Daily Roshni News

رسم ستم ہے کتنی پرانی؟ تحریر۔۔فاریہ اسلم۔۔۔قسط نمبر2

رسم ستم ہے کتنی پرانی؟

تحریر۔۔فاریہ اسلم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ رسم ستم ہے کتنی پرانی؟ تحریر۔۔فاریہ اسلم)جی لگا کر پڑھتا تھا اور اچھے نمبروں سے امتحانات پاس کر تا تھا مگر بڑے ہونے پر اس کا دل تعلیم سے اچاٹ ہو گیا۔ آٹھواں درجہ پاس کر کے اس نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ رضا کے دل کو دھچکا پہنچا۔ اسے خاور سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ سب کی سب خاک میں مل گئیں۔ گردو نواح کے جو رنگ تھے خاور اس میں رنگ گیا۔

اس سے قبل کہ خاور ہاتھوں سے نکل جاتا۔ عابد نے کوشش کر کے اسے ایک دفتر میں

ملازمت دلادی۔

ملکہ بڑی معصوم، بھولی اور سنجیدہ مزاج لڑکی تھی۔ وہ ڈھیلے ڈھالے بد وضع لباس میں بھی خوب جھتی تھی۔ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ خانہ داری کے ہر کام میں ماہر تھی۔

فاخرہ کے سسر اور ساس انتقال کر گئے۔ ملکہ بیاہ کر پردیس چلی گئی اور خاور کی شادی ماجدہ سے ہو گئی۔ اس نے جی بھر کے دلہن کے ناز اٹھائے، ہر طرح کی اسے راحت دی اور چاہا۔ مگر کچھ عمر سے بعد خلاف توقع ایک راز سے پردہ اٹھا۔ ماجدہ بہت ہی شاہانہ مزاج کی ، نہایت ہی تیز و طرار اور چرب زبان لڑکی تھی۔ وہ بہت مغرور واقع ہوئی تھی۔ خود پرستی اور خوش فہمی یہ دو خول تھے جن میں وہ مقید تھی۔ اگر کوئی جائزہ لیتا تو اس کی خود غرضیوں اور بد کلامی کی بڑی لمبی چوڑی فہرست بنتی بس یوں سمجھیے کہ وہ ہوا اور ہوس کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی۔

معمولی سی بات پر اس کی تیوریوں پر بل پڑ جاتے اور اس کے کمرے سے اس قسم کی آوازیں سنائی دیتیں۔

یہ گھر ہے یا کباڑ خانہ … ؟ ” جانے ابا کو اس خاندان میں کیا خوبیاں نظر آئی تھیں جو مجھے

اس بھاڑ میں سلگنے کے لیے جھونک دیا۔“

” جب تمہارے گھر میں کچھ نصیب ہی نہ تھا تو تمہارے ابا و علماں کو تمہاری شادی کی کیا سوجھی تھی؟”

تمہاری بہن تو راج کر رہی ہے اور میں یہاں اپنی قسمت کو رورہی ہوں۔“

جب انسان کی ہوس بڑھ جاتی ہے تو وہ دوسروں کی زندگی بے سکون کر دیتا ہے غرضیکہ گھر میں سرد جنگ چھڑ گئی اور گھر جہنم بن کر رہ گیا۔ شروع شروع میں فاخرہ نے بہو کے زہر یلے طنزیہ اور جلے کٹے فقرے سنے تو اس کا وجود محرومیوں اور مایوسیوں میں کم ہو گیا۔ اس نے تو بھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ ماجدہ جو خود ایک غریب گھرانے کی لڑکی تھی وہ اس کے خاندان کو اس قدر حقیر اور کمتر سمجھے گی۔ جب کہ گھر کے بھی افراد کا حسن سلوک اس کے ساتھ اچھا تھا۔ ہر ایک حسب توفیق اپنا اپنا فرض ادا کر رہا تھا….. ہاں اگر خلوص اور محبت کی کمی تھی تو وہ خود ماجدہ میں ہی تھی۔ اس کی خود غرضیاں اور خواہشات ہی اسے بے سکون کیے ہوئے تھے۔ ناشکر گزار افراد کبھی فلاح نہیں پاتے۔ فاخرہ جب بھی خاور کو پریشان اور خاموش دیکھتی تو موقع ملنے پر چپکے چپکے اسے سمجھاتی ” بیٹے تم دلہن کی کسی بات کا برا نہ مانا کرو وہ ابھی بچی ہے۔ سمجھ آنے پر خود بخود راہ راست پر آجائے گی۔ لیکن ماجدہ کا رویہ نہ بدلا۔ اس نے سارے گھر کو وہ تگنی کا ناچ نچایا کہ سب کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ گھر کی خوشیاں اور سکون اجڑ گئے، خاور نے ہر وقت کی تکرار، معرکہ آرائیوں اور کوفت سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنے ٹھکانے باہر بنا لیے مگر فاخرہ شدید ذہنی انتشار اور بے چینی میں مبتلا ہو گئی۔ اس نے بہو کے طعنے تشنوں کو بڑی بے جگری اور صبر سے برداشت کیا۔ مگر اس کی زندگی عموں کے اندھیرے میں گھرتی چلی گئی۔

ماجدہ چاہتی تھی خاور اپنا آبائی مکان چھوڑ کر اسے علیحدہ گھر میں رکھے اور اپنی ساری تنخواہ اس کے حوالے کر دے اسے ساس سسر کی پر چھائیں تک گوارا نہ تھی۔

شام کو جب دفتر سے خاور تھکا ماندہ گھر آتا تو بجائے اس کا خیر مقدم کرنے کے ماہدہ دنیا جہان کی شکایتوں کی فہرست لے کر بیٹھ جاتی۔ خاور عموماً اس کی باتوں کا جواب خاموشی سے دیتا تھا مگر جب اس کے طعنے تشنے حد سے زیادہ تجاور کر جاتے تو وہ برس پڑتا۔

آخر تمہیں اس گھر میں کیا تکلیف ہے….؟ تم چاہتی ہو میں اپنے ضعیف والدین کو چھوڑ دوں۔ ان سے ترک تعلق کرلوں…؟ میری ماں جس نے عمر بھر اپنی زندگی ہم سب کی راحت و آرام کے لیے بے سکون کرلی۔ اس سے منہ موڑ لوں ….؟ تو یہ میں کبھی نہ کر سکوں گا۔ تم نے آج تک میرے والدین سے خوش دلی سے بات نہیں کی جبکہ میری ماں تمہاری ہر جا و بے جا خواہش و ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ تمہارے ناز و نخرے اٹھاتی ہیں۔ مگر تمہیں ہم سب سے شکایت ہے۔ ماجدہ پلٹ کر کہتی ہاں ہاں سارے جہاں کی برائیاں اور عیب تو مجھے ہی میں ہیں باقی گھر کے سارے لوگ اچھے ہیں۔“

میں پاگل ہو گئی ہوں نا تو مجھے میرے میکے بھیج دو۔ خاور جل کر جواب دیتا۔ میکا میکا سن سن کر میں تنگ آگیا ہوں۔ بڑی ریاست ہے نا تمہارے میکے میں ۔ وہاں جا کر عیش کرو گی۔

تمہاری بلا سے میں عیش کروں یا فاقے کاٹوں تم سے شکایت کرنے نہیں آؤں گی۔

ہاں تو پھر ضرور جاؤ۔ مجھے بھی دیکھنا ہے کہ تمہارا وہاں کتنے دن گزارا ہو گا۔ تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ تمہارے ابا جان شہر بھر کے مقروض ہیں اور نجانے کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ رات دن جوا کھیلتے ہیں۔ یہ سن کر ماجد و رورو کر سارا گھر سر پر اٹھا لیتی۔ خبر دار جو ایک لفظ بھی میرے میکے والوں کے خلاف کہا۔ جیسے تمہارے گھر میں تو دھن برس رہا ہے۔ دو نکے کی نوکری پر بڑا گھمنڈ ہے تمہیں۔

بس اب خاموش ہو جاؤ۔ خاور غصے سے کہتا مگر وہ بڑبڑاتی رہتی۔ اسے بے سکون کرنے کے لیے کوئی کسر نہ اٹھار کھتی اور اس طرح وہ چھوٹا ساکنبہ جہنم بن کر رہ گیا۔

۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2018

Loading