کیا چاند کی روشنی اپنی ہے یا منعکس کردہ؟ قرآن، جدید سائنس اور اعتراض کا تفصیلی جواب
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)رات کے پُراسرار سناٹے میں جب ہم آسمان کی طرف نظر اٹھاتے ہیں، تو چاندی جیسا چاند اپنی نرم اور پُرسکون روشنی سے پوری زمین کو منور کر دیتا ہے۔ صدیوں تک انسانی آنکھ اسے چاند کی اپنی روشنی سمجھتی رہی، لیکن جوں جوں انسانی شعور نے ترقی کی اور علم کے افق روشن ہوئے، یہ حقیقت سامنے آئی کہ چاند کی یہ دلکش چمک اس کی اپنی نہیں، بلکہ سورج کے فیض کا ایک ادنیٰ سا عکس ہے۔
آج کے اس مقالے میں ہم اس موضوع کا تین مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیں گے: سائنسی حقیقت، قرآنی بلاغت، اور وہ مشہور اعتراض جو اکثر ملحدین یا کم علم لوگ اس ضمن میں اٹھاتے ہیں۔
-
سائنسی حقیقت: سورج کا چراغ اور چاند کا آئینہ
جدید علمِ فلکیات کے مطابق، سورج ایک دہکتا ہوا ستارہ ہے جس کے مرکز میں Nuclear Fusion (ایٹمی ملاپ) کا ایک عظیم عمل جاری رہتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں بے پناہ توانائی، حرارت اور روشنی پیدا ہوتی ہے۔ سورج کائنات میں روشنی کا ایک “خودکار منبع” (Source) ہے، یعنی وہ اپنی روشنی خود پیدا کرتا ہے۔
اس کے برعکس، چاند ایک ٹھوس اور پتھریلا جسم ہے جس کا اپنا کوئی روشنی پیدا کرنے والا نظام موجود نہیں۔ چاند کی سطح دراصل سیاہ کوئلے جیسی گہری ہے، لیکن یہ ایک عظیم الشان آئینے کی طرح کام کرتا ہے۔ جب سورج کی تیز شعاعیں چاند کی سطح پر پڑتی ہیں، تو چاند ان شعاعوں کو جذب کرنے کے بجائے انہیں پلٹا دیتا ہے۔ اسے سائنسی اصطلاح میں Reflection (انعکاس) کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ روشنی براہِ راست نہیں ہوتی بلکہ ٹکرا کر آتی ہے، اس لیے اس میں تپش اور جلن نہیں ہوتی بلکہ ایک لطیف ٹھنڈک ہوتی ہے۔
چاند کی مختلف شکلیں (Lunar Phases)، یعنی ہلال سے لے کر چودھویں کے چاند تک کا سفر، اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ہمیں چاند کا صرف وہی حصہ روشن نظر آتا ہے جس پر سورج کی روشنی پڑ رہی ہوتی ہے۔ اگر چاند کی اپنی روشنی ہوتی، تو وہ ہمیشہ ایک مکمل روشن گیند کی طرح نظر آتا اور کبھی چھوٹا یا بڑا نہ ہوتا۔
-
خسوفِ قمر (چاند گرہن) کی درست سائنسی وضاحت
چاند کی روشنی کے مستعار (ادھار) ہونے کی سب سے بڑی حسی دلیل “خسوفِ قمر” یا چاند گرہن ہے۔ یہ عمل تب وقوع پذیر ہوتا ہے جب زمین اپنی گردش کے دوران سورج اور چاند کے عین درمیان میں آ جاتی ہے۔
اس پوزیشن میں زمین، سورج سے آنے والی روشنی کے لیے ایک رکاوٹ بن جاتی ہے اور زمین کا سایہ چاند پر پڑنے لگتا ہے۔ چونکہ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی، اس لیے جیسے ہی زمین کا سایہ اس پر پڑتا ہے، وہ تاریک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر چاند کا اپنا کوئی پاور ہاؤس یا ذاتی روشنی ہوتی، تو زمین کے درمیان میں آنے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے تھا اور وہ زمین کے سائے میں بھی چمکتا رہتا۔ چاند کا اس طرح بے نور ہو جانا ثابت کرتا ہے کہ اس کی روشنی کا مکمل دارومدار سورج کی فراہمی پر ہے۔
-
قرآنِ کریم کا معجزانہ بیان
قرآنِ کریم نے 1,400 سال پہلے اس سائنسی باریکی کو نہایت فصیح الفاظ میں بیان کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا” (سورۃ الفرقان: 61)
“بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور ان میں ایک چراغ (سورج) رکھا اور ایک روشن کرنے والا چاند بنایا۔”
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سورج کے لیے “سراج” (چراغ) کا لفظ استعمال کیا، جبکہ چاند کے لیے “منیر” (روشن کرنے والا) کا۔ عربی زبان میں سراج اس چیز کو کہتے ہیں جس کی اپنی آگ اور اپنی روشنی ہو، جیسے چراغ یا موم بتی۔ جبکہ “منیر” اس چیز کو کہا جاتا ہے جو دوسروں کو روشن کرے، چاہے وہ روشنی اس کی اپنی ہو یا کسی سے لے کر منعکس کی گئی ہو۔
ایک اور مقام پر سورج کو “ضیاء” اور چاند کو “نور” کہا گیا (سورۃ یونس: 5)۔ لغتِ عرب کے مطابق “ضیاء” میں شدت اور تپش کا عنصر ہوتا ہے، جبکہ “نور” میں نرمی اور سکون ہوتا ہے۔ یہ الفاظ کا انتخاب ہی بتاتا ہے کہ قرآن کا خالق ان دونوں اجسام کی حقیقت سے بخوبی واقف تھا۔
-
ایک اہم اعتراض کا علمی جواب
کچھ لوگ ایک اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر “نور” کا مطلب منعکس شدہ یا ادھار لی ہوئی روشنی ہے، تو پھر قرآن میں اللہ تعالیٰ کے لیے “نور السموات والارض” (اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے) کیوں کہا گیا؟ (نعوذ باللہ) کیا اللہ کا نور بھی کہیں سے منعکس شدہ ہے؟
یہ اعتراض دراصل لفظ کے مختلف پہلوؤں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ عربی زبان میں “نور” کے دو بنیادی معنی ہیں:
مادی نور (Physical Light): جب چاند کے لیے نور کا لفظ آتا ہے، تو وہاں مراد وہ مادی روشنی ہے جسے ہماری آنکھ دیکھتی ہے، جو کہ فزکس کے قوانین کے تحت “منعکس” ہوتی ہے۔
ذاتی و صفاتی نور (Divine Light): جب اللہ کے لیے “نور” کا لفظ آتا ہے، تو اس سے مراد وہ ہستی ہے جس کے وجود سے پوری کائنات منور ہے۔ اللہ کسی روشنی کا نام نہیں، بلکہ وہ “منور” (روشن کرنے والا) ہے۔
اللہ تعالیٰ کے لیے جب “نور” کا لفظ استعمال ہوتا ہے، تو مفسرین (جیسے امام غزالی اور امام رازی) فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب “منور” (روشن کرنے والا) ہے۔ یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے عدم کے اندھیروں سے نکال کر پوری کائنات کو وجود کی روشنی بخشی۔ اللہ کا نور “ذاتی” ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ چاند کو “نور” اس لیے کہا گیا کہ وہ رات کے اندھیرے میں ہمارے لیے راستوں کو ظاہر کر دیتا ہے، چاہے وہ روشنی سورج سے ہی کیوں نہ لے رہا ہو۔
اسے ایک سادہ مثال سے سمجھیں۔ ہم کہتے ہیں کہ “استاد علم کا نور ہے”۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ استاد کے اندر سے کوئی شعاعیں نکل رہی ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ استاد کی دی ہوئی تعلیم سے ہمارے ذہن کے اندھیرے دور ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم محاورتاً کہتے ہیں کہ “علم کی روشنی”۔ کیا علم سے کوئی بلب جلتا ہے؟ نہیں۔ یہاں روشنی سے مراد “ہدایت اور سمجھ” ہے، چاند مادی طور پر اندھیرے دور کرتا ہے اور اللہ اپنی قدرت اور ہدایت سے کائنات کے اندھیرے دور فرماتا ہے۔
حاصلِ کلام
مختصر یہ کہ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہے، یہ ایک سائنسی حقیقت ہے جس کی تصدیق چاند کے گھٹنے بڑھنے اور چاند گرہن کے مشاہدات سے ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم نے سورج اور چاند کے لیے الگ الگ اصطلاحات استعمال کر کے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا جس تک سائنس صدیوں بعد پہنچی۔ جہاں تک اللہ کے نور کا تعلق ہے، وہ خالق کی صفت ہے جو مادی روشنی کے قوانین سے بالاتر ہے۔
یہ کائنات اللہ کی قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے، جہاں سورج ایک بادشاہ کی طرح روشنی بانٹ رہا ہے اور چاند ایک وفادار آئینے کی طرح اس روشنی کو ہم تک پہنچا رہا ہے۔ عقل والوں کے لیے ان نشانیوں میں غور و فکر کے بہت سے سامان موجود ہیں۔
📚 حوالہ جات:
قرآنِ کریم: سورۃ الفرقان (آیت 61)، سورۃ یونس (آیت 5)، سورۃ النور (آیت 35)۔
تفسیر ابن کثیر: چاند اور سورج کی روشنی کی بحث۔
مشکاۃ الانوار: امام غزالی (رح) — نور کی حقیقت پر بحث۔
فلکیاتی تحقیق: ناسا (NASA) اور عالمی خلائی اداروں کے مشاہدات۔
#چاند #قرآن #سائنس #نور #اعتراض_کا_جواب #اسلام_اور_سائنس #Moon #Quran #Science #Reflection #IslamicKnowledge
![]()

