Daily Roshni News

برا نہ مان میرے حرف “زہر” سہی میں کیا کروں یہی  زباں کا ذائقہ ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )برا نہ مان میرے حرف “زہر” سہی

میں کیا کروں یہی  زباں کا ذائقہ ہے

کیا آپ جانتے ہیں “ویراکوچا” کون ہے بلکہ کون تھا؟؟

ریڈ انڈین دنیا کی سب سے پراسرار اور قدیم ترین تہذیبوں کا مرکز “تیواناکو” جو اپنی طرزِ تعمیر کی وجہ سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اپنے دور کا ایک عظیم “فلکیاتی مرکز” معلوم ہوتا تھا تاہم اس جگہ کی اصل اہمیت صرف اس کے پتھروں کی تراش خراش نہیں بلکہ اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ “ویراکوچا” کی جائے مظہر ہے

ریڈ انڈین ایریاز کے اساطیری داستانوں کے مطابق ویراکوچا کائنات کا خالق مانا جاتا ہے جس نے عدم سے تمام کائنات کو وجود بخشا

ویراکوچا کوئی جنگجو دیوتا نہیں تھا یہ امن، محبت، عدل ، رحم اور اصلاح کا مظہر مانا جاتا تھا کائنات کی تخلیق کے بعد اس دیوتا نے ایک ذمینی سفر کیا (ہے نا بلکل یسوع کی مانند) آج بھی تیواناکو میں اس کے ایسے مجسمے دیکھے جاسکتے ہیں جن میں اس کی شبیہہ ایک داڑھی والا سفید فام چہرہ اور ہاتھوں عصا لئے ہوئے دکھائی دیتی ہے

پھر دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ تیواناکو کے روایات میں ویراکوچا کی “واپسی” کا وعدہ بھی موجود ہے جس وعدے کی بناء پر جب ہسپانوی فاتح فرانسیسکو نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ پیرو پر حملہ کیا تو مقامی لوگوں نے ان کے حلیے جو کہ ویراکوچا سے مماثلت رکھتے تھے کی بناء پر ان کو اپنے دیوتا کا “آمدِ ثانی” سمجھ لیا یوں ہسپانوی بڑی آسانی سے ان کے سلطنت کی بنیادیں ہلانے میں کامیاب ہوگئے

بعد میں جب کیتھولک راہب اس خطے میں پہنچے تو انھوں نے ویراکوچا کے تصور کو عہد جدید کے خدا سے جوڑنا شروع کیا جو خود ذمین پر آکر اپنے لوگوں کی اصلاح کرتا اور امن محبت پھیلاتا تھا اور ہاں ویراکوچا کے پیروکار طوفانِ نوح کے واقعے جیسا ایک عقیدہ بھی رکھتے تھے ان تمام عقائد کو کیتھولک راہبوں نے بائبل سے جوڑنا شروع کیا تاکہ مقامی لوگ اپنے پرانے عقائد کو مسیحیت میں ضم کرسکیں یعنی سانپ بھی مرجاے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے

پورانیک کہانیوں کے مطابق جب ویراکوچا اپنے کام سے فارغ ہوا تو وہ چلتا ایکواڈور تک پہنچا اور بلکل یسوع کی طرح پانی پر چلتے ہوئے مغرب کی طرف روانہ ہوگیا جاتے جاتے وعدہ کرگیا کہ مصیبت کے وقت ضرور واپس آئے گا

Loading