بارش کی پگڈنڈی
انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عاصم محمود
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بارش کی پگڈنڈی۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عاصم محمود)سوات کی وادیوں میں بارش ہمیشہ عام بارش نہیں ہوتی۔ وہ آتی بھی اچانک ہے اور دل کے اندر کچھ پرانا سا جاگا دیتی ہے۔ پہاڑوں سے گرتا پانی، دھند میں لپٹے درخت اور مٹی کی خوشبو… سب مل کر ایک ایسا منظر بناتے ہیں جیسے وقت تھم گیا ہو۔
اسی وادی کے ایک چھوٹے سے گاؤں “مِران” میں سترہ سالہ زریاب رہتا تھا۔ وہ ایک سیدھا سادہ لڑکا تھا، مگر اُس کی ایک عادت عجیب تھی۔ وہ بارش کے بعد گاؤں سے باہر نکل کر اکیلے پہاڑی راستوں پر چلتا تھا۔
لوگ کہتے تھے وہ “خاموش راستوں” سے بات کرتا ہے۔
زریاب ان باتوں پر ہنستا تھا۔
مگر اندر ہی اندر اسے واقعی کچھ ایسا محسوس ہوتا تھا جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پاتا تھا۔
ایک دن مسلسل بارش کے بعد جب پہاڑ سبز اور دھندلے ہو چکے تھے، زریاب حسبِ معمول گھر سے نکلا۔ اس بار وہ عام راستے سے ہٹ کر ایک پرانی پگڈنڈی کی طرف چلا گیا، جو برسوں سے بند سمجھی جاتی تھی۔
گاؤں کے بڑے کہتے تھے:
“اس راستے پر مت جاؤ… یہ واپس نہیں لاتا۔”
مگر زریاب کے قدم رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
پگڈنڈی تنگ تھی، دونوں طرف گھنے درخت تھے، اور اوپر دھند اتنی تھی کہ چند قدم دور بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔
جوں جوں وہ آگے بڑھتا گیا، ماحول بدلتا گیا۔
ہوا ٹھنڈی ہوتی گئی۔
اور پھر اچانک اسے ایک آواز سنائی دی…
ہلکی سی ہنسی۔
زریاب رک گیا۔
“کون ہے؟”
کوئی جواب نہیں آیا۔
صرف بارش کے قطرے۔
اس نے سمجھا شاید وہم ہے، اور آگے بڑھ گیا۔
مگر کچھ قدم بعد اسے زمین پر ایک چھوٹا سا چاندی کا کڑا نظر آیا۔
وہ جھک کر اٹھانے لگا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک آواز آئی:
“یہ میرا ہے…”
زریاب نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا۔
ایک لڑکی کھڑی تھی۔
سر پر بارش بھیگے بال، آنکھوں میں عجیب سی خاموشی، اور چہرے پر ہلکی سی تھکن۔
“تم کون ہو؟” زریاب نے پوچھا۔
لڑکی نے آہستہ سے کہا:
“میں یہاں کی نہیں ہوں… مگر پھر بھی یہ جگہ مجھے پہچانتی ہے۔”
زریاب کو یہ بات عجیب لگی۔
“یہ راستہ خطرناک ہے، تم یہاں اکیلی کیوں ہو؟”
لڑکی نے زمین کی طرف دیکھا۔
“میں راستہ ڈھونڈ رہی ہوں۔”
“کس کا راستہ؟”
وہ خاموش رہی۔
پھر بولی:
“واپسی کا۔”
زریاب نے اسے دیکھتے ہوئے کہا:
“گاؤں واپس چلتی ہو؟”
لڑکی نے نفی میں سر ہلایا۔
“وہ گاؤں میرا نہیں ہے۔”
یہ جواب سن کر زریاب کو تھوڑا سا خوف محسوس ہوا، مگر ساتھ ہی ایک غیر معمولی کشش بھی تھی جو اسے اس لڑکی کی طرف کھینچ رہی تھی۔
اس نے کہا:
“تو پھر کہاں جانا ہے؟”
لڑکی نے دور دھند میں دیکھتے ہوئے کہا:
“جہاں بارش رکتی نہیں… جہاں راستے ختم نہیں ہوتے۔”
زریاب خاموش ہوگیا۔
اس دن کے بعد وہ لڑکی روز اُسی پگڈنڈی پر نظر آنے لگی۔
زریاب بھی روز وہاں جاتا۔
دونوں کم بولتے تھے، زیادہ تر خاموشی میں ساتھ چلتے تھے۔
لیکن اس خاموشی میں بھی ایک عجیب سا سکون تھا۔
زریاب کو لگتا تھا جیسے وہ لڑکی اُس کی زندگی کا کوئی گمشدہ حصہ ہو۔
ایک دن زریاب نے پوچھا:
“تمہارا نام کیا ہے؟”
لڑکی نے جواب دیا:
“مجھے ناموں سے نہیں پہچانا جاتا۔”
“پھر کیسے؟”
“یادوں سے۔”
زریاب کو یہ بات سمجھ نہ آئی۔
مگر اس کے دل میں ایک سوال ضرور بیٹھ گیا تھا۔
وہ لڑکی کون تھی؟
ایک شام جب بارش بہت تیز تھی، زریاب نے دیکھا کہ لڑکی بہت دیر تک ایک ہی جگہ کھڑی آسمان کو دیکھ رہی ہے۔
“تم کیا دیکھ رہی ہو؟”
لڑکی نے آہستہ سے کہا:
“میں اپنے راستے کا آخری موڑ دیکھ رہی ہوں۔”
زریاب گھبرا گیا۔
“تم جا رہی ہو؟”
لڑکی نے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
“میں کبھی آئی ہی نہیں تھی۔”
زریاب کے لیے یہ جملہ ایک پہیلی بن گیا۔
“یہ کیا مطلب ہے؟”
لڑکی نے قدم آگے بڑھائے۔
“یہ پگڈنڈی ہر کسی کو وہاں لے جاتی ہے جہاں وہ خود کو سمجھ سکے… مگر ہر کوئی واپس نہیں آتا۔”
زریاب نے پہلی بار خوف محسوس کیا۔
“میں تمہیں روک سکتا ہوں!”
لڑکی نے اس کی طرف دیکھا۔
“تم مجھے روک نہیں سکتے، کیونکہ میں پہلے ہی رک چکی ہوں۔”
ہوا اچانک تیز ہوگئی۔
بارش کی آواز بڑھ گئی۔
اور دھند گہری ہونے لگی۔
زریاب نے آگے بڑھ کر اُس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔
مگر اُس کا ہاتھ خالی ہوا کو چھو گیا۔
وہ لڑکی آہستہ آہستہ دھند میں تحلیل ہونے لگی۔
“نہیں! تم کہاں جا رہی ہو؟”
لڑکی کی آواز دور سے آئی:
“میں وہ یاد ہوں جسے تم نے کبھی دیکھا نہیں… مگر ہمیشہ محسوس کیا۔”
زریاب بے اختیار گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
بارش اُس کے چہرے پر گر رہی تھی، مگر اندر ایک عجیب خالی پن تھا۔
کچھ لمحوں بعد سب کچھ خاموش ہوگیا۔
پگڈنڈی بالکل ویران تھی۔
نہ کوئی قدم، نہ کوئی آواز۔
زریاب واپس گاؤں آ گیا، مگر وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔
وہ اکثر اُس راستے پر جاتا، مگر لڑکی دوبارہ کبھی نظر نہ آئی۔
سالوں بعد لوگ کہتے تھے کہ وہ لڑکا پہاڑوں سے باتیں کرتا ہے۔
مگر وہ جانتا تھا کہ وہ پاگل نہیں ہوا۔
وہ صرف اُس راستے کا حصہ بن گیا تھا جو کبھی مکمل نہیں ہوتا۔
اور کبھی کبھی، بارش کے بعد جب دھند پہاڑوں کو ڈھانپ لیتی…
زریاب کو ایسا لگتا جیسے کوئی دور سے کہہ رہا ہو:
“میں کبھی آئی نہیں تھی… میں ہمیشہ راستہ تھی۔”بارش کی پگڈنڈی”
سوات کی وادیوں میں بارش ہمیشہ عام بارش نہیں ہوتی۔ وہ آتی بھی اچانک ہے اور دل کے اندر کچھ پرانا سا جاگا دیتی ہے۔ پہاڑوں سے گرتا پانی، دھند میں لپٹے درخت اور مٹی کی خوشبو… سب مل کر ایک ایسا منظر بناتے ہیں جیسے وقت تھم گیا ہو۔
اسی وادی کے ایک چھوٹے سے گاؤں “مِران” میں سترہ سالہ زریاب رہتا تھا۔ وہ ایک سیدھا سادہ لڑکا تھا، مگر اُس کی ایک عادت عجیب تھی۔ وہ بارش کے بعد گاؤں سے باہر نکل کر اکیلے پہاڑی راستوں پر چلتا تھا۔
لوگ کہتے تھے وہ “خاموش راستوں” سے بات کرتا ہے۔
زریاب ان باتوں پر ہنستا تھا۔
مگر اندر ہی اندر اسے واقعی کچھ ایسا محسوس ہوتا تھا جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پاتا تھا۔
ایک دن مسلسل بارش کے بعد جب پہاڑ سبز اور دھندلے ہو چکے تھے، زریاب حسبِ معمول گھر سے نکلا۔ اس بار وہ عام راستے سے ہٹ کر ایک پرانی پگڈنڈی کی طرف چلا گیا، جو برسوں سے بند سمجھی جاتی تھی۔
گاؤں کے بڑے کہتے تھے:
“اس راستے پر مت جاؤ… یہ واپس نہیں لاتا۔”
مگر زریاب کے قدم رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
پگڈنڈی تنگ تھی، دونوں طرف گھنے درخت تھے، اور اوپر دھند اتنی تھی کہ چند قدم دور بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔
جوں جوں وہ آگے بڑھتا گیا، ماحول بدلتا گیا۔
ہوا ٹھنڈی ہوتی گئی۔
اور پھر اچانک اسے ایک آواز سنائی دی…
ہلکی سی ہنسی۔
زریاب رک گیا۔
“کون ہے؟”
کوئی جواب نہیں آیا۔
صرف بارش کے قطرے۔
اس نے سمجھا شاید وہم ہے، اور آگے بڑھ گیا۔
مگر کچھ قدم بعد اسے زمین پر ایک چھوٹا سا چاندی کا کڑا نظر آیا۔
وہ جھک کر اٹھانے لگا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک آواز آئی:
“یہ میرا ہے…”
زریاب نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا۔
ایک لڑکی کھڑی تھی۔
سر پر بارش بھیگے بال، آنکھوں میں عجیب سی خاموشی، اور چہرے پر ہلکی سی تھکن۔
“تم کون ہو؟” زریاب نے پوچھا۔
لڑکی نے آہستہ سے کہا:
“میں یہاں کی نہیں ہوں… مگر پھر بھی یہ جگہ مجھے پہچانتی ہے۔”
زریاب کو یہ بات عجیب لگی۔
“یہ راستہ خطرناک ہے، تم یہاں اکیلی کیوں ہو؟”
لڑکی نے زمین کی طرف دیکھا۔
“میں راستہ ڈھونڈ رہی ہوں۔”
“کس کا راستہ؟”
وہ خاموش رہی۔
پھر بولی:
“واپسی کا۔”
زریاب نے اسے دیکھتے ہوئے کہا:
“گاؤں واپس چلتی ہو؟”
لڑکی نے نفی میں سر ہلایا۔
“وہ گاؤں میرا نہیں ہے۔”
یہ جواب سن کر زریاب کو تھوڑا سا خوف محسوس ہوا، مگر ساتھ ہی ایک غیر معمولی کشش بھی تھی جو اسے اس لڑکی کی طرف کھینچ رہی تھی۔
اس نے کہا:
“تو پھر کہاں جانا ہے؟”
لڑکی نے دور دھند میں دیکھتے ہوئے کہا:
“جہاں بارش رکتی نہیں… جہاں راستے ختم نہیں ہوتے۔”
زریاب خاموش ہوگیا۔
اس دن کے بعد وہ لڑکی روز اُسی پگڈنڈی پر نظر آنے لگی۔
زریاب بھی روز وہاں جاتا۔
دونوں کم بولتے تھے، زیادہ تر خاموشی میں ساتھ چلتے تھے۔
لیکن اس خاموشی میں بھی ایک عجیب سا سکون تھا۔
زریاب کو لگتا تھا جیسے وہ لڑکی اُس کی زندگی کا کوئی گمشدہ حصہ ہو۔
ایک دن زریاب نے پوچھا:
“تمہارا نام کیا ہے؟”
لڑکی نے جواب دیا:
“مجھے ناموں سے نہیں پہچانا جاتا۔”
“پھر کیسے؟”
“یادوں سے۔”
زریاب کو یہ بات سمجھ نہ آئی۔
مگر اس کے دل میں ایک سوال ضرور بیٹھ گیا تھا۔
وہ لڑکی کون تھی؟
ایک شام جب بارش بہت تیز تھی، زریاب نے دیکھا کہ لڑکی بہت دیر تک ایک ہی جگہ کھڑی آسمان کو دیکھ رہی ہے۔
“تم کیا دیکھ رہی ہو؟”
لڑکی نے آہستہ سے کہا:
“میں اپنے راستے کا آخری موڑ دیکھ رہی ہوں۔”
زریاب گھبرا گیا۔
“تم جا رہی ہو؟”
لڑکی نے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
“میں کبھی آئی ہی نہیں تھی۔”
زریاب کے لیے یہ جملہ ایک پہیلی بن گیا۔
“یہ کیا مطلب ہے؟”
لڑکی نے قدم آگے بڑھائے۔
“یہ پگڈنڈی ہر کسی کو وہاں لے جاتی ہے جہاں وہ خود کو سمجھ سکے… مگر ہر کوئی واپس نہیں آتا۔”
زریاب نے پہلی بار خوف محسوس کیا۔
“میں تمہیں روک سکتا ہوں!”
لڑکی نے اس کی طرف دیکھا۔
“تم مجھے روک نہیں سکتے، کیونکہ میں پہلے ہی رک چکی ہوں۔”
ہوا اچانک تیز ہوگئی۔
بارش کی آواز بڑھ گئی۔
اور دھند گہری ہونے لگی۔
زریاب نے آگے بڑھ کر اُس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔
مگر اُس کا ہاتھ خالی ہوا کو چھو گیا۔
وہ لڑکی آہستہ آہستہ دھند میں تحلیل ہونے لگی۔
“نہیں! تم کہاں جا رہی ہو؟”
لڑکی کی آواز دور سے آئی:
“میں وہ یاد ہوں جسے تم نے کبھی دیکھا نہیں… مگر ہمیشہ محسوس کیا۔”
زریاب بے اختیار گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
بارش اُس کے چہرے پر گر رہی تھی، مگر اندر ایک عجیب خالی پن تھا۔
کچھ لمحوں بعد سب کچھ خاموش ہوگیا۔
پگڈنڈی بالکل ویران تھی۔
نہ کوئی قدم، نہ کوئی آواز۔
زریاب واپس گاؤں آ گیا، مگر وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔
وہ اکثر اُس راستے پر جاتا، مگر لڑکی دوبارہ کبھی نظر نہ آئی۔
سالوں بعد لوگ کہتے تھے کہ وہ لڑکا پہاڑوں سے باتیں کرتا ہے۔
مگر وہ جانتا تھا کہ وہ پاگل نہیں ہوا۔
وہ صرف اُس راستے کا حصہ بن گیا تھا جو کبھی مکمل نہیں ہوتا۔
اور کبھی کبھی، بارش کے بعد جب دھند پہاڑوں کو ڈھانپ لیتی…
زریاب کو ایسا لگتا جیسے کوئی دور سے کہہ رہا ہو:
“میں کبھی آئی نہیں تھی… میں ہمیشہ راستہ تھی۔”
![]()

