Daily Roshni News

**میرا ہمزاد میرا دوست**تحریر: ڈاکٹر عمران انجم

**میرا ہمزاد میرا دوست**

**تحریر: ڈاکٹر عمران انجم**

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔**میرا ہمزاد میرا دوست**تحریر: ڈاکٹر عمران انجم)اس رات میرے فلیٹ کی دیواریں جیسے مجھ پر سکڑ رہی تھیں اور فرش کی ٹھنڈک میرے وجود میں سرایت کر کے میرے ارادوں کو منجمد کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ میں جانتا تھا کہ یہ بے ہوشی اور نقاہت کسی مرض کا شاخسانہ نہیں بلکہ میرے ہمزاد کی وہ آخری چال تھی جو وہ مجھے گھٹنوں کے بل لانے کے لیے چل رہا تھا۔ وہ میرے سرہانے کھڑا کسی بھوکے بھیڑیے کی طرح غرا رہا تھا، اس کی آواز میں اب وہ ہمدردی نہیں تھی جو وہ اکثر جتاتا تھا بلکہ اب اس میں خالص درندگی اور انتقام کی بو تھی۔ “دیکھ لیا عمران! میری طاقت کا اندازہ ہو گیا؟ تم جس سچائی اور اصول پرستی کا پرچم اٹھائے پھر رہے ہو، وہ تمہیں صرف ہسپتال کے بستر یا قبر کے سکون تک لے جا سکتی ہے، مگر میری بات مان لو تو یہ دنیا تمہارے قدموں میں ہوگی،” وہ مسلسل میرے کانوں میں زہر گھول رہا تھا۔ میں نے کراہتے ہوئے دیوار کا سہارا لیا اور اپنی تمام تر جسمانی قوت کو یکجا کر کے اٹھ بیٹھنے کی کوشش کی، میرے ماتھے پر پسینے کے قطرے اس اندرونی جنگ کی گواہی دے رہے تھے جو میں اپنی ہی ذات کے ایک حصے سے لڑ رہا تھا۔

میں نے آنکھیں موند لیں اور اپنے تصور میں بابا نور کے اس چہرے کو لایا جو ہمیشہ ایک پُرکشش سکون کی چادر میں لپٹا رہتا تھا۔ مجھے ان کی وہ آواز سنائی دی کہ “بیٹا! ہمزاد سے لڑنا اسے ختم کرنا نہیں، بلکہ اسے اپنی مرضی کا تابع بنانا ہے”۔ میں نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنے اندر موجود اس شیطانی ہیولے کو مخاطب کیا، “تو جتنا چاہے زور لگا لے، تو میرے جسم کو گرا سکتا ہے مگر میری روح کو قید نہیں کر سکتا؛ یہ کیس اب محض ایک فائل نہیں ہے، بلکہ یہ میری بقا اور تیرے غرور کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ ہے۔” جیسے ہی میں نے یہ الفاظ کہے، مجھے اپنے اندر ایک عجیب سی حرارت محسوس ہوئی، جیسے کسی نے میرے ٹھنڈے پڑتے ہوئے خون میں ہمت کی آگ پھونک دی ہو۔ ہمزاد کا قہقہہ اچانک ایک کراہ میں بدل گیا اور فضا میں پھیلی وہ گھٹن کم ہونے لگی۔ میں نے لڑکھڑاتے قدموں سے میز تک رسائی حاصل کی اور اس مظلوم لڑکی کی فائل کو اپنے سینے سے لگا لیا، یہ فائل اب میرے لیے ایک ہتھیار کی مانند تھی۔

اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن نے میرے کمرے کی کھڑکی پر دستک دی، تو میں بستر پر نہیں بلکہ اپنے کام کی میز پر موجود تھا؛ میری آنکھیں جاگنے کی وجہ سے سرخ تھیں مگر ان میں ایک ایسی چمک تھی جو شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس سے پہلے کہ دشمن سنبھلیں، مجھے قانون کے اس آہنی شکنجے کو حرکت میں لانا ہوگا۔ میں نے اپنی پرانی موٹر سائیکل نکالی اور سیدھا اس ہسپتال کا رخ کیا جہاں اس لڑکی کا باپ اور بھائی موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا تھے۔ ہسپتال کی راہداریوں میں پھیلی وہ مخصوص بو اور لواحقین کے چہروں پر لکھی مایوسی میرے عزم کو مہمیز دے رہی تھی۔ جیسے ہی میں وارڈ میں داخل ہوا، وہ لڑکی—جس کا نام فائل کے مطابق ‘سحر’ تھا—ایک کونے میں کرسی پر بیٹھی سر جھکائے رو رہی تھی۔ اس کی سسکیاں ہسپتال کے سناٹے کو چیر رہی تھیں۔

میں نے اس کے قریب جا کر نہایت دھیمے مگر پر اعتماد لہجے میں کہا، “سحر بی بی! آنسو پونچھ لیں، کیونکہ اب رونے کا وقت ختم اور لڑنے کا وقت شروع ہو چکا ہے۔” اس نے چونک کر سر اٹھایا، اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں مگر میری آواز میں موجود یقین نے جیسے اس کے بجھتے ہوئے حوصلے کو دوبارہ جلا بخشی۔ “وکیل صاحب! کیا واقعی ہمیں انصاف ملے گا؟ وہ لوگ بہت طاقتور ہیں، پورا علاقہ ان کے زیرِ اثر ہے،” اس نے بے چارگی سے پوچھا۔ میں نے فائل میز پر رکھی اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا، “طاقت کا سرچشمہ قانون ہے، اور قانون کے سامنے کوئی زمیندار یا وڈیرہ بڑا نہیں ہوتا، بشرطیکہ اسے لڑنے والا کوئی بکاؤ نہ ہو۔” اسی لمحے مجھے محسوس ہوا کہ ہمزاد میرے پہلو میں کھڑا سحر کے حسن اور اس کی مظلومیت کو میرے لیے ایک نئی ڈھال بنانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر میں نے اسے سختی سے جھٹک دیا؛ آج میرا ضمیر کسی مصلحت یا جذباتیت کا اسیر ہونے کے لیے تیار نہیں تھا۔

میں نے ہسپتال سے نکل کر سیدھا متعلقہ تھانے کا رخ کیا۔ وہاں کا ایس ایچ او ایک مغرور اور رشوت خور انسان تھا جو زمینداروں کا پالتو سمجھا جاتا تھا۔ جیسے ہی میں نے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا، اس نے مجھے تمسخرانہ نظروں سے دیکھا اور فائل پرے پھینک دی۔ “او وکیل صاحب! شہر سے آئے ہو، شہر کی کچہریوں تک محدود رہو، یہ دیہات کے معاملے ہیں، یہاں قانون ہماری لاٹھی سے نکلتا ہے،” اس نے دھونس جماتے ہوئے کہا۔ میرے اندر کا ہمزاد اکسا رہا تھا کہ “دیکھو عمران! یہ دیوار بہت اونچی ہے، اسے نہیں گرا سکو گے، خاموشی سے نکل جاؤ”۔ مگر میں نے مسکرا کر اپنی جیب سے ایک ریکارڈنگ ڈیوائس نکالی اور میز پر رکھ دی۔ “انسپکٹر صاحب! آپ کی یہ تمام گفتگو اور پچھلے دس وکیلوں کو دی گئی دھمکیاں اب میرے پاس محفوظ ہیں؛ اگر اگلے ایک گھنٹے میں پرچہ درج نہ ہوا، تو یہ ریکارڈنگ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور میڈیا کے پاس ہوگی۔” ایس ایچ او کے ماتھے پر اچانک پسینہ نمودار ہوا اور اس کی آنکھوں میں موجود تکبر، خوف میں بدلنے لگا۔

کچھ دیر بعد، جب میں تھانے سے ایف آئی آر کی کاپی لے کر باہر نکلا، تو سڑک پر کھڑا میرا ہمزاد خاموش تھا، اس کے چہرے پر شکست کے آثار نمایاں تھے۔ میں نے اپنی موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور دل ہی دل میں ابا جی اور بابا نور کا شکریہ ادا کیا، جن کی دی ہوئی تربیت نے مجھے اس مقام پر کھڑا کر دیا تھا۔ مگر میں جانتا تھا کہ یہ صرف ایک چھوٹی سی جیت ہے، اصل جنگ تو اب شروع ہوئی ہے کیونکہ وہ زمیندار اتنی آسانی سے ہار ماننے والے نہیں تھے۔

تھانے کی دہلیز سے پرچہ کٹوا کر نکلنا ایسا ہی تھا جیسے کسی سوئے ہوئے شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالنا، اور اس کا پہلا ردِعمل مجھے اپنے گرد و نواح میں نہیں، بلکہ اپنے عین پہلو میں کھڑے ہمزاد کے روپ میں محسوس ہوا۔ شہر کی سڑکوں پر شام کے سائے رینگ رہے تھے اور میری موٹر سائیکل کی دھیمی روشنی اندھیرے کو چیرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی، جب ہمزاد نے اچانک میرے کان کے بالکل قریب اپنی برفانی سانسوں کی تپش انڈیلی۔ “عمران! تم نے آج اپنی موت کے وارنٹ پر دستخط کر دیے ہیں،” اس نے ایک لرزہ خیز قہقہہ لگایا جو میرے اعصاب کو منجمد کرنے کے لیے کافی تھا۔ “وہ زمیندار جن کے نام سے پولیس تھرتھراتی ہے، وہ تمہیں ایک گمنام گلی میں کتے کی موت مار دیں گے اور کسی کو تمہاری لاش تک نہ ملے گی۔ ابھی بھی وقت ہے، اس پرچے کو واپس لے لو اور سحر کو اس کے حال پر چھوڑ دو، ورنہ تمہارا یہ سچ تمہارا کفن بن جائے گا۔” اس کی آواز میں موجود دہشت اتنی گہری تھی کہ ایک لمحے کے لیے میرا ہاتھ ہینڈل پر لرز گیا، مگر میں نے فوراً درود پاک کا ورد شروع کر دیا، جو میرے لیے ہمیشہ ایک ایسی حصار ثابت ہوا تھا جس کے سامنے ہمزاد کی ہر طاقت جواب دے جاتی تھی۔

میں جیسے ہی اپنے فلیٹ کے قریب پہنچا، مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرا پیچھا کر رہا ہے؛ اندھیری گلی میں جوتوں کی چاپ اور سائے کی حرکت نے میرے حواس کو بیدار کر دیا۔ ہمزاد نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور میرے ذہن میں وحشت ناک تصویریں بنانا شروع کر دیں: “دیکھو! وہ پیچھے پستول تانے کھڑے ہیں، تمہارا سینہ چھلنی ہونے والا ہے، بھاگو عمران! اپنی جان بچاؤ اور اس کیس کی فائل کہیں پھینک دو۔” اس نے میرے خوف کو اتنا بڑھا دیا کہ مجھے اپنے پیچھے ہولناک ہیولے رقص کرتے دکھائی دینے لگے، میری سانسیں اکھڑنے لگیں اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوگئی۔ یہ اس کی پرانی چال تھی کہ وہ میرے وہم کو حقیقت کا رنگ دے کر مجھے ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا تھا۔ میں نے بھاگنے کے بجائے قدم وہیں روک لیے، گہری سانس لی اور اپنی جیب سے بابا نور کا دیا ہوا وہ چھوٹا سا عطر نکالا جس کی خوشبو میرے اعصاب کو سکون بخشتی تھی۔ میں نے بلند آواز میں کہا، “اگر موت لکھی ہے تو وہ آ کر رہے گی، مگر تمہارے وسوسوں سے ڈر کر میں اپنا ایمان نہیں بیچوں گا۔” جیسے ہی میں نے ہمت دکھائی، وہ پیچھا کرنے والے سائے غائب ہو گئے؛ وہ دراصل ہمزاد کی پیدا کردہ نظر بندی تھی جو میری بزدلی کی خوراک پر پل رہی تھی۔

اگلے دن عدالت میں کیس کی پہلی سماعت تھی، مگر میری طبیعت ایک بار پھر ناساز ہونے لگی۔ ہمزاد نے رات بھر مجھے سونے نہ دیا؛ وہ کبھی زلیخا کی تصویر میرے سامنے لاتا اور اس کے لہجے کی حقارت یاد دلاتا، اور کبھی سحر کی مظلومیت کو ایک بوجھ بنا کر پیش کرتا۔ “تم جس لڑکی (سحر) کے لیے لڑ رہے ہو، وہ کل تمہیں پہچاننے سے بھی انکار کر دے گی اور وہ خود ہی ان زمینداروں کے ڈر سے کیا واپس کے لے گی ۔ کیوں اپنی جوانی برباد کر رہے ہو؟” اس نے میری سوچوں کو منتشر کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ میری بچاؤ کی تدبیر صرف یہ تھی کہ میں نے اپنا رابطہ بابا نور سے جوڑے رکھا اور رات کا آخری پہر سجدے میں گزار دیا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ جب انسان اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے، تو ہمزاد جیسے ہزاروں شیطان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

عدالت کے کمرے میں جب زمینداروں کا وکیل—جو شہر کا مانا ہوا عیار انسان تھا—کھڑا ہوا، تو اس نے سحر کے کردار پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا۔ میرے کانوں میں ہمزاد کی آواز گونجی، “دیکھا! اب اس لڑکی کی رسوائی کا بوجھ بھی تمہارے سر پر آئے گا، کیا تم یہی چاہتے تھے؟” میں نے محسوس کیا کہ میرا اعتماد ڈگمگا رہا ہے، مگر میں نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اس فائل کو مضبوطی سے تھام لیا۔ میں نے جج کے سامنے کھڑے ہو کر اتنے دلائل اور ایسے جذباتی مگر قانونی پیرائے میں بات کی کہ پورا کمرہ عدالت ساکت رہ گیا۔ میں نے ان مظلوموں کے زخموں کی زبان بن کر وہ سچ بیان کیا کہ زمینداروں کے چہرے فق پڑ گئے۔ ہمزاد جو اب تک فتح کے خواب دیکھ رہا تھا، میرے اس لہجے کی کاٹ دیکھ کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا؛ وہ ہمیشہ میری کمزوری کا فائدہ اٹھاتا تھا، مگر میری حق گوئی اس کے لیے ایک ایسی آگ بن گئی جس نے اسے جھلسا کر رکھ دیا۔

سماعت کے بعد جب میں باہر نکلا، تو زلیخا وہاں کھڑی تھی؛ اس کی آنکھوں میں آج وہ پہلی والی حقارت نہیں بلکہ ایک گہری حیرت اور ستائش کی لہر تھی۔ اس نے قریب آ کر صرف اتنا کہا، “عمران صاحب! آپ نے آج ثابت کر دیا کہ سچائی صرف کتابوں میں نہیں ہوتی۔” یہ جملہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا، مگر ہمزاد نے فوراً مداخلت کی، “یہ تمہیں جال میں پھنسا رہی ہے، اس کے قریب مت جانا!” میں نے مسکرا کر اسے نظر انداز کیا اور زلیخا کی طرف دیکھ کر کہا، “یہ میرا کمال نہیں، یہ اس تربیت کا ثمر ہے جو مجھے اپنوں سے ملی ہے۔” ابھی میں اس گفتگو میں تھا کہ بابا نور کا پیغام ملا کہ فوراً ڈیرے پر پہنچو۔ وہاں پہنچا تو پتا چلا کہ دشمنوں نے اب ایک ایسا وار کیا ہے جو میرے گھر والوں تک پہنچ سکتا تھا۔ ہمزاد نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مکاری سے کہا، “اب تمہارے ابا جی اور بھائی نشانے پر ہیں، کیا اب بھی تم اپنی ضد پر قائم رہو گے؟” میرا دل ڈوبنے لگا، مگر میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب یہ جنگ آر یا پار کی ہوگی۔

**جاری ہے**

#mystery

#viralpost

#اردو_ادب

#اردو_ناول

آپکے ناول کے بارے میں کمنٹس میرے لیے حوصلہ افزاء ہیں

Loading