اللہ پاک جب کسی انسان کو اپنے قریب کرنے لگتا ہے تو اُس انسان میں یہ چار کیفیات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
1۔ دل کا بوجھ ہلکا ہونا
انسان اچانک محسوس کرتا ہے کہ جو چیزیں پہلے دل کو توڑ دیتی تھیں،اب وہ اتنا اثر نہیں کرتیں۔دل نرم، ہلکا اور مطمئن ہونے لگتا ہے۔یہ اللہ کی طرف سے سکینہ کا نزول ہوتا ہے۔
2۔اکیلے رہنے کا دل کرنا
انسان پہلے شور میں خوش ہوتا تھا،لیکن اب اکیلے بیٹھ کراللہ کو یاد کرنے میں زیادہ سکون ملتا ہے۔یہ روح کا بیدار ہونا ہے۔روح دنیا سے نہیں بلکہ اللہ سے جڑنے لگتی ہے۔
3۔ گناہ کرتے ہی دل کانپ اٹھنا
ذرا سا بھی غلط کام ہو جائے تودل فوراً بے چین ہوتا ہے،خوف آتا ہے کہ کہیں اللہ ناراض نہ ہو جائے۔یہ ایمان کے زندہ ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔
4۔دعاؤں کے قبول ہونے کی رفتار بدل جانا
دعا مانگو تو فوراً راستہ کھلنے لگتا ہے،یا دل میں عجیب سی “تسلی” آ جاتی ہےکہ میرا رب سن رہا ہے۔یہ اللہ کی قربت کی نشانی ہے کہ وہ اپنے بندے کے دل کے قریب ہو جاتا ہے۔
روحانیت آنے کے بعد کی کیفیت:
روحانیت کے آنے پربندے کا دل خود بخود قرآن کھولنے کو چاہتا ہے،آیات سیدھی دل میں اترتی محسوس ہوتی ہیں،اور انسان کو لگتا ہے جیسےاللہ اس سے بات کر رہا ہو۔
جو لوگ پہلے بہت قریب تھےان کی فطرت، ان کی باتیں،اچانک دل پر بوجھ بننے لگتی ہیں۔
انسان خود کو آہستہ آہستہ برائی، گپ شپ، جھوٹ، حسداور Toxicلوگوں سے دور کرتے ہوئے پاتا ہے۔یہ روح کی حفاظت ہوتی ہے۔
خواب بدل جانا (روحانی خواب آنا)
روح میں نور آنے لگے تو خواب عجیب نہیں رہتےبلکہ معنی رکھتے ہیں۔
روحانی سگنلز:
روشنی دیکھنا
پانی دیکھنا
اپنے آپ کو آسمان کی طرف جاتا ہوا دیکھنا
نامعلوم جگہ پر سکون محسوس ہونا
یہ سب روح کے زخم بھرنے کی علامت ہے۔
اللہ کی محبت کے لیے رونا شروع ہونا
کسی غلطی، کسی دعا، کسی آیت،کسی نیکی کی نیت پرآنکھیں خود بخود بھر آنے لگتی ہیں۔
یہ کمزوری نہیں،یہ دل کا صاف ہونا اور اللہ کی محبت کا اثر ہوتا ہے۔
جب روح میں نور آتا ہےتو آنکھیں خود گواہی دیتی ہیں۔
اللہ پاک ہم سب کو اپنی محبت عطا فرمائے اور ہم سے راضی ہو جائے۔آمین🤲🏼 نوٹ الحمداللہ یہ میری اپنی بھی کیفیت ہے شکر الحمداللہ ۔
#اسلامی_پیغام #اصلاح_نفس
![]()

