باپ کا بوجھ
تحریر: حقیقت اور فسانہ
انتخاب ۔۔۔ چوہدری اکرام الحق
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ باپ کا بوجھ ۔۔۔ تحریر: حقیقت اور فسانہ ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ چوہدری اکرام الحق)زندگی کی سب سے خوفناک آواز کون سی ہے؟
ایک باپ کا اپنے بیٹے کے سامنے ہاتھ پھیلانا۔
دہلی کی ایک پُرشکوہ حویلی، جہاں کبھی چراغوں کی لو تھی، اب وہاں ایک ادھیڑ عمر شخص اپنے بیٹے عامر کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔ یہ کوئی عام شخص نہیں، یہ تھے سعادت یار خان۔ جن کے دادا نواب شجاعت یار خان کا رعب اس انتہائی درجے کا تھا کہ وہ جس رنگ کی دستار باندھتے، پوری دہلی میں اس رنگ کی دستار باندھنے کی کسی میں جرأت نہ ہوتی۔ لوگ انہیں ’تاجور‘ کہتے تھے۔
مگر نصیب کی ستم ظریفی دیکھیے، آج اسی خاندان کے وارث کی پیشانی پر شکنیں ہیں اور وہ اپنی ریڑھ کی ہڈی توڑ کر اپنے ہی جگر گوشے کے سامنے التجا کر رہا ہے۔
عامر نے اپنے باپ کو دیکھا اور نظریں چرا لیں۔ اسے ایسا لگا جیسے حویلی کی چار دیواری اس کی سانسوں پر بوجھ بن کر بیٹھ رہی ہے۔
’’آپ یہ سب کس لیے کر رہے ہیں، ابا جان؟‘‘ عامر کی آواز میں بیزاری تھی اور شاید تھوڑی سی خوف۔
’’میرے ذمے کچھ قرض ہے، بیٹا۔‘‘ سعادت یار خان نے زمین پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا۔
’’کتنے؟‘‘ عامر نے بے حسی سے پوچھا، اسے یقین تھا کہ کوئی معمولی رقم ہوگی جسے وہ اپنی جیب خاص سے ادا کر دے گا۔
’’اسی لاکھ روپے۔‘‘
یہ سنتے ہی عامر کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔ مٹی کے برتن کی طرح اس کی آنکھوں میں بھی کچھ ٹوٹا۔
’’اسی لاکھ؟!‘‘ اس نے چیخ کر پوچھا، جیسے یہ رقم نہیں بلکہ اس کی زندگی کی کمائی پر ڈاکہ تھا۔ ’’اتنا قرض آپ نے لیا کہاں سے؟ جوئے میں ہارے ہیں؟ کسی عیاشی میں اڑائے ہیں؟‘‘
سعادت یار خان خاموش رہے۔
’’بولیے!‘‘ عامر غصے سے کانپ رہا تھا۔
سعادت یار خان کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ یہ وہی عامر تھا جسے بچپن میں گھوڑے پر بٹھا کر وہ کہا کرتے تھے، ’’دیکھو بیٹا، یہ ساری رعایا تمہارے باپ کا ادب کرتی ہے۔‘‘ آج وہی بیٹا اپنے باپ کے ادب کی دہلیز لانگھ کر بے ادبی کی منزل پر کھڑا تھا۔
’’اے میرے بیٹے!‘‘ سعادت یار خان کی آواز بھاری تھی۔ ’’یہ رقم میں نے اپنی ذات کے لیے خرچ نہیں کی۔‘‘
’’تو پھر کس کے لیے؟ کس نے عنایت فرمائی یہ نوازش؟‘‘ عامر نے طنز کی کمان کھینچی۔
’’ان لوگوں کے لیے، جنہیں تم نے کبھی دیکھا تک نہیں۔‘‘ باپ نے کہا۔ ’’یہ قرض ان خاموش چہروں کی خاطر ہے جو اس حویلی کی دہلیز پر آتے تھے۔ شرفاء کی اولادیں، غیرت مند لوگ جنہیں زمانے نے گردش میں ڈال دیا تھا۔ وہ سوال کرنے سے اس قدر شرماتے تھے کہ ان کا منہ لفظ ادا نہیں کر پاتا تھا۔ میں ان کا چہرہ پڑھ لیتا تھا، عامر۔ میں ان کی آنکھوں کی خاموشی سن سکتا تھا۔ انہیں سوال کرنے کا موقع دیے بغیر، میں ان کی حاجت پوری کر دیتا تھا۔ یہ قرض انہی بے نام لوگوں کی عزت نفس کی قیمت ہے۔‘‘
عامر خاموش کھڑا رہا۔ باپ کا ہر لفظ اس کے وجود کو جھنجھوڑ رہا تھا۔ اس نے سوچا تھا باپ نے اپنی خواہشوں پر پیسہ لٹایا ہوگا، مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا۔ باپ نے تو اپنی ذات کو گھٹا کر، اپنی اولاد کا ورثہ داؤ پر لگا کر دوسروں کی لاج رکھی تھی۔ مگر کیا یہی کمال ہے؟ اسے اپنی ذات پر غصہ آ رہا تھا۔
’’تو اب آپ مجھے اپنا وصی بنانا چاہتے ہیں؟‘‘ عامر نے روکھے پن سے پوچھا، اس کی آواز میں جھنجھلاہٹ تھی۔
’’نہیں۔‘‘ سعادت یار خان نے انتہائی مدھم لہجے میں جواب دیا۔ ’’میں تو صرف تمہیں بتانا چاہتا تھا کہ تمہارا باپ مفلس نہیں، صرف مقروض ہے۔ اور یہ قرض بھی کسی کاروبار میں ڈوبنے سے نہیں ہوا، بلکہ انسانیت کے کاروبار میں بڑھنے سے ہوا ہے۔ میں نے کبھی اپنی اولاد کو بوجھ نہیں سمجھا، تو جو لوگ تمہارے لیے غیر ہیں، کیا وہ کسی اور اولاد نہیں؟‘‘
ⓕ ⓞ ⓛ ⓛ ⓞ ⓦ
Ⓗ Ⓐ Ⓠ Ⓔ Ⓔ Ⓠ Ⓐ Ⓣ
Ⓐ Ⓤ Ⓡ Ⓕ Ⓐ Ⓢ Ⓐ Ⓝ Ⓐ
کمرے میں گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا، مگر دونوں باپ بیٹے کے درمیان وقت کی ایک دیوار حائل تھی۔ عامر نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ بارش شروع ہو چکی تھی اور دہلی کی گلیوں سے گیلی مٹی کی خوشبو اس کی سانسوں میں گھل رہی تھی۔ اسے اچانک بچپن کا ایک منظر یاد آیا۔
وہ اسکول سے آیا تھا اور اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی شخص اس کے باپ سے مل کر رو رہا ہے۔ اس کی شکل دیکھ کر لگتا تھا جیسے وہ کوئی بھکاری ہے، لیکن اس نے صاف ستھرے کپڑے پہن رکھے تھے۔ اس وقت سعادت یار خان نے اپنی جیب سے کچھ نکال کر اس شخص کی مٹھی میں دبایا تھا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا، ’’اللہ بہتر کرے گا۔‘‘
’’ابا جان، وہ کون تھے؟‘‘ عامر نے اس رات کھانے کی میز پر پوچھا تھا۔
’’کوئی نہیں، بیٹا۔ تمہارے ایک چچا تھے۔‘‘ باپ نے مسکرا کر بات ٹال دی تھی۔
’’لیکن وہ تو رونا شروع ہو گئے تھے؟‘‘
’’کبھی کبھی آنکھوں کا نم ہو جانا بھی ایک نعمت ہے، عامر۔ آج وہ اپنی غیرت کا بوجھ ہلکا کر رہے تھے۔ اس دن دعا کرنا کہ کسی کی دعا کا سہارا نہ لینا پڑے۔‘‘
عامر اس وقت بچہ تھا، وہ اس جملے کی گہرائی نہیں سمجھ سکا تھا۔ لیکن آج جب اس نے اپنے باپ کی آنکھوں میں وہی بوجھ دیکھا تو اسے کل کی تمام باتیں سمجھ آ گئیں۔ یہ وہی آنسو تھے جو برسوں پہلے اسے کسی اور کی آنکھوں میں نظر آئے تھے، مگر اس وقت وہ غیرت کے تھے، اور آج شرمندگی کے۔
باہر بارش تیز ہو گئی۔ چھت سے پانی ٹپکنے کی آواز آ رہی تھی، جیسے گھڑی کی سوئیاں وقت کی رفتار ناپ رہی ہوں۔
’’میں یہ قرض اتار دوں گا۔‘‘ عامر نے اچانک کہا۔ اس کی آواز اب پہلے جیسی سخت نہیں تھی۔
’’نہیں۔‘‘ سعادت یار خان نے کراہتے ہوئے جواب دیا۔
’’کیوں نہیں؟‘‘
’’کیونکہ یہ تمہارا قرض نہیں، میری سانسوں کا حصہ ہے۔ میں مرتے دم تک یہ بوجھ اٹھاؤں گا۔ تم فکر نہ کرو۔‘‘
’’لیکن آپ نے مجھے بلایا کیوں؟‘‘ عامر کا لہجہ دھیما پڑ گیا۔
’’کیونکہ ایک باپ جب رخصت ہونے لگتا ہے تو اسے سب سے زیادہ ضرورت اپنی اولاد کی نہیں، بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ اس کی اولاد اسے سمجھ سکے۔ میں تمہارے سامنے قرض اتارنے کے لیے ہاتھ نہیں پھیلا رہا، میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ میرا اپنا بیٹا مجھے میری قبر میں اترنے سے پہلے پہچان لے۔‘‘
یہ سن کر عامر کے پاؤں لڑکھڑا گئے۔ وہ بھاگ کر اپنے کمرے کی طرف گیا اور دروازہ بند کر کے پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ شخص جسے وہ ساری زندگی اپنا باپ کہتا رہا، وہ آج تک اسے جان نہیں پایا تھا۔ اسے اندازہ ہوا کہ اس حویلی کی بنیادیں سونے چاندی کی اینٹوں سے نہیں، انسانیت کے رازوں سے بنی تھیں۔
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ سعادت یار خان کا بستر خالی ہے۔ حویلی کی دہلیز پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ وہ بھاگتا ہوا باہر گیا۔
سعادت یار خان زمین پر لیٹے تھے۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ دل کا دورہ پڑا ہے۔ وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔
عامر نے دیکھا کہ ان کی مٹھی بند تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے وہ مٹھی کھولی تو اس میں ایک پرانا کاغذ تھا۔ اس پر صرف ایک لکیر لکھی تھی: ’’اسی لاکھ کا انتظام ہو گیا ہے۔ تم فکر نہ کرنا۔‘‘
عامر کی Rodani پھوٹ پڑی۔ یہ وہ قرض نہیں تھا جو اس کے باپ نے لیا تھا، یہ وہ قرض تھا جو اس نے اپنی اولاد کو وراثت میں دیا تھا۔ اور اس قرض کا نام تھا ’انسانیت‘۔
اس رات جب سب لوگ چلے گئے، عامر حویلی کی چھت پر اکیلا کھڑا تھا۔ اس نے دور مسجد میں روشنی دیکھی جہاں سے عشاء کی اذان کی آواز آ رہی تھی۔ اذان کے ساتھ ہوا کا ایک جھونکا آیا، اس جھونکے نے گویا اس کے کانوں میں کہا: ’’کبھی کبھی اللہ اپنے بندوں کو اس لیے اٹھا لیتا ہے تاکہ باقی لوگ زمین پر جھک کر ان کی تلاش کریں۔‘‘
اس کی نظروں کے سامنے پوری دہلی پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن اسے ہر گلی، ہر مکان، اور ہر کھڑکی میں صرف ایک ہی چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے باپ کا چہرہ۔ اس نے حویلی کی دہلیز پر کھڑے ہو کر سوچا، کیا واقعی وہ اپنے باپ کا وصی بن سکتا ہے؟ نہیں، وہ جان چکا تھا کہ اسے صرف اپنے باپ کی جائیداد نہیں، ان کی روح بھی سنبھالنی ہے۔
خلاصہ یہ کہ :
وہ باپ کو دفنا آیا تھا، مگر اپنی روح کو زندہ پا گیا۔ وہ قرض اتارنے آیا تھا، مگر نصیب کی ستم ظریفی یہ کہ مقروض خود ہو گیا۔ اس حویلی کی دہلیز سے رخصت ہوئی وہ روح عنایت کر گئی ایک ایسی میراث جو نسلوں تک خرچ ہونے کے باوجود ختم نہ ہوگی۔
اگر آپ یہاں تک پہنچے ہیں… تو اس کا مطلب ہے یہ تحریر کہیں نہ کہیں آپ کو چھو گئی ہے۔ لائک کر کے بتائیں۔
ایسی تحاریر جو دل میں رہ جائیں… حقیقت اور فسانہ کو فالو کریں۔
کمنٹ میں صرف ایک لفظ لکھیں… جو آپ ابھی محسوس کر رہے ہیں۔
💔
![]()

