Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔۔ امیر شہر سے کہہ دیجئے سب اچھا ہے ۔۔۔ تحریر۔۔۔مشتاق شباب

*شباب کی باتیں*

امیر شہر سے کہہ دیجئے سب اچھا ہے

تحریر۔۔۔مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔۔ امیر شہر سے کہہ دیجئے سب اچھا ہے ۔۔۔ تحریر۔۔۔مشتاق شباب)جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند ماہ پہلے کی پاک بھارت مختصر ترین جنگ میں بھارت کے پاکستانی شاہینوں کے گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اس کی سبکی اڑانے کا اہتمام کیا ہے اور ابتدا میں سات طیارے گرانے کے دعوے کیے مگر رفتہ رفتہ صدر ٹرمپ نے سچ اگلنا اپنا وتیرا بناتے ہوئے تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد 11 تک پہنچا دی ہے، اس کے بعد مودی سرکار اور اس کی عسکری قیادت کے ہوش ٹھکانے آنا مودی جی کے لیے نقش بہ دیوار ہو چکا ہے، حالانکہ حالیہ ایران، امریکہ اسرائیل جنگ میں ایران کے ہاتھوں امریکہ اور اسرائیل کے جتنے طیارے اور دیگر حربی ساز و سامان تباہ ہو چکے ہیں ان کی تعداد کو لے کر مودی سرکار کو اپنی خفت مٹاتے ہوئے امریکہ کو الٹا طعنے دینے چاہیے تھے، مگر مودی سرکار نے بھارت میں ابھی حال ہی میں پورے چار سال بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں “پورے تین روپے”  فی لیٹر اضافے سے عوام پر جو مہنگائی مسلط کر دی ہے اور بھارتی عوام کی چیخیں نکلنا شروع ہو گئی ہیں، دراصل پہلے تو مودی سرکار کی تامل ناڈو ریاست میں بری طرح ہارنے کے بعد جو حالت بن رہی ہے اس پر غور کریں تو مودی جی  جس طرح ماضی میں  فالس فلیگ اقدامات کے تحت پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی سے عوام کو طفل تسلیاں دینے میں پناہ ڈھونڈ لیتی تھی اب کی بار ایسا ممکن دکھائی نہ دیا تو  وہ کیا ہے ناں کہ پشتو زبان میں ایک گماشتے کا قصہ بہت مشہور ہے کہ کس طرح وہ روزانہ حجرے میں گاؤں کے خان سے بے نقط سن کر مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے خوش خوش گھر لوٹتا اور بیوی اس سے خوش ہونے کا سبب پوچھتی تو وہ بڑے فخریہ انداز میں اس کی وجہ خان کے “ڈانٹ ڈپٹ اور گالم گلوچ”  کو قرار دیتا، اب گاؤں کا خان اسے کن الفاظ سے یاد کرتا اس بارے میں کسی پختون سے معلوم کیا جائے تو  جو اصل الفاظ ہیں وہ سامنے آسکتے ہیں اور گاؤں کا خان گماشتے کے ساتھ یہ رویہ تب روا رکھتا جب وہ خوش ہوتا اور اگر خدانخواستہ خان اپنے گھر سے ہی کسی بات پر ناراض ہو کر یا جھگڑ کر حجرے میں آتا تو بیچارے ملازم کی وہ درگت بنتی کہ اس کی مونچھیں نیچے لٹک جاتیں،  یعنی بقول سجاد بابر مرحوم

اک ہوا اٹھے گی سارے بال و پر لے جائے گی

 یہ نئی رت اب کے سب کچھ ساتھ ہی لے جائے گی

 کچھ ایسی ہی حالت مودی سرکار کی ہو رہی ہے کہ ایران کے ہاتھوں درگت بنوانے والا امریکہ اور اسرائیل بھارت کے 11 طیاروں کی تباہی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ طیارے، میزائل، ڈرونز، بحری بیڑے اور دیگر ساز و سامان کا نقصان برداشت کرنے کے باوجود مودی اور اس کی عسکری قیادت امریکہ بہادر کو تو جوابی طعنے دینے کی ہمت نہیں رکھتی  مگر پورے چار سال بعد پٹرول کی قیمتوں میں “پورے تین روپے لیٹر” اضافہ کر کے اپنے عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹانے کے لیے “اتنی زیادہ” مہنگائ  مسلط کرنے کی راہ پر چل پڑی ہے،  جبکہ اس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی عسکری قیادت بھی حسب سابق عوام کی توجہ اتنی بڑی مہنگائی سے ہٹانے کے لیے ایک بار پھر پاکستان کو دھمکیاں دینے لگی ہے اور اب کی بار بھارت کے فوجی سربراہ نے جو بیان دیا ہے اس پر ہنسا جائے یا رویا جائے والی کیفیت کا بھرپور اطلاق ہوتا ہے۔ موصوف نے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ اب یہ فیصلہ پاکستان نے کرنا ہے کہ اسے تاریخ کا حصہ بننا ہے یا زندہ رہنا ہے، اس پر سبحان اللہ کہنے کے علاوہ اور ہم کیا تبصرہ کریں کہ اگر بھارتی جنرل ایسی تڑیاں یا بھارتی زبان میں چتاونیاں دینے سے پہلے گزشتہ جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں بنی ہوئی اپنی درگت کی جانب دیکھتے تو ڈاکٹر اشرف عدیل کے اس شعر سے ہی سبق حاصل کر لیتے یعنی

 اس سلیقے سے اسے ہم نے اجاڑا ہے کہ اب

 گھر میں آسیب بھی ائے تو بدک جاتا ہے

خیر چھوڑیں یہ تو بھارت کی پرانی عادت ہے کہ اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس کو الزامات یا دھمکیاں دینے کے لیے پاکستان کے سوا کوئی نظر ہی نہیں آتا، حالانکہ اسے پاکستان اور پاکستانیوں کے صبر اور شکر کے رویوں سے بھی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے جو ایک عرصے سے ماضی کی طرح سالانہ بجٹ کے موقع پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل سے اب آگے آتے ہوئے ہر ہفتے نئی قیمتوں کا سامنا کرتے ہیں مگر اف تک نہیں کرتے۔

 بھارتی جنتا اب اتنی  بے صبری ہو چکی ہے کہ پورے چار سال تک انتظار کی سولی پر لٹکتی رہی ہے مگر پاکستانیوں کے صبر و شکر کے رویے سے پھر بھی کچھ نہیں سیکھا۔

اگر اس موقع پر بھارت سرکار کو خود بھارت ہی کے ایک مقبول شاعر مرحوم ڈاکٹر راحت اندوری کا ایک شعر پیش کر دیا جائے تو کیسا رہے گا؟

 مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید

 لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے

 ویسے یہ جو بھارتی عسکری قیادت کی تازہ چتاؤنی ہے اس پر ہم کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے اگر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ کے چند روز پہلے کہ ایک بیان کی طرف بھارتی قیادت کی توجہ دلائیں تو کیا مناسب نہ ہوگا؟

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف ایس کے دولت نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت روز اول ہی سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے اور تمام تر وسائل بین الاقوامی لابنگ اور پراکسیز استعمال کرنے کے باوجود اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ایس کے دولت نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ بھارت کی یہ غلط فہمی ہے کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا جبکہ پاکستان کبھی نہیں ٹوٹے گا۔

را ایسی اہم ایجنسی کے سابق سربراہ کے تازہ بیان پر اگر بھارت سرکار سنجیدگی سے غور کرے تو اس پر یہ بات کھل جائے گی، یعنی بقول افتخار عارف

 یہ بہر لحظہ نئی دھن پہ تھرکتے ہوئے لوگ

 کس کو معلوم یہ کب تیرے ہیں کب تیرے نہیں

اس لیے مختلف حیلوں بہانوں سے پٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافے کو پاکستانیوں کی طرح برداشت کرنا سیکھنے پر بھارتی جنتا توجہ دے جو ہر ہفتے تیل، گیس, اور بجلی نرخوں میں اضافے کا بوجھ خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اف تک نہیں کرتے یعنی بقول استاد محترم مرحوم شرر نعمانی

 گلی گلی میں قیامت سی ایک برپا ہے

امیر شہر سے کہہ دیجئے سب اچھا ہے۔

Loading