Daily Roshni News

جب خلا میں ہوا ہی نہیں تو خلاباز کی آواز زمین تک کیسے پہنچتی ہے؟

جب خلا میں ہوا ہی نہیں تو خلاباز کی آواز زمین تک کیسے پہنچتی ہے؟

​ایک ایسا سوال جو اکثر لوگوں کو حیران کر دیتا ہے!

​مؤلف: طارق اقبال سوہدروی

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔​مؤلف: طارق اقبال سوہدروی)اگر خلا میں آواز نہیں پھیل سکتی تو پھر ہم ٹی وی پر خلابازوں کی باتیں کیسے سنتے ہیں؟ جب کوئی خلاباز چاند، خلائی اسٹیشن یا کسی خلائی جہاز سے بات کرتا ہے تو اس کی آواز ہزاروں کلومیٹر دور زمین تک کیسے پہنچ جاتی ہے؟

​یہ سوال بظاہر سادہ لگتا ہے، لیکن اس کا جواب ہمیں آواز، روشنی اور برقی مقناطیسی لہروں کے درمیان ایک نہایت دلچسپ فرق سمجھاتا ہے۔

​سب سے پہلے: آواز آخر ہے کیا؟

​آواز (Sound) دراصل ہوا کے ذرات میں پیدا ہونے والی ارتعاشی لہریں (Vibrations) ہیں۔ مثال کے طور پر جب آپ بولتے ہیں تو آپ کے گلے میں موجود تانتیں (Vocal Cords) کمپن پیدا کرتی ہیں۔ یہ کمپن ہوا میں موجود ذرات کو ہلاتے ہیں، اور یہی لہریں ہمارے کانوں تک پہنچتی ہیں۔ اسی لیے زمین پر ہم ایک دوسرے کی بات سن سکتے ہیں، کیونکہ ہمارے درمیان ہوا موجود ہوتی ہے۔

​خلا میں مسئلہ کیا ہے؟

​خلا (Space) تقریباً مکمل ویکیوم (Vacuum) ہے؛ یعنی وہاں نہ ہوا موجود ہے، نہ پانی اور نہ ہی کوئی ایسا مادہ جو آواز کی لہروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا سکے۔ اسی وجہ سے اگر دو خلاباز خلا میں ایک دوسرے کے بالکل قریب بھی کھڑے ہوں اور ان کے ہیلمٹ نہ ہوں، تو وہ ایک دوسرے کی آواز نہیں سن سکیں گے۔

​ہالی ووڈ فلموں میں اکثر خلا میں بڑے دھماکوں کی ہولناک آوازیں سنائی جاتی ہیں، لیکن حقیقت میں اگر کوئی دھماکہ خلا میں ہو تو آپ اسے دیکھ تو سکتے ہیں، مگر سن نہیں سکتے۔

​پھر خلاباز بات کیسے کرتے ہیں؟

​یہاں سائنس کا ایک خوبصورت راز سامنے آتا ہے۔ خلاباز اپنی آواز براہِ راست خلا میں نہیں بھیجتے، بلکہ ان کے ہیلمٹ میں ایک مائیکروفون لگا ہوتا ہے؛ یہ مائیکروفون ان کی آواز کو برقی سگنل (Electrical Signal) میں تبدیل کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ برقی سگنل ایک ریڈیو ٹرانسمیٹر کے ذریعے ریڈیو لہروں (Radio Waves) میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

​ریڈیو لہریں کیا ہوتی ہیں؟

​ریڈیو لہریں دراصل برقی مقناطیسی لہریں (Electromagnetic Waves) ہیں۔ یہی خاندان روشنی، مائیکرو ویوز، ایکس ریز اور گاما ریز کا بھی ہے؛ ان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ انہیں سفر کرنے کے لیے ہوا یا کسی دوسرے میڈیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ خلا میں بھی روشنی کی تیز ترین رفتار سے سفر کر سکتی ہیں۔

📡 پھر خلاباز زمین پر بات کیسے کرتے ہیں؟

یہاں سائنس کا ایک خوبصورت اور جدید نظام کام کرتا ہے۔ خلاباز اپنی آواز براہِ راست خلا میں نہیں چھوڑتے، بلکہ ان کے ہیلمٹ کے اندر ایک پورا مواصلاتی نیٹ ورک ہوتا ہے جو اس ترتیب سے کام کرتا ہے:

1️⃣ مائیکروفون کا استعمال: خلاباز جب بولتا ہے، تو اس کی آواز ہیلمٹ میں موجود مائیکروفون میں جاتی ہے۔

2️⃣ برقی سگنل میں تبدیلی: مائیکروفون اس صوتی آواز کو فوری طور پر برقی سگنل (Electrical Signal) میں بدل دیتا ہے۔

3️⃣ ریڈیو لہروں کا ظہور: ہیلمٹ کا ٹرانسمیٹر ان برقی سگنلز کو “ریڈیو لہروں” (Radio Waves) میں تبدیل کر کے خلا میں ریلیز کرتا ہے۔

4️⃣ بغیر ہوا کے سفر: ریڈیو لہریں دراصل برقی مقناطیسی لہریں (Electromagnetic Waves) ہیں۔ انہیں سفر کے لیے ہوا یا کسی میڈیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ خلا کی خاموشی میں روشنی کی تیز ترین رفتار سے سفر کر سکتی ہیں۔

5️⃣ زمین پر آواز کی بحالی: یہ لہریں جب زمین پر موجود ناسا یا دیگر خلائی اداروں کے بڑے انٹینا تک پہنچتی ہیں، تو وہاں لگے کمپیوٹرز ان لہروں کو دوبارہ “آواز” میں تبدیل کر دیتے ہیں، اور یوں ہم انہیں سن پاتے ہیں۔

 ایک آسان اور دلچسپ مثال

فرض کریں آپ کے پاس ایک خط ہے۔ اگر آپ وہ خط ہاتھ میں پکڑ کر خود پیدل چل کر دوسرے شہر جائیں، تو یہ “آواز” کی طرح ہوگا (جسے سفر کے لیے قدموں یا ہوا کی ضرورت ہے)۔ لیکن اگر آپ اسی خط کی تصویر کھینچ کر واٹس ایپ یا فیس بک کے ذریعے بٹن دبا کر بھیج دیں، تو وہ “ریڈیو لہروں” کی طرح ہوگا، جو سیکنڈوں میں بغیر کسی مادی سہارے کے خلا عبور کر جائے گی۔

 چاند سے زمین تک آواز آنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

چاند زمین سے تقریباً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے۔ چونکہ ریڈیو لہریں روشنی کی رفتار یعنی 299,792 کلومیٹر فی سیکنڈ سے سفر کرتی ہیں، اس لیے چاند سے زمین تک سگنل پہنچنے میں صرف 1.3 سیکنڈ لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپالو مشنز کے دوران خلاباز اور زمین پر موجود کنٹرول روم تقریباً لائیو ایک دوسرے سے بات کر لیتے تھے۔

 آواز اور ریڈیو ویوز میں فرق (ایک نظر میں)

آواز (Mechanical Wave): اسے ہوا یا پانی کی ضرورت ہوتی ہے 👈 خلا میں سفر ناممکن ہے۔

ریڈیو ویوز (Electromagnetic Wave): اسے کسی میڈیم کی ضرورت نہیں ہوتی 👈 خلا میں سفر بالکل ممکن ہے۔

 نتیجہ

جب ہم خلابازوں کو خلا سے بات کرتے ہوئے سنتے ہیں، تو وہ ان کی براہِ راست آواز نہیں ہوتی بلکہ ریڈیو لہروں کا جادو ہوتا ہے۔ آج ہم زمین پر جو موبائل فون، وائی فائی، سیٹلائٹ ٹی وی اور انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، ان سب کی بنیاد بھی یہی برقی مقناطیسی لہریں ہیں۔ کائنات کا یہ نظام اور انسانی عقل کی یہ پرواز واقعی حیرت انگیز ہے!

واللہ اعلم بالصواب

#خلا #خلاباز #ریڈیو_ویوز #آواز #سائنس #فلکیات #انٹرنیشنل_اسپیس_اسٹیشن #کائنات #SpaceScience #Astronomy #RadioWaves #NASA #ISS #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں

حوالہ جات:

NASA – Space Communications and Navigation (SCaN)

NASA Human Spaceflight Communications

European Space Agency (ESA) – Space Communication Systems

NASA Apollo Mission Communication Systems

Encyclopaedia Britannica – Electromagnetic Waves

OpenStax Physics – Sound Waves and Electromagnetic Waves

Loading