پرانے بغداد کی بات ہے
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عثمان عاشق
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ پرانے بغداد کی بات ہے۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ عثمان عاشق)پرانے بغداد کی بات ہے۔ اُس زمانے میں جب قافلے مہینوں کا سفر طے کر کے حج کیلئے مکہ مکرمہ جایا کرتے تھے، اور راستے صرف ریت، پہاڑوں اور دعاوں کے سہارے کاٹے جاتے تھے۔ انہی دنوں بغداد سے ایک عظیم قافلہ نکلا۔ سینکڑوں اونٹ، درجنوں گھوڑے، سفید لباس میں ملبوس زائرین، ہاتھوں میں تسبیحیں، لبوں پر درود شریف، اور دلوں میں بیت اللہ اور روضۂ رسول ﷺ کی تڑپ۔ قافلے میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے۔ کوئی بوڑھا تھا جس نے پوری زندگی پیسے جمع کر کے یہ سفر نصیب کیا تھا، کوئی نوجوان تھا جو پہلی بار بغداد سے باہر نکلا تھا، کوئی ماں تھی جو اپنے بچوں کو ساتھ لے کر اللہ کے گھر جا رہی تھی، اور کوئی ایسا شخص بھی تھا جس نے دنیا کی ساری دولت چھوڑ کر صرف اللہ کی رضا کیلئے یہ سفر اختیار کیا تھا۔ دن بھر جب قافلہ چلتا تو دور صحرا میں گرد کے بادل اٹھتے۔ اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز، قرآن کی تلاوت، اور “لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں فضا میں گونجتیں۔ رات کو جب لوگ قیام کرتے تو کوئی آسمان کی طرف دیکھ کر دعائیں مانگتا، کوئی نفل ادا کرتا، کوئی اپنے گناہوں پر آنسو بہاتا۔ پورے قافلے پر ایک روحانی کیفیت طاری رہتی۔ کئی دنوں کے سفر کے بعد ایک رات قافلہ ایک سنسان وادی میں رکا۔ وہ جگہ عجیب حد تک خاموش تھی۔ چاروں طرف دور دور تک صرف ریت تھی اور سیاہ پہاڑ ایسے کھڑے تھے جیسے کسی راز کی حفاظت کر رہے ہوں۔ آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور قافلے کے الاؤ آہستہ آہستہ بجھ رہے تھے۔ لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر سونے لگے۔ کچھ دیر بعد پورا میدان خاموش ہو گیا۔ صرف ہوا کی سرسراہٹ اور اونٹوں کی ہلکی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ مگر اُس رات کچھ عجیب ہوا۔ ایسی چیز جس نے اگلی صبح پورے قافلے کے دلوں میں خوف بھر دیا۔ صبح فجر کے وقت جب لوگ اٹھنے لگے تو ایک شخص کے چہرے پر شدید پریشانی تھی۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور پیشانی پسینے سے بھیگی ہوئی تھی۔ اُس نے ہچکچاتے ہوئے اپنے ساتھی سے کہا: “مجھے رات ایک عجیب خواب آیا ہے” دوسرا شخص چونک گیا۔ اُس کا رنگ بھی فق تھا۔ اُس نے دھیمی آواز میں پوچھا: “کیا ایسا خواب، کہ آگے راستے میں موت کھڑی ہے؟” پہلا شخص جیسے پتھر کا ہو گیا۔ اُس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ لرزتی آواز میں بولا: “ہاں، بالکل یہی” ابھی وہ دونوں بات کر ہی رہے تھے کہ قریب بیٹھا ایک بوڑھا شخص گھبرا کر کھڑا ہو گیا اور بولا: “اللہ کی پناہ، یہی خواب تو میں نے بھی دیکھا ہے!” پھر ایک نوجوان آگے آیا۔ اُس کا چہرہ زرد تھا۔ اُس نے کہا: “میں نے بھی خواب میں دیکھا کہ ایک سیاہ سایہ قافلے کے آگے کھڑا ہے اور ہر قدم کے ساتھ لوگ گرتے جا رہے ہیں” چند ہی لمحوں میں پورے قافلے میں کھلبلی مچ گئی۔ ہر شخص ایک ہی خواب بیان کر رہا تھا۔ خواب کی تفصیل تھوڑی مختلف تھی، مگر مطلب ایک ہی تھا: “آگے موت کھڑی ہے” کسی نے خواب میں جلتی ہوئی وادی دیکھی تھی، کسی نے خون میں ڈوبا راستہ، کسی نے قبریں، کسی نے سیاہ پرندے۔ مگر ہر خواب کے آخر میں ایک ہی احساس تھا کہ اس سفر کا انجام موت ہے۔ یہاں تک کہ قافلے کا امیر، جو نہایت بہادر اور مضبوط دل انسان سمجھا جاتا تھا، وہ بھی خاموش بیٹھا تھا۔ جب لوگوں نے اُس سے پوچھا تو اُس نے آہستہ سے کہا: “میں نے بھی یہی خواب دیکھا” اب خوف پورے قافلے میں پھیل چکا تھا۔ عورتیں اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر دعائیں پڑھنے لگیں۔ کچھ لوگ زور زور سے استغفار کرنے لگے۔ کچھ نے کہا: “شاید ہمیں واپس لوٹ جانا چاہیے” ایک شخص کانپتی آواز میں بولا: “یہ اللہ کی طرف سے تنبیہ ہو سکتی ہے” ہر طرف سرگوشیاں، خوف اور بےچینی پھیل گئی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے صبح کی روشنی بھی اندھیری ہو گئی ہو۔ اتنے میں ایک شخص نے کہا: “اگر بغداد کا مشہور نجومی ‘زاہِر بن سلیمان’ ہمارے ساتھ ہوتا تو وہ ضرور اس خواب کی تعبیر بتاتا” لوگ ابھی اسی بات پر گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک دور سے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی۔ سب نے حیرت سے مڑ کر دیکھا۔ صحرا کی گرد میں ایک سیاہ لباس پہنے شخص آہستہ آہستہ قافلے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اُس کی لمبی سفید داڑھی تھی، آنکھیں عجیب چمک رکھتی تھیں، اور ہاتھ میں ایک پرانا عصا تھا۔ جیسے ہی وہ قریب آیا، کئی لوگ حیرت سے بول اٹھے: “یہ تو زاہِر بن سلیمان ہے!” نجومی گھوڑے سے اترا، اپنے کپڑوں سے گرد جھاڑی اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: “میں تمہارے پیچھے پیچھے آ رہا تھا” لوگ فوراً اُس کے گرد جمع ہو گئے۔ ہر شخص ایک ساتھ بول رہا تھا۔ “ہم نے عجیب خواب دیکھا ہے!” “سب نے ایک ہی خواب دیکھا!” “بتاؤ اس کی تعبیر کیا ہے؟” زاہِر بن سلیمان چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔ پھر اُس نے آسمان کی طرف دیکھا، آنکھیں بند کیں، اور بہت دیر تک خاموش رہا۔ پورا قافلہ سانس روکے اُس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر اُس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ اُس کے چہرے پر خوفناک سنجیدگی تھی۔ اُس نے نہایت بھاری آواز میں کہا: “یہ خواب، موت کی نشانی ہے” پورے قافلے پر سناٹا چھا گیا۔ کچھ عورتوں کی چیخیں نکل گئیں۔ کئی لوگوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ نجومی نے مزید کہا: “تمہارا ہر اگلا قدم، موت کی طرف بڑھے گا” یہ سنتے ہی جیسے لوگوں کے دل بیٹھ گئے۔ کچھ کے ہاتھوں سے تسبیح گر گئی، کچھ زمین پر بیٹھ گئے، اور کچھ نے خوف سے آسمان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ اُس لمحے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے صحرا کی ہوا بھی رک گئی ہو، اور موت واقعی اُن کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہو۔
کیونکہ بغداد بھر میں مشہور تھا کہ زاہِر بن سلیمان کی بات کبھی غلط ثابت نہیں ہوئی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ اُس نے کئی سال پہلے آنے والے قحط کی پیشگوئی کی تھی، اُس نے ایک بادشاہ کی موت کی خبر پہلے دے دی تھی، اور اُس کے بتائے ہوئے کئی واقعات حیران کن طور پر سچ نکلے تھے۔ اسی لیے اُس کی آواز لوگوں کیلئے صرف ایک نجومی کی آواز نہیں تھی۔ وہ خوف کی مُہر سمجھی جاتی تھی۔ جب اُس نے کہا: “تمہارا ہر اگلا قدم موت کی طرف بڑھے گا” تو لوگوں کے دلوں میں جیسے اندھیرا بھر گیا۔ کچھ لوگ فوراً واپسی کی باتیں کرنے لگے۔ ایک بوڑھا تاجر کانپتی آواز میں بولا: “جان ہے تو جہان ہے۔ عبادت بعد میں بھی ہو سکتی ہے” ایک شخص نے کہا: “اللہ نیت دیکھتا ہے، شاید یہی ہمارے لیے اشارہ ہے کہ واپس لوٹ جائیں” عورتیں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے رونے لگیں۔ کچھ لوگ اونٹوں کا رخ موڑنے لگے۔ قافلے کا امیر بھی شدید پریشانی میں تھا۔ وہ بار بار آسمان کی طرف دیکھتا، پھر نجومی کی باتوں کو یاد کرتا، پھر لوگوں کے خوفزدہ چہروں کو۔ اور پھر آہستہ آہستہ قافلہ ٹوٹنے لگا۔ کچھ لوگ فوراً واپس مڑ گئے، کچھ ابھی تذبذب میں تھے، اور کچھ نے فیصلہ کیا کہ تھوڑا آگے جا کر حالات دیکھیں گے۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ جو لوگ آگے بڑھتے، اُن کے ساتھ واقعی غیرمعمولی واقعات ہونے لگتے۔ کہیں ایک طاقتور اونٹ اچانک زمین پر گرا اور مر گیا۔ کہیں ایک مسافر کا قیمتی سامان پراسرار طور پر غائب ہو گیا۔ کہیں رات کے اندھیرے میں دور پہاڑوں پر آگ کے شعلے دکھائی دیے۔ کہیں اچانک آندھی چلنے لگی۔ کہیں راستہ پہلے سے زیادہ سنسان اور خوفناک محسوس ہونے لگا۔ اور سب سے زیادہ خوفناک بات یہ تھی کہ زاہِر بن سلیمان پہلے ہی یہ نشانیاں بیان کر چکا تھا۔ وہ ہر واقعے پر خاموشی سے کہتا: “میں نے کہا تھا نا، یہ سفر موت کا سفر ہے” اب خوف یقین میں بدلنے لگا تھا۔ لوگ ایک دوسرے سے چیخ چیخ کر کہنے لگے: “یہ واقعی موت کا سفر ہے۔
“ہم تباہ ہو جائیں گے!” “واپس چلو!” پھر ایک ایک کر کے، اور کبھی گروہوں کی صورت میں، لوگ قافلہ چھوڑتے گئے۔ کوئی اپنے بچوں کیلئے ڈر گیا، کوئی اپنی جوانی کیلئے، کوئی اپنے مال کیلئے، اور کوئی صرف اس لیے کہ دوسروں کو واپس جاتا دیکھ کر اُس کا دل بھی کمزور پڑ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ عظیم قافلہ، جو بغداد سے سینکڑوں لوگوں کے ساتھ نکلا تھا، بکھرنے لگا۔ مگر ان سب کے درمیان ایک شخص ایسا بھی تھا، جو خاموشی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ نہ اُس کے چہرے پر خوف تھا، نہ بےچینی۔ اُس کی نظریں دور صحرا کی طرف تھیں، مگر اُس کا دل مدینہ منورہ میں تھا۔ اُس کے ذہن میں صرف ایک خواہش تھی: “روضۂ رسول ﷺ پر حاضری” ایسا لگتا تھا جیسے دنیا کی ہر آواز اُس کیلئے خاموش ہو چکی ہو۔ نہ اُس نے خواب کی پرواہ کی، نہ نجومی کی۔ نہ اونٹوں کی موت نے اُسے روکا، نہ لوگوں کے خوف نے۔ وہ بس خاموشی سے اپنے اونٹ کی مہار پکڑے آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ آخرکار قافلے کے آخری چند لوگ اُس کے گرد جمع ہوئے۔ اُن کے چہروں پر خوف صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ایک شخص نے اُس کا بازو پکڑ کر کہا: “تم سمجھ کیوں نہیں رہے؟ سامنے موت کھڑی ہے! ہم اگلے سال پھر آ جائیں گے” دوسرا بولا: “یہ ضد نہیں، پاگل پن ہے!” تیسرے نے کہا: “تم اپنے آپ کو ہلاک کرنے جا رہے ہو!” مگر وہ شخص خاموشی سے اُن کی باتیں سنتا رہا۔ پھر اُس نے نہایت پرسکون لہجے میں کہا: “اگر تم میں سے کوئی مجھے یہ لکھ کر دے دے کہ اگلے سال تک میں زندہ رہوں گا، تو میں ابھی تمہارے ساتھ واپس لوٹ جاتا ہوں۔ ” یہ سنتے ہی سب خاموش ہو گئے۔ صحرا میں اچانک عجیب سا سکوت پھیل گیا۔ کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔ وہ شخص آسمان کی طرف دیکھ کر دوبارہ بولا: “اور اگر مان بھی لیا جائے کہ راستے میں موت ہے، تو کیا تم مجھے یہ ضمانت دے سکتے ہو کہ واپس جا کر ہمیشہ زندہ رہو گے؟” لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ کیونکہ حقیقت یہی تھی کہ موت کا راستہ صرف صحرا میں نہیں ہوتا، وہ تو ہر انسان کے ساتھ چل رہی ہوتی ہے۔ کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر ایک شخص غصے سے بولا: “اسے چھوڑو! یہ دیوانہ ہو چکا ہے!” دوسرا بولا: “جسے مرنے کا شوق ہو اُسے کون روک سکتا ہے” اور پھر ایک ایک کر کے سب لوگ واپس مڑنے لگے۔ گرد اٹھتی رہی، اونٹوں کی گھنٹیاں دور ہوتی گئیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا قافلہ پلٹ گیا۔ مگر وہ ایک شخص، تنہا رہ گیا۔ وسیع صحرا، خاموش پہاڑ، ٹھنڈی ہوا، اور ایک اکیلا مسافر، جو مکہ اور مدینہ کی طرف بڑھتا جا رہا تھا۔ اُس کے قدم آہستہ تھے، مگر یقین مضبوط تھا۔ کیونکہ بعض لوگ خوف کے سہارے زندہ رہتے ہیں اور بعض محبت کے سہارے سفر طے کرتے ہیں۔
چند ہفتوں بعد وہ تمام لوگ، جو خوف زدہ ہو کر واپس پلٹ گئے تھے، دوبارہ بغداد پہنچ گئے۔ شہر والوں نے جب اتنے بڑے قافلے کو ادھورا واپس آتے دیکھا تو ہر طرف حیرت پھیل گئی۔ لوگ بازاروں میں جمع ہونے لگے، دکانوں کے باہر ہجوم لگ گیا، اور ہر شخص ایک ہی سوال پوچھ رہا تھا: “آخر ہوا کیا ہے؟ تم لوگ واپس کیوں آگئے؟” پھر ان لوگوں نے پورا واقعہ سنانا شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح پورے قافلے نے ایک ہی خوفناک خواب دیکھا، کس طرح مشہور نجومی زاہِر بن سلیمان اچانک صحرا میں ظاہر ہوا، کس طرح اُس نے موت کی پیشگوئی کی، اور پھر راستے میں ایک ایک کر کے ویسی ہی نشانیاں ظاہر ہونے لگیں۔ لوگ سانس روکے یہ سب سنتے رہے۔ کچھ عورتیں خوف سے اپنے بچوں کو سینے سے لگا رہی تھیں، کچھ لوگ استغفار پڑھنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے بغداد میں ایک ہی چرچا پھیل گیا: “نجومی نے موت دیکھ لی تھ” “وہ قافلہ واقعی تباہ ہونے والا تھا” “اللہ نے انہیں واپس لوٹا دیا” ہر گلی، ہر بازار، ہر بیٹھک میں یہی بات ہو رہی تھی۔ مگر انہی دنوں بغداد کے ایک کونے میں بیٹھا اصل نجومی، زاہِر بن سلیمان، یہ سب سن کر حیران رہ گیا۔ اُس کا چہرہ بدل گیا۔ وہ فوراً اپنے گھر سے نکلا اور لوگوں کے ہجوم میں پہنچ گیا۔ پھر بلند آواز میں بولا: “یہ تم لوگ کیا کہہ رہے ہو؟ میں تو بغداد سے نکلا ہی نہیں!” لوگ ایک لمحے کیلئے خاموش ہوئے، پھر شور مچ گیا۔ “جھوٹ بولتے ہو!” “ہم نے اپنی آنکھوں سے تمہیں دیکھا تھا۔ ” “تم نے خود ہمیں موت کی خبر دی تھی۔ کسی نے کہا: “یہ ڈر گیا ہے، اس لیے انکار کر رہا ہے” کسی نے کہا: “یہ ہم سب کو پاگل سمجھتا ہے کیا؟” بات بڑھتے بڑھتے شہر کے قاضی تک جا پہنچی۔ قاضی نے دونوں طرف کی بات سنی۔ ایک طرف سینکڑوں لوگ قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے کہ یہی نجومی صحرا میں آیا تھا، اور دوسری طرف زاہِر بن سلیمان مسلسل یہی کہہ رہا تھا: “اللہ کی قسم، میں بغداد سے ایک قدم باہر نہیں نکلا” قاضی سخت پریشان ہو گیا۔ گواہ بھی موجود تھے، قسمیں بھی، اور ہر شخص کی زبان پر ایک ہی بیان تھا۔ مگر دوسری طرف نجومی کی گھبراہٹ بھی جعلی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ آخرکار معاملہ خلیفۂ بغداد کے دربار تک جا پہنچا۔ دربار بھر گیا۔ امیر، وزیر، سپاہی، علما اور عام لوگ سب موجود تھے۔ خلیفہ نے خود دونوں طرف کی بات سنی، مگر وہ بھی حیران رہ گیا۔ کیونکہ عقل یہی کہتی تھی کہ اتنے لوگ جھوٹ نہیں بول سکتے، مگر نجومی کے چہرے پر بھی سچائی دکھائی دے رہی تھی۔ پورا دربار الجھن میں ڈوبا ہوا تھا۔ آخرکار خلیفہ نے حکم دیا کہ شہر کے ایک نہایت بزرگ، عبادت گزار اور اللہ والے شخص کو بلایا جائے، جن کے بارے میں مشہور تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں خاص بصیرت عطا فرمائی ہے۔ کچھ دیر بعد وہ بزرگ دربار میں داخل ہوئے۔ سفید داڑھی، نورانی چہرہ، اور آنکھوں میں عجیب سکون تھا۔ پورا دربار احترام میں کھڑا ہو گیا۔ خلیفہ نے ادب سے سارا واقعہ سنایا۔ بزرگ خاموشی سے سنتے رہے۔ پھر چند لمحے کیلئے آنکھیں بند کر لیں۔ دربار میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ ہر شخص اُن کے جواب کا انتظار کر رہا تھا۔ اچانک بزرگ ہلکے سے مسکرا دیے، پھر آہستہ آہستہ ہنس پڑے۔ لوگ حیران رہ گئے۔ خلیفہ نے تعجب سے پوچھا: “حضور! پورا شہر خوف میں مبتلا ہے اور آپ ہنس رہے ہیں؟” بزرگ نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور فرمایا: “میں اس لیے ہنس رہا ہوں کیونکہ دونوں سچ بول رہے ہیں” پورا دربار چونک اٹھا۔ لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ خلیفہ نے حیرت سے پوچھا: “یہ کیسے ممکن ہے؟” بزرگ نے نہایت آہستہ مگر پُراثر لہجے میں فرمایا: “اصل نجومی سچ کہتا ہے کہ وہ وہاں نہیں تھا” “اور یہ لوگ بھی سچ کہہ رہے ہیں کیونکہ جو ان کے پاس آیا تھا، وہ انسان نہیں تھا”۔ محفل پر سناٹا چھا گیا۔ لوگوں کے سانس جیسے رک گئے۔ پھر بزرگ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور انہوں نے دھیمی آواز میں فرمایا: “وہ شیطان تھا” یہ سنتے ہی کئی لوگوں کے جسم کانپ اٹھے۔ کسی کے ہاتھ سے تسبیح گر گئی، کسی نے خوف سے اعوذ باللہ پڑھنا شروع کر دیا۔ بزرگ نے فرمایا: “شیطان جانتا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے محبوب ﷺ کے در پر جا رہے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سفر صرف سفر نہیں، دلوں کی حاضری ہے، اس لیے اُس نے پہلے خوابوں کے ذریعے ان کے دلوں میں خوف ڈالا، پھر نجومی کی شکل اختیار کر کے ان کے سامنے آیا” دربار میں مکمل خاموشی تھی۔ بزرگ کی آواز گونج رہی تھی۔ “اور جب کچھ لوگ پھر بھی آگے بڑھے، تو اُس نے راستے میں وہی نشانیاں ظاہر کیں، تاکہ ان کا خوف یقین میں بدل جائے۔ کبھی اونٹ مروا دیا، کبھی راستے میں آگ دکھا دی، کبھی دلوں میں وسوسے ڈال دیے” پھر بزرگ نے درد بھرے لہجے میں فرمایا: “وہ انہیں حج سے روکنا چاہتا تھا، وہ انہیں روضۂ رسول ﷺ سے دور رکھنا چاہتا تھا۔ کیونکہ شیطان جانتا ہے کہ بعض دروازوں تک پہنچنے والا انسان بدل جاتا ہے” یہ سن کر لوگوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ کئی لوگ رونے لگے۔ اُنہیں احساس ہو چکا تھا کہ وہ خوف سے ہار گئے تھے اور شیطان اُن کے دلوں میں وسوسے ڈال کر انہیں اللہ اور اُس کے محبوب ﷺ کے راستے سے واپس موڑ لایا تھا۔
جبکہ دوسری طرف ایک دن مسجدِ نبوی ﷺ میں اچانک اُس اکیلے مسافر کے نام کا اعلان ہوا۔ وہ حیران رہ گیا۔ اُس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس مقدس شہر میں کوئی اُسے جانتا ہوگا۔ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ اُس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ جب وہ قریب پہنچا تو مسجد کے ایک بزرگ عالم نے اُسے محبت سے گلے لگا لیا۔ اُن کی آنکھیں نم تھیں۔ انہوں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا: “رات میں نے ایک نہایت نورانی خواب دیکھا اور اُس خواب میں مجھے بشارت دی گئی کہ تمہارا حج قبول ہو گیا ہے، تمہارے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں کیونکہ تم نے خوف کے مقابلے میں اللہ پر بھروسا کیا” یہ سنتے ہی اُس شخص کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ مسجد کے ستون سے لگ کر بیٹھ گیا اور بےاختیار رونے لگا۔ شاید اُس لمحے آسمان بھی یہ گواہی دے رہا تھا کہ جو انسان خوف، وسوسوں اور شیطانی حملوں کے باوجود اللہ کے راستے پر قائم رہتا ہے، اللہ اُسے کبھی ضائع نہیں کرتا۔ کیونکہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار صرف گناہ نہیں، بلکہ انسان کو نیکی سے روک دینا ہے۔ وہ عبادت سے پہلے دل میں ڈر ڈالتا ہے، نماز میں وسوسے پیدا کرتا ہے، نیک راستے کو مشکل بنا کر دکھاتا ہے، اور انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ “بعد میں کر لینا” “ابھی وقت نہیں” “تم نہیں کر سکتے” مگر جو بندہ ان سب وسوسوں کے باوجود اللہ کے در پر حاضر ہو جائے، وہ اللہ کو اور زیادہ محبوب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ آسان حالات میں عبادت کرنا الگ بات ہے مگر دل پر بوجھ ہونے کے باوجود، خوف کے باوجود، تنہائی کے باوجود، لوگوں کی مخالفت کے باوجود بھی اللہ کا راستہ نہ چھوڑنا، یہی اخلاص کی اصل پہچان ہے۔
اخلاقی سبق
اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ انسان کو گناہ کے ذریعے ہی نہیں بہکاتا بلکہ اکثر وہ اُسے نیکی کے راستے سے ڈرا کر روک دیتا ہے۔
وہ دل میں خوف ڈالتا ہے، وسوسے پیدا کرتا ہے، راستے کو ناممکن بنا کر دکھاتا ہے، اور انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ:
“ابھی وقت نہیں”
“بعد میں کر لینا”
“اگر نقصان ہو گیا تو؟”
“اگر ناکام ہو گئے تو؟”
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان کا ایمان آزمایا جاتا ہے۔
اس قافلے میں سب لوگ عبادت کیلئے نکلے تھے، مگر خوف نے اُن کے قدم روک دیے۔
صرف ایک شخص ایسا تھا جس نے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ موت سے بھاگ کر بھی انسان موت سے نہیں بچ سکتا۔
اگر زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو پھر اللہ کے راستے سے خوف کی وجہ سے پیچھے ہٹ جانا سب سے بڑا نقصان ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
– ہر خوف حقیقت نہیں ہوتا۔
– ہر “منفی اشارہ” اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا۔
– بعض اوقات شیطان انسان کو نیکی سے روکنے کیلئے حالات، لوگوں، خوابوں اور وسوسوں تک کو استعمال کرتا ہے۔
– اور جو شخص اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے ثابت قدم رہتا ہے، اللہ اُسے کبھی ضائع نہیں کرتا۔
اصل کامیابی صرف منزل تک پہنچنا نہیں،
بلکہ خوف، تنہائی، مخالفت اور وسوسوں کے باوجود بھی صحیح راستہ نہ چھوڑنا ہے۔
کیونکہ بعض لوگ حالات دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں،
اور بعض لوگ اللہ پر بھروسا کر کے تاریخ بن جاتے ہیں۔
✦ تحریر: عثمان عاشق
✦ کہانی نمبر: 52
📌 مزید ایسی کہانیوں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں:
👉 https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Z50j7z4ko6GfJw040
![]()

