Daily Roshni News

اقتدار صرف اختیار نہیں ہوتا، بلکہ امانت ہوتا ہے۔

اقتدار صرف اختیار نہیں ہوتا، بلکہ امانت ہوتا ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک عظیم بادشاہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں تھا۔ عمر بھر کی حکومت، فتوحات، خزانے اور رعایا، سب اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک کر کے دھندلے ہو رہے تھے۔ موت کا وقت قریب تھا، اور اس کے دل میں صرف ایک ہی فکر باقی رہ گئی تھی: “مرنے کے بعد میری کیا حالت ہوگی؟”

اس نے سلطنت کے ایک ایسے بزرگ کو بلایا جن کے بارے میں پورے ملک میں یہ یقین پایا جاتا تھا کہ ان کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ جو وہ اللہ سے مانگ لیں، قبولیت کی راہ ضرور نکل آتی ہے۔

بادشاہ نے نہایت عاجزی سے کہا: “اے بزرگ! میرے لیے دعا کریں کہ مرنے کے بعد مجھے جنت نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں جگہ عطا فرما دے۔”

اس بزرگ نے نہایت ادب سے عرض کیا: “حضور! آپ جو بھی حکم فرمائیں، میں کرنے کو تیار ہوں، لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں۔”

بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا کہ آخر ایسی کون سی بات ہے جو اس نے طلب کی ہے، جسے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے دوبارہ نرمی سے پوچھا: “کیا میں نے کوئی ایسی بات کہہ دی ہے جو آپ کے لیے مشکل یا ناممکن ہو؟”

اس پر بزرگ نے عرض کیا: “حضور! یہ ممکن ہے کہ میں اپنی دعا میں آپ کے لیے کچھ عرض کر دوں، لیکن اس کا قبول ہونا میرے اختیار میں نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات میرے لیے نہیں، رب تعالیٰ کی طرف سے پوری ہوگئی یہ مجھے مشکل لگتا ہے۔

بادشاہ یہ سن کر مزید حیران ہوا اور بولا: “میں نے تو اپنی پوری زندگی کوئی بڑا گناہ نہیں کیا، پھر آپ یہ کیوں فرما رہے ہیں کہ یہ میرے لیے جنت کا راستہ مشکل ہے؟”

اس پر بزرگ نے نہایت حکمت سے جواب دیا: “آپ خلقِ خدا کو دوزخ میں جھونک کر، خود نجات کی امید رکھیں، یہ کیسے ممکن ہے؟”

یہ سن کر بادشاہ پر حقیقت واضح ہو گئی کہ بزرگ کا کس طرف اشارہ فرما رہے ہیں، اور کیوں یہ بات کہی جا رہی ہے، کیونکہ بادشاہ اپنے نااہل بیٹے کو اپنے بعد تخت و تاج کا وارث بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

پھر اچانک بادشاہ نے فیصلہ کیا۔

اس نے کہا:

“اگر عدل جنت کی شرط ہے، تو پھر مجھے اپنا فیصلہ بھی عدل کے ساتھ کرنا ہوگا۔”

اور اس نے وہ وصیت بدل دی جو شاید اس کے بعد نسلوں کی تقدیر بدلنے والی تھی۔

اس نے ایک ایسے شخص کو جانشین مقرر کیا جو علم، دیانت اور انصاف میں پہچانا جاتا تھا۔ نہ قرابت کی بنیاد پر، نہ خواہش کی بنیاد پر… بلکہ حق کی بنیاد پر۔

پھر وقت آیا، بادشاہ رخصت ہو گیا۔

کہتے ہیں کچھ عرصے بعد کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا:

“بادشاہ سلامت! وہاں کیا حال ہے؟”

اس نے سکون سے جواب دیا:

“اب وہاں وہی ہے جو یہاں میں نے بدلا تھا، اللہ نے رحم کیا، کیونکہ میں نے آخری لمحے میں انصاف کا راستہ جو  چنا تھا۔”

 اخلاقی سبق

اقتدار صرف اختیار نہیں ہوتا، بلکہ امانت ہوتا ہے۔

اور جو شخص دوسروں کے فیصلے کرتا ہے، وہ خود بھی کسی بڑے فیصلے کے لیے تیار رہے۔

عدل صرف قانون نہیں، آخرت کی پہلی شرط ہے۔

✦ تحریر: عثمان عاشق

✦ کہانی نمبر: 43

📌 مزید ایسی کہانیوں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں:

👉 https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Z50j7z4ko6GfJw040

Loading