Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا۔۔۔ تحریر۔۔۔مشتاق شباب

*شباب کی باتیں*

ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا

تحریر۔۔۔مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا۔۔۔ تحریر۔۔۔مشتاق شباب )فیس بک پر ایک پوسٹ لگی ہے جس میں ماشکی کے بارے میں معلومات درج کیے جانے کے بعد اسے بہشتی کے نام سے بھی پکارا گیا تو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سوال کیا گیا کہ ماشکی کو بہشتی کیوں  پکارا جاتا ہے؟ سوال اپنی جگہ سوال کنندہ کی سادگی کے بارے میں بھی سوال اٹھا رہا ہے تاہم یہ اتنا سادہ بات بھی نہیں کہ جسے سادگی پر محمول کر کے اس سے درگزر کیا جائے اس لیے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ یہ جو موبائل فون ان دنوں ہمارے ہاتھوں میں رہتا ہے اور جس پر سامنے آنے والے سوال نے ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کرا دی ہے اور اس کے بعد ہمیں یہ سطور لکھنے پر مجبور کر دیا ہے اسے یعنی موبائل فون کو کیا کہا جائے؟ اسے جام جمشید کہا جائے یا پھر عمرو عیار کی زنبیل قرار دیا جائے۔ جام جمشید جسے جام جم بھی کہا جاتا ہے ایران کے بادشاہ جمشید کی خواہش پر  حکماء نے بنایا تھا اور جس سے ازروۓ نجوم ائندہ کا حال معلوم ہو جاتا تھا اسے جام جہاں نما بھی کہا جاتا تھا، یہ الگ بات ہے کہ مرزا غالب نے اپنی بزلہ سنجی کی عادت سے مجبور ہو کر جام جم کو پر کاہ کے برابر اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا تھا

 اور بازار سے لے ائے اگر ٹوٹ گیا ساغر جم سے میرا جام سفال اچھا ہے

اسی طرح عمرو عیار کی زنبیل کے بارے میں داستان امیر حمزہ میں جو خصوصیات زنبیل یعنی عمرو عیار کے تھیلے سے وابستہ کی گئی ہیں ان کے مطابق وقت ضرورت اور حالات کے عین مطابق عمرو بن امیہ اس تھیلے میں ہاتھ ڈال کر مطلوبہ چیز باہر نکال لیا کرتا تھا اس حوالے سے بھی مرزا غالب نے کیا خوب کہا ہے کہ

در معنی سے مرا صفحہ لقا کی داڑھی

غم گیتی سے مرا سینہ عمرو کی زنبیل

چونکہ یہ موقع نہیں ہے لقا کی داڑھی اور عمرو بن امیہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا جائے اس لیے اپنے موضوع کی طرف واپس لوٹتے ہوئے موجودہ دور کے جام جم یا جام جمشید یعنی موبائل فون کی بات کرتے ہوئے ماشکی کو بہشتی کیوں کہا جاتا ہے کے سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 دین اسلام میں پیاسے کو پانی پلانے کے ثواب کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ کسی پیاسے کو پانی پلانے کا جو اجر ہے اس کی اصل حقیقت روز قیامت پانی پلانے والوں کی نیکیوں میں اضافے اور ان کو ملنے والے ثواب کو دیکھ کر گنہگار سے گنہگار بھی حیرت میں پڑ جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے والدین پر کسی کام کا بوجھ نہیں ڈال سکتے اور انہیں کوئی حکم نہیں دے سکتے ما سوائے یہ کہ پانی پلانے کا حکم والدین کو دیا جا سکتا ہے تاکہ اس کام کا بے حد و حساب ثواب والدین کے نامہ اعمال میں بے پناہ نیکیوں کی صورت جمع ہو کر روز قیامت ان کی بخشش کا باعث بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی پلانے والے ماشکی کو بہشتی یعنی جنتی کہا جاتا ہے ایک جانب تو پیاسوں کی پیاس بجھانے کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پہلے ہی سے واضح تھیں جبکہ میدان کربلا میں لشکر حسین علیہ السلام پر جس طرح پانی بند کیا گیا تھا اس کے بعد پانی پلانے کا عمل مذہبی طور پر ایک ایسا استعارہ بن کر سامنے ایا کہ قیامت تک اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ کر ہمیشہ روشن ہوتی رہے گی۔ میدان کربلا میں پانی کی قدر و منزلت اور اس سے وابستہ خیر عظیم اور جزا  نے خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر پڑنے والے مظالم کے باب میں مرثیے اور اور نوحے لکھنے والوں کو بطور خاص اپنی شاعری میں پیاس اور پانی کی اہمیت اجاگر کرنے پر توجہ دلانے پر مجبور کیا، اس ضمن میں اتنے اشعار بطور حوالہ پیش کیے جا سکتے ہیں کہ دفتر کے دفتر سیاہ ہو جائیں۔ ہم اپنے ہی لکھے ہوئے سلام کے دو شعر پیش کرتے ہیں

 اک پیاس کا ہنگام ہے پانی سے خالی جام ہے

پیاسوں کا عزم و حوصلہ ہے ازن عام روشنی

 چھلنی ہے مشکیزہ وہاں، کانٹے پڑے یاں حلق میں

، اس کرب کے ہنگام کا حاصل پیام روشنی

ان حقائق کی روشنی میں ماشکی کو بہشتی کہنے کی بات یقینا سمجھ میں آگئی ہوگی، اب تھوڑا سا مزید اگے بڑھتے ہیں اور پانی پلانے والے یا گھروں میں پہنچانے والے کو ہمارے ہاں مقامی دونوں زبانوں یعنی پشتو اور ہندکو میں بہشتی اس لیے کہا جاتا تھا کہ پشاور میونسپلٹی نے لگ بھگ ساٹھ ستر برس پہلے جب اندرون شہر سرکاری نلکوں کا جال بچھایا تو ان نلکوں سے قریبی گھروں میں ماشکی اپنے مشک یا مشکیزے بھر بھر کر پہنچاتے اس کام کی اگرچہ انہیں الگ سےمزدوری ملتی، کیونکہ ماشکیوں کی سرکاری ذمہ داری یہ تھی کہ وہ خاکروبوں کے ساتھ مل کر گلیوں میں صبح و شام پانی کا چھڑکاؤ کرتے اور خاکروب یعنی جمعدار ان کے پیچھے پیچھے جھاڑو لگاتے رہتے ، چونکہ ماشکی یا بہشتی خاکروبوں سے آگے آگے ہوتے اس لیے پانی کے چھڑکاؤ کی وجہ سے کچی گلیوں میں گرد بیٹھ جاتی اور خاکروبوں کے جھاڑو لگانے سے گرد نہ اٹھتی اب یہاں اہل پشاور کی ایک اور خوبی اور مہذب ہونے کی بات کرنا بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ ماشکی کو تو بہشتی کے نام سے پکار کر شہری مہذب ہونے کا ثبوت فراہم کرتے رہے مگر خاکروبوں کو بھی عزت و احترام کے ساتھ جمعدار یا ایک اور اس سے بھی برے لفظ کی بجائے حلال خور کے نام سے پکارتے کیونکہ شہریوں کے نزدیک ان کے گھروں سے غلاظت اٹھا کر ٹھکانے لگانا اور گلیوں میں صبح شام جھاڑو لگا کر ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی وجہ سے خاکروبوں کی محنت کے عوض انہیں حقارت سے دیکھنے کی بجائے احترام سے پکارنا صرف مسلمانوں ہی کا شیوہ تھا حالانکہ یہ وہ بیچارہ طبقہ تھا جو برصغیر میں رہنے والے ہندوؤں کی ذات پات کے نظریے کے تحت شودر کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ بھارت میں اب بھی شودروں کو دلت کے نام سے قابل نفریں سمجھا جاتا ہے اور ان کو چھونے تک سے گریز کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں رویے خاصے تبدیل ہو چکے ہیں اور اب تو بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ ائے ہوئے مسلمان بھی ڈبلیو ایس ایس پی کے ادارے میں صفائی ستھرائی کا کام کرتے ہیں جنہیں سینٹری ورکر کہا جاتا ہے البتہ وہ جو

ماشکی ہوا کرتے تھے اب وہ کم کم ہی دکھائی دیتے ہیں شاید ڈبلیو ایس ایس پی کے پاس مزید ان لوگوں کو رکھنے اور ان سے کام لینے کی گنجائش نہیں ہے جبکہ بقول غالب

 خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیئے

 ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہیئے

Loading