Daily Roshni News

کیا چیونٹیاں واقعی ایک دوسرے سے “بات” کرتی ہیں؟ قرآن کا ایک حیرت انگیز بیان اور جدید سائنس کی دریافت

کیا چیونٹیاں واقعی ایک دوسرے سے “بات” کرتی ہیں؟ قرآن کا ایک حیرت انگیز بیان اور جدید سائنس کی دریافت

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)انسان جب پہلی بار کسی دیوار کی اوٹ یا کچی مٹی پر چیونٹیوں کی ایک طویل قطار کو نظم کے ساتھ چلتے دیکھتا ہے، تو مادی نظر میں اسے شاید یہ صرف چند معمولی اور حقیر سے کیڑے محسوس ہوتے ہیں جو بے مقصد انداز میں اِدھر اُدھر دوڑ رہے ہیں۔ لیکن سچی ریسرچ کے ترازو پر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جدید مائیکرو بائیولوجی اور حشرات دانوں نے جب چیونٹیوں کی اس پُر اسرار دنیا کا گہرائی سے مطالعہ کیا، تو معلوم ہوا کہ یہ ننھی سی مخلوق ایک حیرت انگیز سماجی نظام، محیر العقول کالونی، باقاعدہ داخلی ذمہ داریوں کی تقسیم اور ایک انتہا درجے کے پیچیدہ مواصلاتی نظام (Communication Network) کی حامل ہے۔

اور کائنات کا سب سے بڑا علمی معجزہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے آج سے چودہ سو سال پہلے، اس وقت جب انسان حشرات کے شعور سے بالکل اندھا تھا، ایک ایسا لافانی واقعہ بیان کیا جس میں ایک مخلص چیونٹی اپنی پوری برادری اور کالونی کو آنے والے ایک مہیب خطرے سے باقاعدہ الرٹ (Alert) کرتی ہے۔

اللہ رب العزت کلامِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾

“یہاں تک کہ جب وہ (سلیمان علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ) چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے، تو ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو! اپنے گھروں (بلوں) میں داخل ہو جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں (اپنے پیروں تلے) کچل ڈالے اور انہیں (تمہارے کچلے جانے کی) خبر بھی نہ ہو۔” — (سورۃ النمل: 18)

وحیِ الٰہی کے اس جلال والے بیان میں اگر ہم تدبر کے اوزاروں سے دیکھیں، تو اس میں محض ایک چیونٹی کی معمولی آواز کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر چیونٹیوں کی نفسیات اور سماجی بائیولوجی کے کئی ایسے چونکا دینے والے پوشیدہ حقائق موجود ہیں جنہیں جدید سائنس آج جا کر تسلیم کر رہی ہے:

پہلا نکتہ: اس ننھی چیونٹی نے دور سے آتے ہوئے لشکر کی ہولناک چاپ اور خطرے کو اس کی اصل نوعیت کے ساتھ بالکل درست پہچانا۔

دوسرا نکتہ: اس نے خطرہ دیکھ کر صرف اپنی جان بچانے کی خود غرضی نہیں دکھائی، بلکہ اپنے پورے معاشرے اور کالونی کو بچانے کے لیے ایک اجتماعی الارم (Alarm) جاری کیا۔

تیسرا نکتہ: اس نے انتہا درجے کے منظم اور عسکری انداز میں کمانڈ دیتے ہوئے کہا: “اپنے مخصوص گھروں کے اندر داخل ہو جاؤ”۔

چوتھا نکتہ: اور سب سے زیادہ حیرت انگیز اور صوفیانہ پہلو یہ ہے کہ اس چیونٹی نے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے سیدنا حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کے مجاہدین کی نیت پر کوئی برائی یا ظلم کا الزام نہیں لگایا، بلکہ ان کا اخلاقی عذر پیش کرتے ہوئے کہا کہ “وہ بے خبری میں ایسا کریں گے، یعنی وہ تمہارے وجود کا شعور نہیں رکھتے ہوں گے”۔

یہ گفتگو حیرت انگیز طور پر ایک مخلص، باحیا اور منظم سماجی شعور (Social Intelligence) کی آخری حد کو ظاہر کرتی ہے۔

آج چیونٹیوں کے مطالعے کے عالمی ماہرین، جنہیں سائنسی اصطلاح میں “مائرمیکولوجسٹ” (Myrmecologists) کہا جاتا ہے، اپنی عمریں لیبارٹریوں میں کھپا کر کائنات کو یہ بتا رہے ہیں کہ چیونٹیاں محض کوئی بے شعور حشرات نہیں ہیں بلکہ وہ زمین پر انسانوں کے بعد سب سے زیادہ منظم سماجی زندگی گزارنے والی مخلوق ہیں۔ البتہ ان کی “بات چیت” اور زبان ہم انسانوں کی طرح آواز کے تاروں، لغوی الفاظ یا گرائمر کے جملوں پر مشتمل نہیں ہوتی؛ بلکہ قدرت نے ان کے چھوٹے سے وجود کے اندر حیاتیاتی اشاروں، مخصوص کیمیائی سگنلز، لمس کی حس اور زمین کے ارتعاشات کا ایک ایسا ڈیجیٹل نیٹ ورک بچھا رکھا ہے جس کی رفتار روشنی کی طرح تیز کام کرتی ہے۔

چیونٹیوں کے باہمی رابطے کا سب سے مانا ہوا اور مہیب ترین سائنسی ذریعہ “فیرومونز” (Pheromones) کہلاتا ہے۔ یہ دراصل ایک خاص قسم کے انتہائی تیز رفتار حیاتیاتی کیمیائی مادے (Chemical Signals) ہوتے ہیں، جو چیونٹیاں اپنے جسم کے مختلف غدود (Glands) سے وقت اور ضرورت کے مطابق خارج کرتی رہتی ہیں۔ قدرت کے اس مائیکرو اسکوپک سافٹ ویئر کے اندر ہر ایک فیرومون کیمیکل کی بو کا ایک بالکل الگ، واضح اور اٹل مطلب مقرر ہوتا ہے، جسے دوسری چیونٹیاں اپنے سر پر لگے ہوئے دو اینٹینا (Antennae) کی مدد سے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ڈی کوڈ (Decode) کر لیتی ہیں۔

حشرات دانوں کی ریسرچ کے مطابق ان کیمیکلز کی مختلف اقسام درج ذیل پیغامات منتقل کرتی ہیں:

خوراک کا سراغ (Trail Pheromones): جب کسی اسکاؤٹ چیونٹی کو کہیں چینی یا خوراک کا بڑا ذخیرہ ملتا ہے، تو وہ وہاں سے واپس کالونی کی طرف آتے ہوئے زمین پر اس کیمیکل کی ایک نادیدہ لکیر چھوڑتی جاتی ہے، جسے سونگھتے ہوئے باقی لاکھوں چیونٹیاں سیکنڈوں میں بنا کوئی راستہ بھولے اس خوراک پر پہنچ جاتی ہیں۔

خطرے کا الارم (Alarm Pheromones): یہ سب سے زیادہ چونکا دینے والا نکتہ ہے؛ جب کوئی چیونٹی اپنے بل کے دہانے پر کسی انسان کا پیر یا کوئی بڑا خطرہ دیکھتی ہے، تو وہ فوراً ہوا کے اندر ایک خاص “الارم فیرومون” سپرے (Spray) کر دیتی ہے۔ یہ کیمیائی سگنل دھویں کی طرح چند ہی لمحوں میں پوری وادی اور کالونی کے اندر پھیل جاتا ہے، جسے سونگھتے ہی تمام چیونٹیاں اپنی سستی چھوڑ کر جنگی دفاعی پوزیشن میں آ جاتی ہیں اور فوراً اپنے بلوں کی گہرائی میں بھاگ جاتی ہیں۔ کیا یہ بالکل وہی منظر نہیں ہے جس کا نقشہ سورۃ النمل کی آیت 18 میں کھینچا گیا ہے؟

اس کے علاوہ، جدید نیوروسائنس اور بائیولوجی یہ بھی ثابت کر چکی ہے کہ بہت سے انواع کی چیونٹیاں اپنے جسم کے پچھلے حصوں (Abdomen) کو آپس میں رگڑ کر ایک خاص قسم کا باریک ارتعاش “اسٹریڈولیشن” (Stridulation) پیدا کرتی ہیں۔ یہ ارتعاش زمین کے اندر صوتی لہروں (Acoustic Waves) کی طرح گونجتا ہے، جس سے وہ بلوں کے اندر بیٹھی ہوئی اپنی برادری تک زمین دوز پیغام پہنچاتی ہیں۔ یعنی چیونٹیوں کے پاس مٹی کے نیچے بھی ایک مکمل اور فعال وائرلیس مواصلاتی نظام موجود ہے۔

یہاں علمِ عقل اور سچی تحقیق کا یہ بنیادی اصول سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ جب قرآن یا سائنس یہ کہتی ہے کہ “چیونٹیاں آپس میں بات کرتی ہیں”، تو اس کا یہ مادی مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ انسانوں کی طرح باقاعدہ ہونٹ ہلا کر اردو یا عربی بولتی ہیں۔ بلکہ اس کا سچا علمی مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے تک معلومات کا تبادلہ کرنے، احکامات دینے، راستے کی گائیڈنس فراہم کرنے اور موت کے خطرے کے پیغامات کو کامیابی سے منتقل کرنے کی وہ تمام صلاحیتیں اپنے اندر سو فیصد رکھتی ہیں جو کسی بھی ترقی یافتہ زبان کا اصل مقصد ہوتا ہے۔

اور یہی وہ لاجواب مقام ہے جو اج کے پڑھے لکھے انسان کو ورطہِ حیرت میں ڈال کر اپنے رب کے حضور سجدے میں گرا دیتا ہے۔ سوچیے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے کے اس جاہلیت اور اندھیرے دور میں، جب دنیا میں نہ کوئی مائیکرو اسکوپ موجود تھی، نہ حشرات کے سماجی رویوں پر ریسرچ کرنے والی کوئی تجربہ گاہ تھی، اور نہ ہی انسان چیونٹی کو ایک معمولی رینگنے والے کیڑے سے زیادہ کچھ سمجھتا تھا؛ اس تاریک عہد میں کائنات کی کون سی ایسی ہستی تھی جس نے ریگستان کے امّی نبی ﷺ کے قلبِ مبارک پر ایک چیونٹی کے اس اندرونی جماعتی نظم اور اس کی وارننگ کا یہ سچا احوال نازک ترین لفظوں کے ساتھ نازل فرمایا؟ یہ صرف اور صرف اسی علیم و خبیر ذات کا کلام ہو سکتا ہے جس نے ایک ہاتھی سے لے کر ایک حقیر چیونٹی کے دل کی دھڑکن کو اپنے علمِ محیط سے گھیر رکھا ہے۔

بے شک، وحیِ الٰہی کا اصل اور حتمی مقصد صرف چیونٹیوں کی کوئی خشک بائیولوجی یا سائنس کے فارمولے سکھانا نہیں ہے؛ قرآن کا اصل مقصد تو انسان کے دل کے جمود کو توڑ کر اسے یہ ابدی حقیقت سکھانا ہے کہ کائنات کا بنانے والا اتنا عظیم خالق ہے کہ اس نے اپنی تخلیق کردہ چھوٹی سے چھوٹی اور حقیر ترین مخلوق کو بھی اس زمین پر بے مقصد اور لاوارث پیدا نہیں کیا، بلکہ اس نے ہر ایک ذرے کو ایک خاص نظم، کائناتی شعور، اپنے دفاع کی جبلت اور بندگی کا ایک مخصوص طریقہ عطا فرمایا ہے:

﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم﴾

“اور زمین میں چلنے والا کوئی بھی جاندار ہو یا اپنے دو پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ، وہ سب تمہاری ہی طرح کی باقاعدہ منظم امتیں (مخلوقات) ہیں۔” — (سورۃ الانعام: 38)

ایک ننھی سی مٹیالی چیونٹی بھی اپنے معاشرے کے حقوق کو پہچانتی ہے، آنے والے مہیب خطرے کو اپنی حسیات سے سمجھتی ہے، اپنی برادری کو سچے دل سے الارم کرتی ہے، اور ایک مثالی اجتماعی نظم و ضبط (Discipline) کے ساتھ زندگی کا سفر طے کرتی ہے۔ یہی وہ حسنِ تدبر ہے جس کی وجہ سے قرآنِ مجید انسان کو کائنات کے ان بظاہر چھوٹے چھوٹے مظاہر پر پُرشور غور و فکر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جدید مادی سائنس جوں جوں اپنے قدم آگے بڑھا رہی ہے اور جینیٹکس کی نئی پرتیں کھول رہی ہے، ویسی ہی صاحبِ عقل انسان پر یہ سچائی روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ اللہ رب العزت کا یہ تیار کردہ کائناتی نظام ابنِ آدم کی عارضی سوچ اور مادی فزکس کی بند حدوں سے کہیں زیادہ گہرا، پیچیدہ، پُر اسرار اور انتہا درجے کا منظم ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

#قرآن_اور_سائنس #چیونٹیاں #سورۃ_النمل #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #حیاتیات #تدبر_قرآن #اسلام_اور_سائنس #قدرت_الٰہی #فیرومونز

Loading