Daily Roshni News

محبوب کا تصور ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

محبوب کا تصور

انتخاب ۔۔۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ محبوب کا تصور ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔ محمد جاوید عظیمی)محبت کی گہرائی، عشق، وجدان، رفاقت اور قربت کا اظہار ہے۔

کوئی بھی فرد جب خلوصِ نیت کے ساتھ لکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے ارادے میں خلوص، یعنی خالص تصور وارد ہونے لگتا ہے۔ اس وارد ہونے والے تصور میں خالص تصویروں کا اظہار ہوتا ہے۔

خالص سے مراد لطیف روشنیوں کا حرکت کرنا ہے، یعنی ارادے کا گہرائی میں اترنا۔ گہرائی کی ایک حقیقت محبت ہے، اور محبت میں محبوب کی قربت کا اظہار ہونا ہے۔

 قربت وہ روشنی ہے جو نشوونما کا سبب بنتی ہے۔

محبت وجہِ تخلیق ہے۔ جو ذہنوں کو ثقل کی حدود سے نکال کر کششِ بعید میں داخل کرتی ہے۔

 محبت کی لطیف لہروں میں زندگی کی ازل سے ابد تک تمام تصویریں ایک دوسرے میں جذب ہیں۔

روح کیا ہے؟

روح محبت کا اظہار ہی تو ہے۔

 اللہ کے ذہن سے نکلا ہوا خالص لفظ، اور اس لفظ میں ذات کی گہرائیوں میں اطلاعات کا تسلسل موجود ہے جو کن صوتِ سرمدی کے اظہارِ  فیکون ہے۔

محبت کے لفظ پر غور کیا جائے تو اس کے حروف ایک خوبصورت ربط پیدا کرتے ہیں:

م سے مخلوق

ح سے حی

ب سے بصارت

ت سے تخلیق

 محبت وہ لطیف ربط ہے جو مخلوق کو حیات، بصارت اور تخلیق کے اسرار سے جوڑتا ہے۔

محبت کی لہریں نہایت لطیف ہوتی ہیں، اور لطافت کی ایک صورت الہام اور وحی ہے۔ یعنی خالص اطلاعاتِ کا بہاو کو سمجھنا

جب کوئی فرد خلوصِ نیت سے محبوب کے تصور میں لکھنے کی کوشش کرتا ہے تو خالص محبت کی لطیف لہریں نقطۂ ذات سے ذہن میں وارد ہونے لگتی ہیں۔

ان لطیف لہروں کو ذہن لاشعور سے شعور میں تصویروں کی صورت مظہر بنانے کے لیے حروف تخلیق کرتا ہے، پھر ان حروف کو آپس میں جوڑ کر الفاظ بناتا ہے، اور الفاظ کو تحریر کی صورت میں ریکارڈ کر دیتا ہے۔

اس طرح تحریر محض الفاظ کا ریکارڈ نہیں ہوتی بلکہ محبوب یعنی محبت، عشق وجدان رفاقت قربت کا ایک ایسا اظہار بن جاتی ہے جو قاری کے ذہن میں بھی نئی تصویریں اور نئے احساسات کے طلوع ہونے کا سبب بنتی ہے

Loading