Daily Roshni News

احساس کمتری کے حصار کو توڑیں۔۔۔ تحریر۔۔۔مشکور الرحمنٰ

احساس کمتری کے حصار کو توڑیں

تحریر۔۔۔مشکور الرحمنٰ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ احساس کمتری کے حصار کو توڑیں۔۔۔ تحریر۔۔۔مشکور الرحمنٰ)میں ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتی ہوں۔ جی لگا کے پڑھتی بھی ہوں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہجب کلاس میں نچر کوئی سوال کرتی ہیں توجواب نہیں دے پاتی۔ حالانکہ مجھے سب کچھ معلوم ہوتا ہے۔ لیکنزبان بند ہو جاتی ہے۔ دراصل احساس کمتری کی علامتیں ہیں۔ کمتری کا احساسپیدائشی نہیں ہوتا۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے اپنے ارد گرد کے لوگوں پر نمایاں مقام اور حیثیت حاصل ہو یا پھر کم از کم وہ ان لوگوں کیبرابری کی سطح پر ہو۔ احساس کمتری خود کو کسی سے کم تر ، سمجھنے، کسی محرومی کا شکار ہونے، اور خود تری میں مبتلا ہونے کا نام ہے۔ یہ کیفیت زندگی میں پیش آنے والے مختلف حالات سے تعلق رکھتی ہے۔کچھ افراد کا ناخوشگوار یا محرومیوں بھرا بچین انہیں احساس کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے، جبکہ کچھ زندگی میں کوئی بڑا مالی یا جذ باقی نقصان اٹھانے کے بعداس کیفیت میں پھنس جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خود ترسی اور احساس کمتری دماغی کار کردگی اور صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ یہ دراصل کسی شخص کو ہمیشہ منفی پہلوکی طرف متوجہ رکھتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے اندر یا اپنے ارد گرد موجود مثبت چیزوں کو دیکھنے سے محرومرہ جاتا ہے۔احساس کمتری کی کیفیت سات سال کیعمر سے پہلے نہیں ہوتی۔ سات سال کے بعد انسان میں اس بات کا شعور بیدار ہوتا ہے کہ اس کی اردگرد کے لوگوں میں کیاحیثیت ہے….. ؟ فرض کریں سات سال کی عمر میں کسی کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اس کے والدین اس کے دوسرے بہن بھائیوں کی نسبت اس پر کم توجہ دیتے ہیں یا وہ اس کو دوسروں کیالرحمننسبت کند ذہن اور بے وقوف خیالکرتے ہیں وہ بار بار اس کو اس کا احساس بھی دلاتے ہیں جس پر وہ اکثر اداس ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں جو کیفیت طاری ہوتی ہے اس کو احساس کمتری کہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگر والدین نے اس پر توجہ نہ دی تو یہ احساس بڑھتا چلا جائے گا۔وہ شخص خیال کرنے لگتا ہے کہ اب وہ چاہے کچھ بھی کرلیں۔ اپنے والدین یا دیگر گھر والوں کی نظروں میں ایک اعلیٰ مقام حاصل نہیں کر پائے گا، اسے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ جیسے اس نے کوئی جرم کیا ہو اور اب زندگی انتہائی فضول سی شے ہے۔ یہی سوچ اور احساس اکثر اوقات کئی نفسیاتی عوارض کا سبب بن جاتے ہیں۔ بعض افراد میں احساس کمتری کے باعث دانتوں سے ناخن کاٹنے کی عادت پڑ جاتی ہے بعض بات بات پر چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں اور بہت سے ہر وقت روتی صورت بنائے پھرتے ہیں جبکہ بہت سوں کو رات کو ڈراؤنے اور بھیانک خواب آنے لگتے ہیں۔یہ سوچ اکثر غلط ہوتی ہے کہ والدین کو محبت نہیں یاوہ دیگر بہن بھائیوں کے مقابلے میں کسی کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اس غلط سوچ پر یقین کے باعث کئی لوگ اپنی زندگی کو بلا وجہ غیر ضروری پریشانیوں اور تناؤ سےبھر دیتے ہیں اور پھر ان حالات سے باہر نکلنا نا صرف مشکل بلکہ اکثر ان کے بس سے باہر ہو جاتا ہے۔ضرورت سے زائد جارحیت پسندی اور ضرورت سے زائد انکساری … دونوں ہی غیر دانش مندانہ ہیں۔ احساس کمتری سے چھٹکارا پانے کا بہترین حل لوگوں میں زیادہ سے زیادہ گھلنا ملنا ملاقاتیں کرنا اور نئے نئے دوست بنانا ہے۔ زندگی کی مشکلات اور ذمہ داریوں سے فرار کسی مسئلے کا حل نہیں۔احساس کمتری میں مبتلا افراد کے لیے ایک تحقیدی جائزہ بہتر ہو گا۔ ٹھنڈے مزاج سے سوچیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی والدین اپنی اولاد سے محبت نہ کرتے ہوں یا وہ اپنی کسی اولاد پر دیگر بچوں کی نسبت کم توجہ دیتے ہوں یا اسے کم پسند کرتے ہوں ؟ہرگز نہیں! یہ بھی ممکن نہیں کہ کوئی اس دنیا کی سب سے کند ذہن اور احمق ترین ہستی ہو۔

یاد رکھیے! اس دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک احمق اور بے وقوف پڑا ہے ایسے نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جو عقل میں، شکل و صورت میں اور مالی حالات میں دوسروں سے انتہائی کم تر ہوں گے۔ ان باتوں پر یقین کرنے سے خود اعتمادی کا جذبہ مضبوط ہور ہا ہے اور شخصیت میں قابل قدر اور قابل توجہ تبدیلیاں پید اہو رہی ہیں۔عموما دیکھا گیا ہے کہ احساس کمتری میں مبتلا اکثر لڑکیاں شادی کے بعد اس کیفیت سے نجات حاصل کر لیتی ہیں۔ ان میں خود اعتمادی اور خود پسندی کا عنصر پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں ایک بے پناہ پیار کرنے والا شوہر مل جاتا ہے جو انہیں قدم قدم پر یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کی حیثیت کتنی اہم ہے۔ ان کی بو کی ان کے لیے کتنی ضروری ہے اور اگر دو نہ ہو تیں تو ان کے لیے زندگی گزارنی کتنی مشکل اور دشوار ہوتی۔ شوہر کی طرف سے اپنے لیے یہ ریمارکس احساس کمتری میں مبتلا کسی بھی لڑکی کے لیے توانائی کا کام کرتے ہیں۔ انہیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ان کی اپنے بارے میں جو رائے تھی وہ غلط تھی وہ اتنی کم تر اور کم حیثیت کی حامل ہر گز نہیں جتنا وہ سمجھتی تھیں۔ یہی سوچ کئی خواتین میں احساس کمتری کے اثرات زائل کرنے کا سبب بن جاتی ہے اور ان میں محمود اعتمادی اور محمود پسندی پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ احساس کمتری کا علاج یا اس سے نجات اس قدر آسان نہیں بلکہ یہ ایک انتہائی سست رفتار اور وقت طلب کام ہے ۔ بچپن میں پیدا ہونے والا یہ احساس اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتا لیکن قوت ارادی اور خود اعتمادی سے اس کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔

بشکریہ ماہنامہ  روحانی  ڈائجسٹ مئی 2018

Loading