Daily Roshni News

۔۔۔۔۔۔۔ قبول اسلام ۔۔۔۔۔۔۔ سبق آموز داستان

عباس بن عبد المطلبؓ: وہ قیدی جس کا دل پہلے ہی آزاد ہو چکا تھا، قبول اسلام کی داستان
تاریخِ اسلام کے اوراق میں جنگِ بدر محض ایک معرکہ نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر تھی جس نے بھائی کو بھائی سے اور باپ کو بیٹے سے جدا کر دیا تھا۔ لیکن اسی معرکے کے پسِ منظر میں ایک ایسی داستانِ محبت بھی پوشیدہ ہے جو جبر کے پہروں میں بھی دھڑکتی رہی۔ یہ داستان ہے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی، جو جسمانی طور پر مشرکین کی صفوں میں تھے، مگر جن کی روح سجدہ گزاری کے لیے بے چین تھی
حضرت عباس بن عبد المطلبؓ، اللہ کے نبی ﷺ کے چچا، مکہ کے ان بااثر لوگوں میں سے تھے جنہیں قریش نے اپنی انا کی خاطر زبردستی میدانِ جنگ میں لاکھڑا کیا تھا۔ وہ اپنے بھتیجے کی دشمنی میں نہیں، بلکہ قریش کے دباؤ اور سماجی رعب کی وجہ سے نکلے تھے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب دل میں ایمان کی شمع روشن ہو جائے، تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بجھا نہیں سکتی۔
میدانِ بدر میں جب تلواریں میان سے باہر تھیں، تب رحمتِ عالم ﷺ نے ایک عجیب و غریب حکم صادر فرمایا۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا:
“جس کسی کا سامنا عباس سے ہو، وہ انہیں قتل نہ کرے۔ وہ (جنگ کے لیے) اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مجبوراً لائے گئے ہیں۔”
یہ جملہ محض ایک رشتہ دار کی حمایت نہیں تھی، بلکہ یہ اس بصیرت کا ثبوت تھا جو جانتے تھے کہ ان کے چچا کے سینے میں اسلام کی تڑپ موجود ہے۔
جنگ ختم ہوئی، مشرکین کو شکست فاش ہوئی اور حضرت عباسؓ قیدی بنا کر لائے گئے۔ جب فدیہ دینے کا وقت آیا، تو ایک ایمان افروز مکالمہ ہوا:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اے عباس! اپنا، اپنے بھتیجوں اور اپنے حلیفوں کا فدیہ ادا کرو اور اپنی جان چھڑاؤ۔”
حضرت عباسؓ نے عرض کیا: “اے محمد (ﷺ)! میں تو دل سے مسلمان تھا، مجھے زبردستی لایا گیا تھا۔”(مسند احمد بن حنبل
آپ ﷺ نے جواباً فرمایا: “تمہارے اسلام کا حال اللہ بہتر جانتا ہے، لیکن ظاہری طور پر تم ہمارے خلاف لڑنے آئے تھے، اس لیے فدیہ تو دینا پڑے گا۔”
جب حضرت عباسؓ نے معذرت چاہی کہ ان کے پاس مال نہیں ہے، تو نبوی لبوں پر ایک مسکراہٹ آئی اور آپ ﷺ نے وہ راز فاش کیا جو زمین پر کوئی نہیں جانتا تھا:
“وہ مال کہاں ہے جو تم نے اور ام الفضل (آپ کی زوجہ) نے مکہ سے نکلتے وقت زمین میں دفن کیا تھا؟ اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں مرا تو یہ مال میرے بچوں کا ہوگا؟”
حضرت عباسؓ یہ سن کر دہل گئے۔ ان کی زبان سے بے اختیار نکلا:
“اللہ کی قسم! میرے اور ام الفضل کے سوا اس بات کا علم کسی تیسرے شخص کو نہیں تھا۔ اب مجھے پورا یقین ہو گیا ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں!”
اس واقعے نے حضرت عباسؓ کے باطنی ایمان کو زبان عطا کر دی۔ آپؓ مکہ لوٹے، پھر ہجرت کی اور اسلام کے وہ ستون بنے جن پر پوری امت کو ناز تھا۔ صحابہ کرامؓ ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ فرمایا کرتے تھے:
“عباس رسول اللہ ﷺ کے چچا ہیں، اور کسی بھی شخص کا چچا اس کے باپ کی طرح معزز ہوتا ہے۔”
خود حضور ﷺ اپنی محبت کا اظہار یوں فرماتے:
“عباس میرے آباء و اجداد کی بچی ہوئی نشانی ہیں۔”
حضرت عباس بن عبد المطلبؓ کی زندگی کا یہ باب ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ ظاہری صفوں کو نہیں، بلکہ دلوں کے ارادوں کو دیکھتا ہے۔ وہ بدر میں مشرکین کی جانب سے کھڑے تو تھے، لیکن قدرت نے انہیں قتل ہونے سے بچایا تاکہ وہ اسلام کی خدمت کے لیے محفوظ رہیں۔
یہ قصہ ایک ایسے دل کی فتح ہے جو زنجیروں میں جکڑے جانے سے پہلے ہی سجدہ ریز ہو چکا تھا۔ اللہ ہمیں بھی حضرت عباسؓ جیسی پختہ محبت اور ایمان کی حلاوت عطا فرمائے۔
تحریر کو شیئر کریں تاکہ تاریخ کے یہ سنہری اوراق نئی نسل کے دلوں کو بھی روشن کر سکیں۔
السيرة النبوية لابن هشام: (جلد 2، صفحہ 272)۔
المستدرك على الصحيحين للحاكم: (کتاب معرفة الصحابة، حدیث نمبر 5406)۔
البداية والنهاية لابن كثير:
مسند احمد بن حنبل،دلائل النبوة للبيهقي:
#MoralLessons #MoralStory #viralphotochallen#MoralLessons #MoralStory #viralphotochallen#morning#MoralLessons #MoralStory #viralphotochallen#MoralLessons #MoralStory #viralphotochallen#morning#morasge
مزید اس طرح کے سبق آموز اور دلچسپ واقعات کے لئے ہمارا فیس بک پیج Moral Lessons سبق آموز کہانیاں کریں .

Loading