ہر کہکشاں میں اربوں
ستارے ہوتے ہیں ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)اس تصویر میں جو چھوٹے چھوٹے روشن نقطے نظر اتے ہیں، وہ ستارے نہیں بلکہ بہت دور کی کہکشائیں ہیں۔ اور ہر کہکشاں کے اندر اربوں ستارے موجود ہوتے ہیں۔ لیکن اس کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں اپنی کائنات کو سمجھنا ہوگا۔
ہم جس سورج کو روز آسمان میں دیکھتے ہیں، وہ بہت بڑا ہے۔ اس کے اندر تقریبا تیرہ لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں۔ ہماری زمین سورج کے مقابلے میں ایک بہت چھوٹے ذرے جیسی ہے۔ سورج کا قطر تقریباچودہ لاکھ کلومیٹر ہے، اور یہی سورج ہمارے پورے نظام شمسی کا مرکز
ہیں۔ہمارا نظامِ شمسی صرف سورج اور زمین تک محدود نہیں۔ اس میں آٹھ بڑے سیارے شامل ہیں مرکری وینس زمین مریخ مشتری زحل یورینس اور نیپچون۔ ان سیاروں کے گرد چاند گھومتے ہیں، اور خلا میں بے شمار چھوٹے پتھریلے اور برفیلے اجسام موجود ہیں
فرض کریں کہ کوئی عام مسافر جہاز خلا میں بھی سفر شروع کریں تو زمین سے چاند تک پہنچنے میں تقریبا 18 دن لگیں گے، اور سورج تک پہنچنے میں تقریبا 19
سال۔ اور ہمارے نظام شمسی کے آخری حصے تک پہنچنے میں موجودہ رفتار سے سفر کرنے والی مشینوں کو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں سال لگ سکتے ہیں۔
روشنی جو ایک سیکنڈ میں تقریبا تین لاکھ کلومیٹر سفر کرتی ہے، سورج سے زمین تک تقریبا 8 منٹ میں پہنچتی ہے۔ لیکن نظام شمسی کے دور دراز حصوں تک اسے کئی گھنٹے سے لے کر ایک سال یا اس سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے۔
لیکن یہ سب کچھ بھی کائنات کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔
ہمارا نظام شمسی ایک بہت بڑی کہکشاں کا حصہ ہے جسے ملکی وے کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کہکشاں ہے جس میں ہمارا سورج موجود ہے۔
ملکی وے تقریبا ایک لاکھ سے ایک لاکھ بیس ہزار نوری سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ اگر ہم روشنی کی رفتار سے بھی سفر کریں تو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچنے میں تقریباً ایک لاکھ سال لگ جائیں گے۔
اس کہکشاں میں تقریبا 100 ارب سے 400 ارب تک ستارے موجود ہیں۔ یعنی بے شمار سورج۔
کچھ ستارے ہمارے سورج سے کئی گنا بڑے اور زیادہ گرم ہیں، اور کچھ اپنی زندگی کے آخر میں طاقتور دھماکوں کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ ہمارا سورج ان سب کے درمیان ایک عام سا ستارہ ہے۔
اور یہاں پر روکھ کر زرا سوچو۔سورج اپنی تمام سیاروں کے ساتھ تقریبا 220 کلومیٹرز فی سیکنڈ کے رفتار سےکہکشاں کے مرکز کے گرد گردش کرتا ہے، اور ایک چکر مکمل کرنے میں تقریبا 225 سے 250 ملین سال لگتے ہیں۔ یعنی صرف ایک چکر۔اور جب زمین پر ڈائنوسار موجود تھے، تب سورج اپنی موجودہ جگہ سے بالکل مختلف مقام پر تھا۔
اب اگر ہم اس تصویر کو دوبارہ دیکھیں تو اس میں ہزاروں یا لاکھوں کی کہکشائیں ہو سکتی ہیں تصویر کے اس چھوٹے خصے میں تو سوچیں پورے کائنات میں کتنے کہکشائیں ہوگی اور
ہر کہکشاں میں اربوں ستارے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس ایک تصویر میں اتنے ستارے ہو سکتے ہیں جنہیں گننا تقریبا ناممکن ہے۔یعنی کائنات اتنی بڑی ہے کہ روشنی کی سپیڈ تو چھوڑ۔ انسانی سوچھنے کے سپیڈ بھی بےبس ہوجاتا ہے
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم جو روشنی دیکھ رہے ہیں وہ آج کی نہیں ہے۔ یہ روشنی اربوں سال پہلے ان کہکشاؤں سے نکلی تھی۔ جب ہم اس تصویر کو دیکھتے ہیں تو ہم دراصل ماضی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
ممکن ہے کچھ کہکشائیں اب بدل چکی ہوں، کچھ ٹکرا چکی ہوں، اور کچھ ختم ہو چکی ہوں، لیکن ان کی پرانی روشنی آج بھی خلا میں سفر کرتی ہوئی ہم تک پہنچ رہی ہے ۔
تخریر۔۔۔عالم نامہ Aalam nama
![]()

