خاموش خدمت کا حسین انداز
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک صاحب اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ کراچی کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے۔ وہاں ان کی میز سے دو ٹیبل کے فاصلے پر ایک عمر رسیدہ بزرگ اور ان کی اہلیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔
اسی دوران ایک نہایت باوقار، خوش لباس اور خوش شکل شخص ریسٹورنٹ میں داخل ہوا۔ اس نے واش بیسن پر جا کر ہاتھ دھوئے اور ان بزرگوں کی میز کے قریب والی ٹیبل پر بیٹھ گیا۔
چونکہ میں اپنے کھانے کا آرڈر پہلے ہی دے چکا تھا، اس لیے خاموشی سے انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس شخص کے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ انہوں نے نسبتاً بلند آواز میں فون پر بات شروع کی۔ ان کے لہجے سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کوئی بہت بڑی خوشی عطا کی ہے۔
فون بند کرنے کے بعد انہوں نے بلند آواز میں وہاں موجود تمام لوگوں سے کہا:
“خواتین و حضرات! آج اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے، اور اس خوشی میں میں یہاں موجود سب کو مٹن کڑاہی کھلانا چاہتا ہوں!”
میں فوراً اٹھ کر ان کے پاس گیا، انہیں مبارک باد دی اور عرض کیا:
“بھائی! ہم تو پہلے ہی کھانے کا آرڈر دے چکے ہیں۔”
وہ مسکرائے اور بولے:
“کوئی بات نہیں، اس خوشی میں آپ کے کھانے کا بل میں ادا کر دیتا ہوں۔”
پھر انہوں نے وہاں موجود تمام افراد، بشمول اس بزرگ جوڑے کے لیے مٹن کڑاہی کا آرڈر دیا، سب کا بل ادا کیا، اپنا کھانا کھایا اور خوشی خوشی چلے گئے۔
چند دن بعد میں اپنے دوستوں کے ساتھ سینما گیا تو حیرت ہوئی کہ وہی صاحب ایک تقریباً پانچ سال کے بچے کے ساتھ ٹکٹ لینے کے لیے لائن میں کھڑے تھے۔
میں ان کے پاس گیا۔ انہوں نے مجھے فوراً پہچان لیا اور مسکرا دیے۔
سلام دعا کے بعد میں نے ہنستے ہوئے کہا:
“ماشاء اللہ! آپ کا بیٹا تو چند دنوں میں ہی اتنا بڑا ہو گیا!”
وہ مسکرائے اور بولے:
“بھائی! یہ ایک عجیب کہانی ہے، پھر کبھی فرصت سے سناؤں گا۔”
لیکن میرے اصرار پر انہوں نے حقیقت بیان کر ہی دی۔
انہوں نے کہا:
“اس دن جب میں ہاتھ دھونے کے لیے واش بیسن کے پاس کھڑا تھا تو میں نے اس بزرگ خاتون کو اپنے شوہر سے کہتے سنا:
‘آج میرا مٹن کڑاہی کھانے کو دل کر رہا ہے۔’
اس پر بزرگ نے نہایت افسردگی سے جواب دیا:
‘میرے پاس پورے مہینے کے لیے صرف دو ہزار روپے ہیں۔ اگر آج کڑاہی کھا لی تو باقی مہینہ کیسے گزرے گا؟ آج دال روٹی کھا لیتے ہیں، کڑاہی پھر کبھی سہی۔’
یہ سن کر میں نے موبائل کی گھنٹی خود بجائی اور بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری کا بہانہ بنایا تاکہ ان دونوں کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر ان کی خاموشی سے مدد کر سکوں۔”
میں نے حیرت سے پوچھا:
“آپ صرف انہی بزرگوں کا بل ادا کر دیتے، باقی سب کو کھانا کھلانے کی کیا ضرورت تھی؟”
انہوں نے نہایت خوبصورت جواب دیا:
“میں ان کی عزتِ نفس کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔”
یہ سن کر میں خود کو بہت چھوٹا محسوس کرنے لگا، اور ان کی عظمت میری نظروں میں کئی گنا بڑھ گئی۔
حقیقی نیکی وہ ہے جو کسی کی ضرورت بھی پوری کرے اور اس کی عزتِ نفس بھی محفوظ رکھے۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
![]()

