Daily Roshni News

مکہ کے جگر گوشوں کا قبولِ اسلام

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مکہ کے جگر گوشوں کا قبولِ اسلام: خالد بن ولید ، عمرو بن العاص اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا، جن کا نام الولید بن الولید تھا اور وہ خالد بن ولید کے بھائی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی آمد پر بہت مسرور ہوئے اور ان سے ان کے بھائی خالد کے بارے میں دریافت فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 “کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ خالد اسلام لے آئے اور اپنی جنگی مہارت و قوت (جو مسلمانوں کے خلاف تھی) مسلمانوں کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف استعمال کرے؟ حالانکہ اس جیسے عقل مند شخص سے (حق) پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔”

الولید اپنے بھائی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس سوال پر بہت خوش ہوئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے بھائی خالد کو ایک خط لکھا کہ: “نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے بارے میں دریافت فرما رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ اسلام لے آئیں۔ اے خالد! آپ کی عقل کہاں ہے؟ آپ کی رائے (اور بصیرت) کہاں چلی گئی ہے؟”

 خالد بن ولید کا خواب اور شرحِ صدر

خالد بن ولید اس مکتوب سے پہلے کے عرصے میں اسلام لانے کے بارے میں سوچ تو رہے تھے، لیکن ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پائے تھے۔ پھر انہوں نے ایک خواب دیکھا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا۔ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ:

 وہ ایک تنگ، قحط زدہ اور بنجر مقام پر ہیں، اور اچانک وہاں سے نکل کر ایک دوسرے سرسبز، وسیع اور دلکش مقام کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔

بعد میں جب وہ مدینہ منورہ پہنچے، تو انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: “اے خالد! واللہ! میں اس کی تعبیر یہی دیکھتا ہوں کہ یہ تمہارا شرک سے نکل کر توحید کی طرف، اور کفر سے نکل کر اسلام کی طرف آنا ہے۔”

مدینہ کی طرف ہجرت اور سفر کے ساتھی

خالد بن ولید نے مکہ سے مدینہ سفر کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ وہ خالد جو برسوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے برسرِ پیکار رہے! انہوں نے غزوہ احد میں مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا تھا؟ انہوں نے ان تمام سالوں میں مسلمانوں کو کتنی تکلیفیں پہنچائی تھیں؟ وہ اس زمانے کے سب سے عظیم فوجی جرنیل تھے۔ لیکن اب اسی خالد نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ سفر کریں گے اور اللہ کے رسول کی نگری کی طرف ہجرت کریں گے۔ انہوں نے (دل میں) کہا: “میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اس سفر میں مجھے کوئی اچھا ساتھی عطا فرما دے۔”

اپنے سفر کے دوران، انہیں عثمان بن طلحہ ملے جو اسی مقصد (اسلام لانے) کے لیے جا رہے تھے۔ پھر راستے میں ان دونوں کی ملاقات عمرو بن العاص سے ہوئی۔ خالد نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: “تم دونوں کہاں جا رہے ہو؟” خالد نے عمرو بن العاص سے کہا: “ہم اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں جا رہے ہیں۔” اس پر عمرو بن العاص نے کہا: “اللہ کی قسم! میں بھی اسی چیز کا ارادہ رکھتا ہوں جس کا ارادہ تم دونوں نے کیا ہے۔”

چنانچہ یہ تینوں نفوسِ قدسیہ ایک ساتھ چل پڑے اور اللہ کے رسول کی نگری مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دور سے آتے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے حد خوش ہوئے اور چہرہ انور مسرت سے کھل اٹھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

“مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہاری طرف پھینک دیے ہیں، مکہ نے اپنے جگر گوشے تمہارے حوالے کر دیے ہیں۔”

بارگاہِ رسالت میں حاضری اور قبولِ اسلام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان تینوں کے ساتھ تشریف فرما ہوئے، اور یہ تینوں شخصیات اللہ جل وعلا کے دین میں داخل ہو گئیں: یعنی خالد بن ولید ،عمرو بن العاص، اور  عثمان بن طلحہ۔ یہ قریش کے سرداروں میں سے سردار تھے، اور لوگوں میں سب سے زیادہ عقل و فہم رکھنے والے تھے۔ یہ سب اللہ عزوجل کے دین میں داخل ہو گئے۔

وہ خالد جنہوں نے برسوں اپنی تلوار مسلمانوں کے خلاف سونت رکھی تھی، اب وہ “اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار” بن کر سامنے آئے۔ خالد بن ولید اس لیے آئے تاکہ اسلام کا پرچم بلند کریں، اپنی بقیہ زندگی اسلام کے لیے وقف کر دیں، اور جو کچھ ماضی میں گزر چکا تھا اس کا کفارہ ادا کر سکیں۔ انہوں نے عرض کیا:

“اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ میرے ماضی کے تمام (گناہ) معاف فرما دے۔”

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

“اے خالد! بے شک اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے، یقیناً اسلام پچھلے تمام گناہوں کو کاٹ دیتا ہے۔”

یہ واقعہ اس بات کی مہم اور مدلل دلیل ہے کہ کس طرح سچی توبہ اور ایمان انسان کی زندگی کا پورا رخ بدل دیتے ہیں۔ اس ایمان افروز واقعے کو ضرور شیئر کریں، کیا عجب کہ یہ کسی کی ہدایت کا ذریعہ بن جائے۔

صحیح مسلم (امام مسلم)

المستدرک علی الصحیحین (امام حاکم)

السيرة النبوية (ابن ہشام / ابن اسحاق)

کتاب المغازی (امام واقدی)

تاريخ الأمم والملوک / تاریخِ طبری (امام طبری)

الاستيعاب في معرفة الأصحاب (ابن عبد البر)

Loading