ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )گرمیوں میں کچی کیری کا شربت، جسے بہت سے علاقوں میں “آم پنا” بھی کہا جاتا ہے، برسوں سے لو لگنے سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ شدید گرمی، زیادہ پسینہ اور دھوپ میں طویل وقت گزارنے کے بعد یہ مشروب جسم کو تازگی کا احساس دے سکتا ہے، اسی لیے دیسی روایات میں اسے گرمی کا ایک مشہور ساتھی سمجھا جاتا ہے۔
کچی کیری میں قدرتی طور پر کچھ معدنیات اور وٹامنز پائے جاتے ہیں، جبکہ روایتی شربت میں شامل پانی اور تھوڑی مقدار میں نمک جسم سے پسینے کے ذریعے خارج ہونے والے بعض الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کھیتوں میں کام کرنے والے یا گرمی میں زیادہ وقت گزارنے والے لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔
لیکن یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کچی کیری کا شربت ہیٹ اسٹروک کے خلاف کوئی مکمل حفاظتی ڈھال نہیں۔ عوام میں یہ بات عام ہے کہ اگر یہ شربت پی لیا جائے تو لو کبھی نہیں لگ سکتی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شدید گرمی میں مناسب مقدار میں پانی پینا، دھوپ سے بچنا، ہلکے کپڑے پہننا اور جسم کو ٹھنڈا رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے تو صرف شربت کافی نہیں ہوتا اور فوری طبی امداد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اسے بنانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کچی کیری کو اُبال یا بھون کر اس کا گودا نکال لیا جائے، پھر اس میں مناسب مقدار میں پانی، تھوڑا سا نمک اور حسبِ ضرورت ہلکی مقدار میں چینی یا گڑ شامل کیا جائے۔ بہت زیادہ چینی ڈالنے سے یہ ایک میٹھا مشروب بن جاتا ہے جس کا فائدہ کم ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنہیں شوگر کا مسئلہ ہو۔
گرم تاثیر رکھنے والے افراد کو یہ مشروب گرمی کے موسم میں نسبتاً زیادہ سکون دے سکتا ہے، جبکہ ٹھنڈی تاثیر والے لوگ اگر بہت زیادہ مقدار استعمال کریں تو بعض اوقات معدہ بھاری یا ڈھیلا محسوس کر سکتے ہیں۔
اگر کسی شخص کو شوگر، گردوں کی بیماری یا نمک محدود استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہو تو اسے اپنی حالت کے مطابق احتیاط کرنی چاہیے۔ اسی طرح اگر شدید گرمی کے دوران چکر، تیز بخار، بے ہوشی، الجھن یا سانس لینے میں دشواری ہو تو اسے صرف لو کا عام اثر سمجھ کر گھر میں نہ بیٹھیں بلکہ فوری طبی امداد حاصل کریں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ کچی کیری کا شربت گرمیوں میں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے اور لو کے خطرے کو کم کرنے والی ایک مفید دیسی عادت بن سکتا ہے، لیکن ہیٹ اسٹروک سے مکمل بچاؤ صرف اسی وقت ممکن ہے جب اس کے ساتھ مناسب پانی، سایہ، آرام اور گرمی سے حفاظت کے دوسرے اصول بھی اپنائے جائیں۔
![]()

