ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )25 اپریل 1915 عیسوی۔ جزیرہ نما گیلی پولی (Gallipoli) میں ‘چونک بائری’ (Conkbayırı) کی اسٹریٹجک پہاڑی۔ آسٹریلین اور نیوزی لینڈ آرمی کور (ANZAC) کے ہزاروں فوجی تیزی سے پہاڑی کی چوٹی کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔ ان کے مقابلے میں عثمانی فوج کی 57ویں انفنٹری رجمنٹ کے دستوں کا گولہ بارود مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا اور وہ اسٹریٹجک پسپائی اختیار کر رہے تھے۔ عین اسی لمحے، 19ویں ڈویژن کا کمانڈر فرنٹ لائن پر پہنچا۔ لاجسٹک اور سپلائی کی مکمل تباہی کا تجزیہ کرتے ہوئے، اس کمانڈر نے پسپائی اختیار کرتے فوجیوں کو رکنے کا قطعی حکم دیا اور ان سے بندوقوں پر سنگینیں (Bayonets) چڑھوا کر انہیں زمین پر لیٹنے کی عسکری ہدایات جاری کیں۔ اس نے اپنے دستوں کو ایک ایسا خالص اور حتمی عسکری حکم دیا جس نے جنگ کا پورا تزویراتی (Strategic) نقشہ بدل دیا: “میں تمہیں حملہ کرنے کا حکم نہیں دے رہا، میں تمہیں مرنے کا حکم دے رہا ہوں۔ جب تک ہم مریں گے، ہماری جگہ دیگر کمانڈرز اور فوجی دستے لے چکے ہوں گے۔” عثمانی دستوں کے اس غیر متوقع جمود اور سنگینوں کے دفاع کو دیکھ کر پیش قدمی کرتی ہوئی اینزیک (ANZAC) فوج ٹھٹک کر رک گئی اور خندقیں کھودنے پر مجبور ہو گئی۔ اس ایک لمحے کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نے استنبول کو براہ راست قبضے سے بچا لیا۔ یہ 34 سالہ لیفٹیننٹ کرنل مصطفیٰ کمال تھے، جنہوں نے اپنی اسی سرد، محاسبه گیر (Calculating) اور مطلق العنان عسکری و سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ایک جدید، سیکولر اور ریپبلکن ریاست (جمہوریہ ترکیہ) کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔
خاندانی پس منظر اور جسمانی خدوخال
مصطفیٰ کی پیدائش 1881 عیسوی میں سلطنتِ عثمانیہ کے بلقان صوبے کے شہر ‘سالونیکا’ (Salonica – موجودہ تھیسالونیکی، یونان) میں ہوئی۔ ان کے والد علی رضا آفندی ایک کسٹم اہلکار اور سابق فوجی تھے، اور والدہ زبیدہ خانم تھیں۔
تاریخی اور عسکری دستاویزات کے مطابق، مصطفیٰ کمال کے جسمانی خدوخال خالصتاً بلقان اور کاکیشین طرز کے تھے۔ ان کا قد اوسط (تقریباً 1.74 میٹر) اور جسمانی ساخت انتہائی دُبلی لیکن ٹھوس اور متناسب (Slim but athletic build) تھی۔ ان کی رنگت انتہائی سفید تھی، بال سنہرے (Blonde) اور چہرے کی ہڈیاں (Cheekbones) انتہائی نمایاں تھیں۔ ان کا سب سے نمایاں حیاتیاتی پہلو ان کی غیر معمولی حد تک نیلی اور گہری آنکھیں (Piercing blue eyes) تھیں جن میں ایک حتمی اور سرد جمود موجود تھا۔ ان کی نشست و برخاست میں ایک سخت ملٹری ڈسپلن اور آمرانہ تکلف تھا۔ عسکری مہمات کے دوران وہ ہمیشہ ایک بے عیب عثمانی ملٹری یونیفارم اور قراقلی ٹوپی (Kalpak) زیب تن کرتے، اور سیاسی اقتدار کے بعد انہوں نے مکمل طور پر مغربی طرز کے درزی کے سلے ہوئے تھری پیس سوٹ (Tailcoats) اور ٹاپ ہیٹ (Top hat) کا استعمال باقاعدہ ریاستی قانون کے تحت شروع کیا۔
ابتدائی عسکری کیریئر اور طرابلس و بلقان کی جنگیں (1905 – 1913 عیسوی)
مصطفیٰ نے ‘مناستر ملٹری ہائی اسکول’ اور استنبول کی ‘عثمانی ملٹری اکیڈمی’ سے خالص تکنیکی اور عسکری تعلیم حاصل کی اور 1905 میں اسٹاف کیپٹن کے عہدے پر گریجویٹ ہوئے۔ ریاضی میں ان کی غیر معمولی مہارت کی وجہ سے ان کے ایک استاد نے انہیں ‘کمال’ (Perfection) کا لاحقہ دیا تھا۔
1911 عیسوی میں، اٹلی نے عثمانی صوبے طرابلس (موجودہ لیبیا) پر حملہ کیا۔ مصطفیٰ کمال نے رضاکارانہ طور پر خفیہ راستوں سے لیبیا کا سفر کیا اور درنہ (Derna) اور توبروک کے محاذوں پر مقامی عرب قبائل کو منظم کر کے اطالوی فوج کے خلاف گوریلا جنگ کی کمان کی۔ اسی محاذ پر 1912 میں ایک اطالوی فضائی بمباری کے دوران عمارت کا ملبہ گرنے سے ان کی بائیں آنکھ میں شدید چوٹ آئی، جس کی وجہ سے تاحیات ان کی بائیں آنکھ میں ہلکا سا بھینگا پن (Strabismus) پیدا ہو گیا۔ 1912 اور 1913 میں انہوں نے بلقان کی جنگوں میں حصہ لیا اور گیلی پولی کے علاقے کا گہرا جغرافیائی مطالعہ کیا، جو بعد ازاں پہلی جنگِ عظیم میں ان کی فتح کا تکنیکی سبب بنا۔
پہلی جنگِ عظیم کی عسکری کمان (1914 – 1918 عیسوی)
1915 میں گیلی پولی کی مہم میں مصطفیٰ کمال نے ‘انافارتلار’ (Anafartalar) کے محاذ پر برطانوی اور آسٹریلوی افواج کو فیصلہ کن شکست دی۔ اسی جنگ میں ایک شریپنل (Shrapnel) ان کے سینے پر لگا، لیکن ان کی جیب میں موجود گھڑی نے اس دھات کو دل تک پہنچنے سے روک دیا جس سے ان کی جان بچ گئی۔
1916 میں انہیں کاکیشس (Caucasus) کے مشرقی محاذ پر 16ویں کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے ایک شدید برفانی اور لاجسٹک بحران کے باوجود روسی فوج کے خلاف عسکری کارروائی کر کے ‘بتلیس’ اور ‘موش’ کے علاقے واپس چھینے۔
1918 میں، جنگ کے اختتامی ایام میں، وہ شامی-فلسطینی محاذ پر 7ویں آرمی کے کمانڈر تھے۔ جب برطانوی جنرل ایلن بی (Allenby) کے حملے نے عثمانی دفاعی لائنوں کو توڑ دیا، تو مصطفیٰ کمال نے ایک انتہائی منظم اسٹریٹجک پسپائی (Strategic Retreat) کی کمان سنبھالی اور اپنی بچی کھچی فوج کو حلب (Aleppo) کے شمال میں لا کر ایک نئی دفاعی لائن قائم کی، جس نے فوج کے مکمل انخلاء اور بربادی کو روکا۔
جنگِ آزادی اور اناتولیا میں مرکزیت (1919 – 1920 عیسوی)
اکتوبر 1918 میں ‘معاہدہ مدروس’ (Armistice of Mudros) کے تحت پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کی حتمی شکست تسلیم کر لی گئی اور اتحادی افواج (برطانیہ، فرانس، اٹلی، یونان) نے استنبول اور اناتولیا کے حصوں پر عسکری قبضہ کر لیا۔
19 مئی 1919 کو مصطفیٰ کمال 9ویں آرمی ٹروپس کے انسپکٹر کی حیثیت سے استنبول سے بحری جہاز کے ذریعے ‘سامسون’ (Samsun) پہنچے۔ وہاں پہنچتے ہی انہوں نے استنبول کی حکومت کے احکامات ماننے سے ریاستی انکار کر دیا اور عسکری مزاحمت کو منظم کرنا شروع کیا۔ انہوں نے ‘اماسیا سرکلر’ جاری کیا اور پھر ارض روم (Erzurum) اور سیواس (Sivas) میں قومی کانگریس منعقد کر کے یہ حتمی ریاستی مؤقف اپنایا کہ “قوم کی آزادی صرف قوم کے اپنے عزم سے ہی ممکن ہے۔”
23 اپریل 1920 کو انقرہ (Ankara) میں ‘گرینڈ نیشنل اسمبلی’ (TBMM) کا قیام عمل میں لایا گیا، جس نے استنبول کی عثمانی حکومت کے دستخط کردہ ‘معاہدہ سیورے’ (Treaty of Sèvres – جس کے تحت ترکی کو یورپی طاقتوں میں تقسیم کیا جانا تھا) کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
سکاریا کا معرکہ اور عظیم پیش قدمی (1921 – 1922 عیسوی)
یونانی فوج نے برطانوی لاجسٹک حمایت کے ساتھ انقرہ کی طرف دیوہیکل پیش قدمی کی۔ 23 اگست سے 13 ستمبر 1921 تک ‘جنگِ سکاریا’ (Battle of Sakarya) لڑی گئی، جو مسلسل 22 دن اور 22 راتوں تک جاری رہنے والا تاریخ کا طویل ترین فرنٹ لائن ٹکراؤ تھا۔
اس جنگ میں مصطفیٰ کمال نے ایک نیا اور غیر روایتی عسکری نظریہ (Military Doctrine) پیش کیا: “کوئی دفاعی لائن نہیں ہوتی، دفاعی رقبہ ہوتا ہے، اور وہ رقبہ پورا ملک ہے۔” اس حکمت عملی کے تحت یونانی فوج کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔
26 اگست 1922 کو مصطفیٰ کمال نے ‘بüyük Taarruz’ (The Great Offensive) کا حتمی ریاستی اور عسکری حکم جاری کیا۔ عسکری تاریخ کی اس تیز ترین پیش قدمی میں ترک فوج نے محض 14 دن کے اندر یونانی فوج کے پرخچے اڑا دیے اور 9 ستمبر 1922 کو ازمیر (Smyrna) پر قبضہ کر کے اتحادی افواج کو ترکی کے جغرافیائی حدود سے مکمل طور پر بے دخل کر دیا۔
سلطنت کا خاتمہ، جمہوریہ کا قیام اور لوزان معاہدہ (1922 – 1923 عیسوی)
ازمیر کی فتح کے فوراً بعد، 1 نومبر 1922 کو انقرہ کی اسمبلی نے ایک آئینی فرمان کے ذریعے 600 سال پرانی سلطنتِ عثمانیہ (Sultanate) کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ آخری سلطان محمد ششم کو ایک برطانوی جنگی جہاز پر بٹھا کر جلاوطن کر دیا گیا۔
جولائی 1923 میں سوئٹزرلینڈ میں ‘لوزان کا معاہدہ’ (Treaty of Lausanne) طے پایا، جس میں جدید ترکی کی جغرافیائی اور ریاستی سرحدوں کو بین الاقوامی قانونی حیثیت مل گئی۔ 29 اکتوبر 1923 کو مصطفیٰ کمال نے باقاعدہ طور پر ‘جمہوریہ ترکیہ’ کے قیام کا اعلان کیا اور انہیں متفقہ طور پر اس کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔
ریاستی اور آئینی اصلاحات (Kemalist Reforms) (1924 – 1934 عیسوی)
بطور مطلق العنان صدر، مصطفیٰ کمال نے ترکی کے پورے ریاستی، سماجی، اور آئینی ڈھانچے کو خالصتاً مغربی اور سیکولر ماڈل پر از سرِ نو ترتیب دیا۔
3 مارچ 1924 کو انہوں نے ‘خلافت’ کے ادارے کو باقاعدہ ریاستی قانون کے ذریعے ختم کر دیا اور تمام عثمانی شاہی خاندان کو ملک بدر کر دیا۔ 1925 میں ‘ہیٹ لاء’ (Hat Law) نافذ کر کے روایتی عثمانی پگڑی اور فیس (Fez) پر سخت پابندی عائد کر دی گئی اور مغربی لباس کو ریاستی سطح پر لازمی قرار دیا گیا۔
1928 میں ترکی کی سب سے بڑی لسانی تبدیلی کی گئی؛ عربی رسم الخط (Arabic script) کو مکمل طور پر کالعدم قرار دے کر لاطینی حروفِ تہجی (Latin alphabet) متعارف کروائے گئے، جس نے نئی نسل کا عثمانی دستاویزی تاریخ سے براہ راست لسانی رابطہ منقطع کر دیا۔ ریاستی قانون مکمل طور پر سوئس سول کوڈ (Swiss Civil Code) پر منتقل کیا گیا اور 1934 میں خواتین کو ووٹ دینے کا مکمل حق دیا گیا۔ 1934 ہی میں اسمبلی نے مصطفیٰ کمال کو ‘اتاترک’ (Atatürk – ترکوں کا باپ) کا مستقل خاندانی نام (Surname) تفویض کیا۔
وفات (1938 عیسوی)
مسلسل عسکری مہمات اور طویل عرصے تک بے تحاشا شراب اور تمباکو نوشی کے باعث ان کا جگر اور حیاتیاتی نظام تباہ ہو چکا تھا۔ 1937 تک وہ جگر کے سکڑنے کی سنگین بیماری (Cirrhosis of the liver) کا شکار ہو چکے تھے۔
انتہائی خراب طبی حالت کے باوجود انہوں نے 1938 تک ریاستی امور میں اپنا مطلق العنان کنٹرول برقرار رکھا۔ بالآخر 10 نومبر 1938 کو صبح 9 بج کر 5 منٹ پر، استنبول کے ‘دلماباہچے محل’ (Dolmabahçe Palace) میں 57 سال کی عمر میں ان کا طبعی انتقال ہو گیا۔ ان کی لاش کو انقرہ منتقل کیا گیا، اور بعد ازاں 1953 میں ان کے دیوہیکل مقبرے ‘انتکبیر’ (Anıtkabir) میں پورے ریاستی اور عسکری پروٹوکول کے ساتھ دفن کیا گیا۔
تاریخی حوالہ جات:
یہ تمام تاریخی، عسکری اور ریاستی حقائق مصطفیٰ کمال اتاترک کی اپنی پیش کردہ تاریخی دستاویز ‘نطق’ (Nutuk – 1927)، برطانوی جنگی اور سفارتی آرکائیوز، اینڈریو مینگو (Andrew Mango) کی تحقیقی سوانح ‘Atatürk: The Biography of the Founder of Modern Turkey’، اور لارڈ کنروس (Lord Kinross) کی تصنیف ‘Atatürk: The Rebirth of a Nation’ سے لیے گئے ہیں۔
اگر آپ یہ پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇
Mustafa Kemal Atatürk Animated Story:
https://www.facebook.com/reel/1298316049146415
![]()

