدھی بیٹھ گئی، اس کے کانوں میں گونجتی وہ آواز اسے کسی دوسری دنیا کی پکار محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے بے اختیار ادھر ادھر دیکھا، مگر اس بار اس کی آنکھوں میں خوف نہیں بلکہ ایک عجیب سی وارفتگی اور جستجو تھی۔ وہ اس آواز کے سحر میں ایسی گرفتار ہوئی کہ اسے اپنے تن بدن کا ہوش نہ رہا، اور وہ قدم بہ قدم اس تاریک گوشے کی طرف بڑھنے لگی جہاں میں ایک سائے کی صورت اس کا منتظر تھا۔
جیسے جیسے وہ میرے قریب آ رہی تھی، میرے وجود کی حدت بڑھتی جا رہی تھی اور میرے گرد موجود ہوا کسی آتش فشاں کی طرح دہکنے لگی تھی۔ جب وہ اس سیاہ دیوار کے بالکل قریب پہنچی جہاں میں چھپا ہوا تھا، تو وہ یکدم رک گئی۔ ہماری سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرانے لگی تھیں؛ اس کی سانسوں میں مٹی کی سوندھی مہک تھی اور میری سانسوں میں آگ کی تپش۔ اس نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے اس اندھیرے کو چھونے کی کوشش کی جہاں میں موجود تھا، اور جیسے ہی اس کی انگلیاں میری ناری لہروں سے مس ہوئیں، میں اس کے سامنے اپنا آپ ظاہر کرنے ہی والا تھا، حویلی کے بڑے دروازے پر ایک زوردار دستک ہوئی جس نے اس سحر کو لمحوں میں چکنا چور کر دیا۔
![]()

