پرو لیگ کے ناقص انتظامات ڈی جی سپورٹس بورڈ ذمہ دار قرار
تحریر۔۔۔طاہر لطیف
پاکستان ( ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔۔۔ خصوصی مندوب ۔۔۔۔۔۔ طاہر لطیف )آسٹریلیا پرو لیگ میں پیش آنے والے واقعات کے اثرات ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔ طارق حسین بگٹی کے مستعفی ہونے کے بعد ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ یاسر پیرزادہ کا بھی تبادلہ کر دیا گیا ہے، اور انہیں اپنے سابقہ ادارے ریونیو میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کے معاملات کا اضافی چارج آئی پی سی کے سیکرٹری اور ایڈہاک پی ایچ ایف کے صدر محی الدین وانی کو سونپ دیا گیا ہے، جب کہ اطلاعات کے مطابق یہ اضافی ذمہ داری انہیں تین ماہ کے لیے دی گئی ہے۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یاسر پیرزادہ کے تبادلے کی اصل وجہ کیا بنی؟ کیا یہ اقدام اس کمٹمنٹ کا نتیجہ ہے جو دو تین ماہ قبل پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق صدر میر طارق حسین بگٹی سے استعفیٰ طلب کیے جانے کے بعد کی گئی تھی کہ اگر وہ نہیں رہیں گے تو پھر وہ بھی نہیں رہیں گے؟
ذرائع کے مطابق جس روز پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق حسین بگٹی نے پریس کانفرنس میں استعفیٰ دیا تھا، اسی روز یہ طے پا گیا تھا کہ پرو لیگ کے ناقص انتظامات کی تلوار ڈی جی سپورٹس بورڈ پر بھی گرے گی، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے کوئی واضح ٹائم فریم طے نہیں کیا گیا تھا۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ایک منصوبہ تھا جس کا ہدف طارق حسین بگٹی تھے، اور اسے عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری پاکستان سپورٹس بورڈ کو دی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے کے پیچھے ایک بااثر سیاسی شخصیت کا کردار بھی شامل تھا۔
ہاکی سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو, طارق حسین بگٹی کی زیر صدارت ہاکی اپنے صحیح ٹریک پر واپس آ رہی تھی۔ طاہر زمان کی ہیڈ کوچنگ میں ٹیم میں وہ صلاحیت اور اعتماد واپس آ رہا تھا جو ماضی کی پاکستانی ہاکی کی پہچان رہا ہے۔
آسٹریلیا پرو لیگ کے دوران جو کچھ ہوا، کپتان کی پریس کانفرنس کیا معنی رکھتی تھی، کون سے سینئر کھلاڑی اس پورے معاملے کا حصہ بنے، اور کن بااثر شخصیات نے ہو بارٹ میں کپتان کو فون کر کے یہ کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ واپسی پر پریس کانفرنس کریں گے؟ یہ سب اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے، مگر ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے آ گئی ہے کہ جب کوئی کسی کے لیے گڑھا کھودتا ہے تو بعض اوقات خود بھی اسی میں گر جاتا ہے۔
![]()

