یومِ عرفہ
ایک دن کا روزہ، دو سال کی مغفرت اور معرفتِ الٰہی کا سفر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ذوالحجہ کی نویں تاریخ، جسے ہم یومِ عرفہ کہتے ہیں، صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ یہ کائنات کے مالک کی طرف سے اپنے گناہ گار بندوں کے لیے رحمتوں کی برسات کا دن ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب آسمانِ دنیا پر اللہ کی خاص تجلیات کا نزول ہوتا ہے۔ ایک طرف میدانِ عرفات میں لاکھوں حجاجِ کرام اپنے رب کے سامنے گریہ و زاری کر رہے ہوتے ہیں، تو دوسری طرف جو لوگ وہاں نہیں پہنچ پائے، ان کے لیے اللہ نے روزہ رکھنے کی صورت میں اس نورانی قافلے کا ہمسفر بننے کا موقع عطا فرما دیا ہے۔
یہ دن دراصل توبہ کی قبولیت، رب کے قرب، دعاؤں کی مستجابی اور گناہوں سے زنگ آلود دلوں کو دھونے کا دن ہے۔
قرآنِ کریم میں یومِ عرفہ کا مقام
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اس دن کی عظمت پر یوں مہر تصدیق ثبت فرمائی:
“الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا”
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔”
(سورۃ المائدہ: 3)
مفسرینِ کرام فرماتے ہیں کہ یہ عظیم الشان آیتِ کریمہ یومِ عرفہ کے دن ہی نازل ہوئی تھی۔ گویا یہ دن تکمیلِ دین، اتمامِ نعمت، اور کائنات کے سامنے رضائے الٰہی کے اعلان کا تاریخی دن ہے۔
ایک دن کا روزہ اور گناہوں کا کفارہ
جہاں حجاجِ کرام میدانِ عرفات میں مصروفِ عبادت ہوتے ہیں، وہیں مقیم (غیر حاجی) مسلمانوں کے لیے اس دن کا روزہ رکھنا سنتِ مؤکدہ اور عظیم ترین سعادت ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ کی ذات سے پکی امید ہے کہ یہ گزشتہ ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔”
(صحیح مسلم)
ذرا دل سے سوچیے! ایک دن کی بھوک اور پیاس کے بدلے ربِ کریم ہمارے پچھلے ایک سال کی لغزشیں بھی معاف فرما رہا ہے اور آنے والے سال کے لیے بھی گناہوں سے حفاظت کی بشارت دے رہا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں اور بے حساب رحمت کا کھلا دروازہ نہیں تو اور کیا ہے؟
عرفہ کا باطنی مفہوم: معرفتِ الٰہی
لفظ “عرفہ” کا گہرا تعلق “معرفت” (پہچان) سے ہے۔ اہل اللہ اور صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ:
“جس نے عرفہ کا دن پایا اور اپنے رب کو نہ پہچانا، اس نے عرفہ کی حقیقت کو پایا ہی نہیں_۔”
یہ دن ہمیں اپنی اوقات، اپنی کمزوری اور اپنے فقر کا احساس دلاتا ہے تاکہ ہمارے دل میں اللہ کی عظمت کا شعور بیدار ہو۔ اسی لیے عرفہ کا روزہ صرف پیٹ کا روزہ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے نفس کی سرکشی کو توڑنے، انا کو مٹانے اور روح کو اپنے خالق کے حضور جھکانے کا نام ہے۔
میدانِ عرفات اور روزے دار کا روحانی ربط
جب میدانِ عرفات میں لاکھوں انسان سفید کفن نما احرام باندھے، زبان پر لبیک کی صدائیں سجائے، روتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں، تو وہ منظر زمین پر “قیامت کے دن” کا نقشہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ ہر طرف عاجزی، ندامت اور آہیں ہوتی ہیں۔
ہم جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں، جب اس دن روزہ رکھتے ہیں، تو گویا ہم بھی اپنے باطن میں ایک چھوٹا سا عرفات قائم کر لیتے ہیں۔ جسم بھوکا ہوتا ہے، روح پیاسی ہوتی ہے، اور دل حجاج کے ساتھ دھڑک رہا ہوتا ہے۔ یوں ہم بھی اس نورانی قافلے کی برکات میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔
اس مبارک دن کے باطنی اثرات
جب بندہ سچے دل سے اس دن کا روزہ رکھتا ہے، تو اس کے اندر چند واضح تبدیلیاں جنم لیتی ہیں۔
دل کا نرم ہونا: بھوک اور پیاس نفس کی سختی کو پگھلا دیتی ہے اور دل گریہ و زاری کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
دعاؤں میں تاثر:روزے دار کی دعا اور وہ بھی عرفہ کے دن، رد نہیں کی جاتی۔
روحانی سکون (سکینہ):کثرتِ ذکر اور استغفار سے دل پر ایک عجیب سا سکون اترتا ہے۔
گناہوں سے بیزاری: اس دن کا نور دل کو بیدار کر دیتا ہے، جس سے برائیوں سے خود بخود نفرت ہونے لگتی ہے
یومِ عرفہ کو کیسے گزاریں؟ (بہترین عبادات)
اس دن کو عام دنوں کی طرح غفلت میں بالکل نہ گزاریں۔ اس دن کے ایک ایک لمحے کو قیمتی بنائیں۔
1.روزہ رکھیں: اگر کوئی عذر نہ ہو تو یہ فضیلت ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
-
استغفار اور توبہ: اپنے پچھلے تمام گناہوں کو یاد کر کے اللہ سے سچی معافی مانگیں۔
-
تکبیراتِ تشریق: ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے تکبیرات پڑھنا نہ بھولیں۔
-
یہ خاص ذکر: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس دن کی بہترین دعا یہ ہے:
“لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ”
سالک اور طالبِ حق کے لیے پیغام
اہلِ معرفت کا کہنا ہے کہ:
“عرفہ کا دن دراصل دل کے عرفات میں کھڑے ہونے کا نام ہے۔”
یعنی انسان اپنی دنیاوی خواہشات کے ہجوم سے تھوڑی دیر کے لیے باہر نکلے، کسی کونے میں تنہا بیٹھے، آنکھوں میں شرمندگی کے دو آنسو لائے اور اپنے مالک کے سامنے ٹوٹ جائے۔ یاد رکھیے، اللہ کو سجدوں کی گنتی سے زیادہ بندے کا ٹوٹا ہوا اور نادم دل پسند ہے۔ یہ دن سچی توبہ کے ذریعے اپنی روح کو واپس اس کے اصل مرکز (اللہ) کی طرف لوٹانے کا دن ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں یومِ عرفہ کی ان ظاہری اور باطنی برکتوں سے مالامال فرمائے۔ ہمیں اس دن کا روزہ خلوصِ نیت کے ساتھ رکھنے کی توفیق دے۔ ہمارے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف فرما کر ہمارے دلوں کو اپنی محبت، معرفت اور قرب کا نور عطا فرمائے۔
آمین، یا رب العالمین۔
#Khaak_e_rawan
![]()

