Daily Roshni News

ارواح کی اصلیت۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

ارواح کی اصلیت

انتخاب ۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ارواح کی اصلیت۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی)شیخ اکبر ابن عربی نے الفتوحات المکیہ (باب نمبر 52: فی معرفۃ النفس یعنی “نفس/سانس” کی معرفت) میں ارواح کی حقیقت، ان کی اصلی قوت اور بدنی تعلق کے باعث پیدا ہونے والے ضعف (کمزوری) پر نہایت گہرے نکات بیان کیے ہیں۔ آپ کے فراہم کردہ متن کی روشنی میں ان نکات کی ترتیب ذیل ہے:

۱. ارواح کی اصلیت اور فطری قوت

شیخ اکبر کے نزدیک روح اپنی اصل کے اعتبار سے قوت کا مظہر ہے:

ہوائی مشابہت: چونکہ ہوا کائنات کے طاقتور ترین عناصر میں سے ہے اور روح کی حقیقت “نفس” (سانس) ہے، اس لیے روح اپنی اصل میں ہوا کی مانند لطیف اور قوی ہے۔

منبعِ قوت (نفسِ رحمانی): روح کی اصل “نفسِ رحمانی” ہے، جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی ہے (نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ)۔ یہی وہ الٰہی پھونک ہے جو روح کو بے پناہ قوت عطا کرتی ہے۔

۲. بدن کی اثر پذیری اور رنگت (لطافت کا خاصہ)

روح اپنی لطافت کے باعث جس مادی قالب میں آتی ہے، اس کا اثر قبول کر لیتی ہے:

ہوا اور خوشبو کی مثال: جس طرح ہوا بدبودار چیز سے گزرے تو مکدر اور خوشبو سے گزرے تو معطر ہو جاتی ہے، روح بھی بدن کے اثرات قبول کرتی ہے۔

شیشے اور روشنی کی تمثیل: سورج کی روشنی (روح) جب رنگین شیشے (جسم) سے گزرتی ہے تو دیوار پر اسی رنگ (سبز یا سرخ) کی شعاع ڈالتی ہے۔ یہ رنگ روشنی کا نہیں بلکہ اس “محل” (جگہ) کا ہوتا ہے جہاں سے وہ گزری۔

۳. صحت اور بیماری (اخلاق کا ظہور)

ارواح کی پاکیزگی یا خباثت کا تعلق ان کی نشأتِ جسد (جسمانی بناوٹ) سے ہے:

اعتدالِ مزاج: اگر جسم کی تخلیق میں طبائع اور اخلاط (Humors) معتدل ہوں، تو روح “صحت مند” کہلاتی ہے اور مکارمِ اخلاق (انبیاء و اولیاء کی طرح) ظاہر کرتی ہے۔

فسادِ مزاج: اگر جسمانی اخلاط میں بگاڑ ہو، تو روح “بیمار” ہو جاتی ہے اور اس سے گھٹیا (سفساف) اخلاق اور شرک جیسے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

۴. قوت پر ضعف (کمزوری) کے غلبے کی وجہ

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ طاقتور روح پر کمزور جسم کیوں غالب آ جاتا ہے؟

قربِ جسد: روح کی اپنی پہچان (عین) اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ جسمانی مزاج کے ساتھ ملتی ہے۔ چونکہ ظہور کے وقت روح کا قریب ترین تعلق جسم سے ہوتا ہے، اس لیے جسم کا “طبیعی ضعف” روح کی “اصلی قوت” پر غالب آ جاتا ہے۔

۵. مادی لبادے کی ضرورت اور حکمت (حفاظتِ بندگی)

اللہ تعالیٰ نے روح کو ہمیشہ مادی صورت (جسم) کے ساتھ کیوں جوڑے رکھا؟

تکبر سے بچاؤ: اگر روح مادے سے مکمل مجرد (آزاد) ہو جائے، تو اس کی “الٰہی قوت” اسے اس قدر متکبر بنا دے کہ کوئی شے اس کے غرور کا مقابلہ نہ کر سکے۔

احتیاج اور فقر کا قیام: اللہ نے دنیا، برزخ، نیند اور موت حتیٰ کہ جنت و دوزخ میں بھی روح کے لیے جسم (طبیعی صورت) لازم کر دیا تاکہ روح اپنی کمزوری کو پہچانے اور ہمیشہ اللہ کی محتاج (فقیر) رہے۔

۶. غفلت اور دعویٰ ربوبیت (انا اللہ کی حقیقت)

جب روح اپنے مادی پردے کو بھول جاتی ہے، تو وہ خطا کر بیٹھتی ہے:

مقامِ الٰہی پر حملہ: جب روح اپنے “ضعف” سے غافل ہوتی ہے، تو فرعون کی طرح ربوبیت کا دعویٰ کرتی ہے یا مغلوب الحالی میں “انا اللہ” (میں اللہ ہوں) جیسے الفاظ زبان پر لاتی ہے۔

ادبِ انبیاء: رسول اور کامل اولیاء اپنی حضوری اور علمِ الٰہی کے باعث کبھی ایسے الفاظ نہیں کہتے، کیونکہ وہ اس مادی مٹی (مادہ) کے ادب اور اس کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہیں جس میں انہیں رکھا گیا ہے۔

۷. مکلف ہونے کی بنیاد

تکلیفِ شرعی: انسان کو جو احکامات (نماز، روزہ وغیرہ) دیے گئے، وہ اسی “قوتِ الٰہی” کی بنیاد پر ہیں جو روح میں موجود ہے۔ اگر یہ قوت نہ ہوتی تو انسان مکلف نہ ہوتا۔

رجوع الی الاصل: انسان کو حکم دیا گیا کہ وہ کہے ﴿إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ (ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں)۔ یہ اس لیے ہے تاکہ انسان اپنی ہر قوت کو اپنی اصل (اللہ) کی طرف منسوب کرے اور اپنی کمزوری کا اعتراف کرے۔

خلاصہ: روح اپنی ذات میں قوی اور الٰہی صفت کی حامل ہے، مگر اللہ نے اسے جسمانی ضعف کے لبادے میں اس لیے ڈھانپا ہے تاکہ وہ بندگی کے مقام پر قائم رہے اور اپنی اصل (اللہ) کی محتاج رہے۔

از فتوحات مکیہ

Loading