شباب کی باتیں
جب جھومے میرا گھاگرا
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)ہر سال ایک آدھ بار ایسے مواقع ضرور آتے ہیں جب بے چارہ حاتم طائی اپنی قبر میں تلملا کر اٹھ جاتا ہے اور اپنی کمر پکڑ کرشکایت کرتا ہے کہ آخر یہ لوگ اسے قبر میں آرام سے رہنے کیوں نہیں دیتے ؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب بھی بجٹ کا اعلان کیا جاتا ہے تو حکومت اس کی قبر پر زبردست لات رسید کر کے اسے جگانے کی کوشش کیوں کرتی ہے۔اب کی بار تو یہ لات قدرے زیادہ زور سے پڑی ہے ، کہ مختلف طبقوں نے شکوے شکایتیں شروع کر دی ہیں۔مثلا” یہ کہ سرحد چیمبر نے وفاقی بجٹ کو کاروبار اور صنعت کش قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی نے بجٹ کو الفاظ کا ہیر پھیر قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے ۔فاٹا، پاٹا اور مالاکنڈ چیمبرز کا بیانیہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے یعنی وہاں سے بھی استرداد کی خبریں آ رہی ہیں ۔ ادھر اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی29 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے چلی گئی ہے ۔ جبکہ شاہراہ دستور پر سرکاری ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ جانے کی کوشش کی مگر خاردار تاریں لگا کر ان کی پیشقدمی روک دی گئی ۔یہ لوگ تنخواہوں اور دیگر مراعات میں اضافہ چاہتے تھے ۔
ان تمام خبروں کے ہنگام وزیراعظم کے اس بیان پر کسی نے غور کرنے کی زحمت ہی نہیں کہ”اس بجٹ کوبہت محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے ، قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے ۔
دراصل اس قسم کے سٹیریو ٹائپ بیانات پر سال ہمیں سننے کو ملتے ہیں، اور دیکھا جائے تو قوم کا یہ پرانا “وتیرہ” رہا ہے کہ جب بھی بجٹ آتا ہے تو مختلف طبقات خصوصاً سیاسی، تجارتی و اقتصادی حلقے پہلے ہی سے اپنے “دانت” تیز کر کے بلکہ”لنگر لنگوٹ” کس کر تیسری پکڑ لیتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ آنے دو بجے کو، زمہ داروں کی خبر نہ لی تو نام نہیں۔
اب وہی حالات ہیں۔ گزشتہ روز سرکار نے بجٹ پیش کیا تو اس میں وہ جو سرکاری ملازمین اور پینشنرز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا اسی پر تو ہم نے کالم کے آغاز میں حاتم طائی کو یاد کرتے ہوئے اس کی قبر پر لات مارنے کا ذکر کیا، حالانکہ ابھی حال ہی میں ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 6 سو فیصد اضافے کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں اور اب جو سرکاری ملازمین پر احسان کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کرتے ہوئے ممبران پارلیمنٹ کے مقابلے میں ہندسے یعنی 6 کے مقابلے میں 7 کا ہندسہ تھما دیا گیا ہے ، بس فرق صرف اتنا ہے کہ 6 اور 7 کے ان ہندسوں میں ایک آدھ آنچ کی کسر ہی موجود ہے۔ یعنی ممبران کے مبینہ طور پر 6 سو فیصد تو ملازمین کو پورے 7 فیصد۔ اس لئے اب یہ سرکاری ملازمین بقولانور شعور یہ نہیں کہہ سکتے کہ
بڑھ گئیں ممبروں کی تنخواہیں
اور ادھر حال یہ ہمارا ہے
سستے وقتوں جو ہوئی تھی طے
اسی تنخواہ پر گزارہ ہے
بلکہ وہ تو مرزا محمود سرحدی کے کہے ہوئے ان الفاظ میں ہی پناہ ڈھونڈیں گے یعنی
لوگ غریبوں کی جاگ اٹھی قسمت
اب تو اوڑھیں گے وہ بھی دوشالے
ہے کمیشن نے موج میں آکر
ایک دم دو روپے بڑھا ڈالے
ہمارا اصل مسئلہ من حیث القوم ہر وقت روتے رہنا ہے اس لئے ہمیں نہایت فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم کے ان الفاظ کو سراہنا چاہیئے کہ بجٹ میں عظیم قوم کی فلاح کو ترجیح دی ہے ۔ اگر سب بھی نہیں سمجھے تو ایک قدیم دور کے کسی استاد شاعر کا یہ شعر پڑھ کر حظ اُٹھائیں
جب جھومے میرا گھاگرا
تو جھومے دلی آگرہ۔
![]()

