Daily Roshni News

✨ نجومی، سلطان اور تقدیر کا راز ✨

✨ نجومی، سلطان اور تقدیر کا راز ✨

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک نجومی تھا جو لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر ان کی موت کا وقت بتایا کرتا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ جس وقت کا وہ اعلان کرتا، اکثر عین اسی وقت وہ شخص مر جاتا۔ آہستہ آہستہ اس کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی۔ امیر ہو یا غریب، سب اس کے پاس آتے اور کانپتے دل کے ساتھ اپنا ہاتھ اس کے سامنے رکھ دیتے۔

جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو اس کے دل میں بھی ہلکا سا خوف پیدا ہوا، حالانکہ وہ نہایت بہادر اور عقل مند حکمران تھا۔ اس نے فوراً حکم دیا کہ نجومی کو محل میں حاضر کیا جائے۔

نجومی دربار میں حاضر ہوا تو اس کے چہرے پر نہ خوف تھا نہ گھبراہٹ، جیسے وہ سب کچھ پہلے ہی جانتا ہو۔

سلطان نے پوچھا:

“کیا تو ہاتھ دیکھ کر موت کا وقت بتا سکتا ہے؟”

نجومی نے سر جھکا کر کہا:

“اگر اللہ نے چاہا تو میں وہی بتاتا ہوں جو مجھے نظر آتا ہے۔”

سلطان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ نجومی نے غور سے ہاتھ دیکھا، چند لمحے خاموش رہا، پھر سنجیدہ لہجے میں بولا:

“حضور، کل شام سورج غروب ہونے سے پہلے آپ کی موت ہو جائے گی۔”

یہ سنتے ہی دربار میں سناٹا چھا گیا۔ وزیر، امیر، سپاہی سب کے چہروں کا رنگ اڑ گیا، مگر سلطان نے اپنے چہرے پر سختی طاری رکھی اور نجومی کو جانے کا اشارہ کر دیا۔

رات بھر سلطان کو نیند نہ آئی۔ کبھی تلوار کو دیکھتا، کبھی تخت کو، کبھی محل کی بلند دیواروں کو۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ طاقت، دولت اور اقتدار بھی موت کے سامنے بے بس ہیں۔

صبح ہوئی تو سلطان شدید بے چینی میں مبتلا تھا۔ وہ بار بار اپنے ہاتھ کو دیکھتا، جیسے موت کی لکیر ابھرتی محسوس ہو رہی ہو۔ اچانک اسے بدن میں ایک سرد لہر دوڑتی محسوس ہوئی۔

اس نے فوراً حکم دیا کہ نجومی کو دوبارہ بلایا جائے۔

نجومی حاضر ہوا تو سلطان نے سخت لہجے میں کہا:

“کل شام کا وقت ابھی آیا نہیں، مگر مجھے عجیب کیفیت محسوس ہو رہی ہے۔ سچ بتا، کیا میری موت قریب ہے؟”

نجومی نے جواب دیا:

“حضور، موت کا وقت نہیں بدلتا، صرف انسان کا دل کمزور پڑ جاتا ہے۔”

سلطان کچھ لمحے خاموش رہا، پھر اچانک بولا:

“اچھا یہ بتا… تیری موت کب ہے؟”

یہ سوال سن کر نجومی چونک گیا۔ اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ نظریں جھکا کر آہستہ بولا:

“حضور… میری موت آپ کی موت سے ایک دن بعد ہے۔”

یہ سنتے ہی سلطان کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے بلند آواز میں حکم دیا:

“سپاہیو! اسے فوراً قید خانے میں ڈال دو اور آج ہی سزائے موت دے دو!”

نجومی چیخ اٹھا:

“حضور! یہ کیا کر رہے ہیں؟ میری موت تو آپ سے بعد ہے!”

سلطان نے ٹھنڈے لہجے میں کہا:

“اسی لیے تجھے آج مرنا ہوگا، تاکہ کل میری موت کا وقت جھوٹا ثابت ہو جائے۔”

نجومی کو گھسیٹ کر لے جایا گیا اور اسی دن قتل کر دیا گیا۔

شام ڈھل گئی… رات گزر گئی… اگلا دن بھی گزر گیا…

سلطان زندہ تھا، سلامت تھا، اور تخت پر بیٹھا تھا۔

دربار میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سب نے سمجھا کہ سلطان نے تقدیر کو شکست دے دی۔

مگر سلطان کے دل میں عجیب سی بے چینی باقی تھی۔ اس نے سب کو رخصت کیا اور تنہائی میں بیٹھ گیا۔

اچانک اس کے سینے میں شدید درد اٹھا۔ وہ تخت سے اٹھنے ہی والا تھا کہ قدم لڑکھڑا گئے۔ ہونٹوں سے صرف ایک لفظ نکلا:

“اللہ…”

اور وہ زمین پر گر پڑا۔

جب حکیم آئے تو سلطان دم توڑ چکا تھا۔

اس دن سب کو حقیقت سمجھ آ گئی کہ نہ نجومی موت کا مالک ہوتا ہے، نہ سلطان۔

موت نہ ہاتھ کی لکیروں میں قید ہے، نہ انسان کے اختیار میں۔

جو وقت لکھا جا چکا ہو، وہ نہ آگے ہوتا ہے نہ پیچھے۔

انسان صرف یہ گمان کرتا ہے کہ شاید وہ تقدیر بدل سکتا ہے، مگر حقیقت میں تقدیر ہی اسے چلا رہی ہوتی ہے۔

✨ سبق:

موت کا وقت صرف اللہ جانتا ہے، باقی سب دعوے محض دھوکہ ہیں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔ 🌹

#UniversalStudios #pakistanifashion #naturelovers #dudhuchak #narowalnews #storytelling #skgnew #shortsreels #ghsdudhuchak #shortdrama #lahore #Multan #Sialkot #zafarwal #Narowal #Gujranwala #islamabad #Rawalpindi #tesla #urdushayari #urduquotes #urdunovels #urdupoetry #urduadab #urdu

Loading