Daily Roshni News

قرآن کے مقابلے میں ڈارون کا نظریہ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔۔ میاں عمران

قرآن کے مقابلے میں ڈارون کا نظریہ

انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میاں عمران

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ قرآن کے مقابلے میں ڈارون کا نظریہ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔۔ میاں عمران)یا میکس اچار مسلمان  :یہ عقیدے کا مسئلہ ہے، قرآن و سنت کے نصوص سے ثابت شدہ عقیدہ ہے

بہت افسوس اور دکھ کے ساتھ یہ بات کہنی پڑ رہی ہے کہ آج کچھ لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، وہ اللہ کے واضح فرمان کے مقابلے میں ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو سچ مان کر اس کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کو نہ یہ تمیز ہے کہ یہ نظریہ تخلیق انسان کے بارے میں ہے، یا درخت و جانوروں کے بارے میں، یا انسان کی تخلیق کے بارے میں۔

اصل نظریہ تو انسان کی تخلیق ہی کا ہے کہ یہ مٹی سے نہیں بنا، بلکہ پہلے جد امجد کوئی غیر انسانی درندہ تھا، پھر بعد میں تقسیم ہوئی اور تمیز ہوئی، اور پھر ختم۔ اور وہ بھی خود بخود اور قیاسات و تشبیہات کی بنیاد پر بس۔

ڈارون خود مشکوک تھا، یعنی خدا پر یقین رکھنے والوں میں سے نہیں تھا۔

1) قرآن کا واضح موقف

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کی تخلیق کا مرحلہ وار ذکر فرمایا ہے

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ

ترجمہ: اور یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ المؤمنون 12

پھر فرمایا

ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ

پھر اس نطفے کو محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔ المؤمنون 13

یعنی پہلا انسان آدم علیہ السلام براہ راست مٹی سے بنائے گئے۔ ان کی نسل نطفے سے چلی۔ قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں کہ انسان بندر سے بنا یا ارتقاء کے مراحل طے کر کے موجودہ شکل میں آیا۔

2) مسئلہ کہاں پیدا ہو رہا ہے

اگر کسی مسلمان بھائی کو قرآن کی ان آیات کا علم نہیں، تو وہ لاعلمی کی وجہ سے قابل رحم ہے۔

لیکن اگر علم کے باوجود کوئی شخص قرآن کے صریح عقیدے کا انکار کرے، یا قرآن اور ڈارون دونوں کو ملا کر کوئی نیا ارتقائی نظریہ گھڑے، یا ماننے والا ہو، تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔ یہ قرآن کے الفاظ کا انکار اور کفر ہے۔

3) ملحدین سے گلہ نہیں

ملحد کا تو دعویٰ ہی یہ ہے کہ کائنات خود بخود بنی، انسان اتفاقاً بنا، اور بندر کے نسل سے ہیں ہے یہ حقیقت ہے گالی نہیں۔

تو ملحدین  سے بحث الگ ہے۔

اصل تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص کلمہ پڑھ کر، قرآن کو مان کر بھی بندر والے نظریے کو قرآن کے انسانی تخلیق کے مقابلے میں مان کر، اور اس نظریے کی وکالت کرنے لگ جائے۔

(خلاصہ)

ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جب اللہ کا واضح حکم آ جائے تو سر جھکا دیا جائے۔ سمعنا و اطعنا۔ سائنس بدلتی رہتی ہے، نظریے آتے جاتے رہتے ہیں۔ لیکن قرآن کا عقیدہ قیامت تک اٹل ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق صحیح عقیدہ سمجھنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ آمین

رد الالحاد و الفساد

Loading