Daily Roshni News

‏ ایک ایسی آگ جو انسان نے خود جلائی مگر پھر انسان ہی اسے بجھا نہ سکا۔

‏ ایک ایسی آگ جو انسان نے خود جلائی مگر پھر انسان ہی اسے بجھا نہ سکا۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سوویت سائنسدانوں کی ایک غلطی اور 56 سال سے جلتی مسلسل آگ دھرتی پر جہنم کا دروازہ ۔۔۔۔ !

سوویت سائنسدانوں کی ایک غلطی نے زمین میں ہمیشہ کے لئے جہنم کا دروازہ کھول دیا ، کیا دنیا میں گرمی کی دن بدن بڑھتی صورتحال کی یہی وجہ ہے۔۔۔ ؟

رات کے اندھیرے میں اگر آپ ترکمانستان کے بےآب و گیاہ صحرا میں کھڑے ہوں ہوا ریت کو آہستہ آہستہ اڑاتی ہو اور اچانک زمین کے بیچ ایک ایسا دہکتا ہوا گڑھا نظر آئے جس کی آگ پچاس سال سے بجھنے کا نام ہی نہ لے رہی ہو تو شاید آپ بھی یہی کہیں گے:

“یہ جگہ زمین پر نہیں کسی اور دنیا کا دروازہ لگتی ہے۔”

Darvaza Gas Crater

جسے دنیا آج “Door to Hell” یعنی “جہنم کا دروازہ” کے نام سے جانتی ہے دراصل ایک خوفناک حادثے کا نتیجہ ہے مگر اس حادثے نے ایک ایسی آگ کو جنم دیا جو دہائیوں بعد بھی زندہ ہے۔

کہانی شروع ہوتی ہے سن 1971 میں، جب سوویت یونین کے سائنسدان ترکمانستان کے صحرا میں قدرتی گیس کی تلاش کر رہے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ زمین کے نیچے گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔

 ڈرلنگ جاری تھی مشینیں مسلسل زمین کو چیر رہی تھیں مگر پھر اچانک کچھ ایسا ہوا جس نے پورے کیمپ کو ہلا کر رکھ دیا۔

زمین اچانک اندر دھنس گئی۔

ایک بہت بڑا گڑھا وجود میں آیا، اتنا بڑا کہ اس میں پورا کا پورا ڈرلنگ کیمپ سما گیا۔ سائنسدان خوفزدہ ہو گئے کیونکہ اس گڑھے سے زہریلی میتھین گیس تیزی سے خارج ہونا شروع ہو گئی تھی۔ انہیں ڈر تھا کہ یہ گیس آس پاس کے علاقوں کے لئے خطرناک ثابت ہوگی۔

اسی خوف میں ایک فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے سوچا کہ اگر گیس کو آگ لگا دی جائے تو چند دنوں میں یہ ذخیرہ ختم ہو جائے گا اور مسئلہ حل ہو جائے گا۔

مگر وہ “چند دن” آج پچاس سال سے زیادہ عرصے میں بدل چکے ہیں۔

آگ بجھی ہی نہیں۔

صحرا کے بیچ یہ گڑھا مسلسل جلتا رہا دن میں بھی رات میں بھی طوفانوں میں بھی سردیوں میں بھی ۔ دور سے دیکھو تو ایسا لگتا ہے جیسے زمین کا سینہ پھٹ چکا ہو اور اندر سے جہنم کی آگ باہر نکل رہی ہو۔

اس گڑھے کی چوڑائی تقریباً 70 میٹر ہے جبکہ گہرائی بھی حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ رات کے وقت اس کے اندر ہزاروں شعلے ایک ساتھ بھڑکتے ہیں اور پورا صحرا نارنجی روشنی سے جگمگا اٹھتا ہے۔

 وہاں کھڑے ہو کر انسان کو عجیب سا خوف محسوس ہوتا ہے جیسے زمین زندہ ہو۔

اسی لئے مقامی لوگ اس جگہ کے قریب جانے سے گھبراتے تھے۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ یہ بدروحوں کی جگہ ہے، جبکہ کچھ اسے قیامت کی نشانی سمجھتے تھے۔

 مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی خوف دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے لگا۔

آج دنیا بھر سے لوگ صرف اس منظر کو دیکھنے کے لئے ترکمانستان کے سنسان صحرا کا سفر کرتے ہیں۔ رات کے اندھیرے میں جب تیز ہوائیں جلتے ہوئے گڑھے کے اوپر سے گزرتی ہیں تو شعلے عجیب انداز میں ناچتے ہیں اور انسان چند لمحوں کے لئے واقعی بھول جاتا ہے کہ وہ زمین پر کھڑا ہے ۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ سائنسدان آج بھی پوری یقین سے نہیں جانتے کہ اس آگ کے نیچے کتنی گیس باقی ہے اور یہ آگ آخر کب بجھے گی۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نیچے موجود ذخیرہ بہت بڑا ہوا تو یہ آگ شاید آنے والی کئی دہائیوں تک جلتی رہے۔ اسی لئے Door to Hell صرف ایک حادثہ نہیں رہا یہ اب زمین کے سب سے پراسرار مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

تصور کریں ایک ایسی آگ جو انسان نے خود جلائی

مگر پھر انسان ہی اسے بجھا نہ سکا۔

اور شاید یہی چیز اس جگہ کو خوفناک بھی بناتی ہے اور حیران کن بھی۔

کبھی کبھی انسان فطرت کو قابو کرنے نکلتا ہے مگر فطرت خاموشی سے اسے یاد دلا دیتی ہے کہ اصل طاقت اب بھی اسی کے پاس ہے ۔۔۔ !!!

Loading