🌿 حضرت عمرؓ کے آخری ایام… ایک ایسا واقعہ جو دل ہلا دے 🌿
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آخر عمر میں کافی کمزور ہو گئے تھے۔ وفات کا وقت قریب آ چکا تھا۔ ایک دن لیٹے ہوئے تھے کہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ اسی دوران حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا متکلم ہوئیں اور عرض کیا:
“امیر المؤمنین! آپ سے ایک بات کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کے دور میں دنیا کے دروازے نہیں کھولے، نہ آپ ﷺ نے دنیا کا ارادہ فرمایا، اور آپ ﷺ اسی حال میں دنیا سے تشریف لے گئے۔ پھر میرے والد، حضرت ابوبکر صدیقؓ کا زمانہ آیا، اللہ نے دنیا نہ بھیجی اور نہ انہوں نے اس کا ارادہ کیا، وہ بھی اسی حال میں چلے گئے۔ اب اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دنیا کے دروازے کھول دیے ہیں، فتوحات کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب آپ اپنے اوپر رحم کیجیے۔ اچھا کھانا کھائیے، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھائیے، اچھا لباس پہنیے۔ بڑے بڑے وفود آپ سے ملنے آتے ہیں، اپنے لیے کوئی خادم بھی رکھ لیجیے جو آپ کی خدمت کرے۔ آپ کی عمر کا بھی تقاضا ہے۔”
حضرت عمرؓ کا رنگ بدلنے لگا۔ جب حضرت عائشہؓ نے بات مکمل کی تو فرمانے لگے:
“مجھے بتاؤ، تمہیں یہ بات کس نے کہی ہے؟”
انہوں نے عرض کیا:
“اگر آپ ناراض نہیں ہوں گے تو بتا دوں گی، ورنہ نہیں بتاؤں گی۔”
حضرت عمرؓ فرمانے لگے:
“اگر مجھے بتا دو نا، تو میں انہیں خوب ڈانٹوں گا!”
یہ کہتے کہتے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ پھر فرمانے لگے:
“حفصہ! تم تو گھر کی باتیں جانتی ہو۔ اچھا یہ بتاؤ، کیا اللہ کے نبی ﷺ نے کبھی دن میں دو مرتبہ کھانا کھایا؟ اگر صبح کھا لیتے تو شام کو نہ کھاتے، اور اگر شام کو کھا لیتے تو صبح کو نہ کھاتے؟”
حضرت حفصہؓ نے عرض کیا:
“جی ہاں۔”
پھر فرمایا:
“کیا تمہیں یاد ہے کہ میرے گھر میں نبی کریم ﷺ کا بستر کیا تھا؟ ایک بوریا تھا جسے تم دوہرا کر کے بچھا دیتی تھیں۔ ایک رات تم نے اس کی ایک تہ اور لگا دی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: حفصہ! کیا تم نے میرا بستر بدل دیا ہے؟ تم نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ ﷺ، وہی بستر ہے، بس ایک تہ اور لگا دی ہے تاکہ آپ کے لیے نرم ہو جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے پہلے جیسا کر دو، مجھے ڈر ہے کہ اس کی نرمی مجھے رات کو اٹھنے میں مشکل میں نہ ڈال دے۔”
پھر فرمایا:
“اور کیا تمہیں یاد ہے کہ ایک مرتبہ تم نے کھانا ایک برتن پر رکھ کر پیش کیا تھا، تو اللہ کے نبی ﷺ نے اسے اٹھا کر زمین پر رکھ لیا تھا اور فرمایا تھا: میں اسی طرح کھاؤں گا جیسے ایک غلام کھاتا ہے۔”
پھر فرمایا:
“اور کیا تمہیں یاد ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کے پاس ایک ہی جوڑا ہوتا تھا، جسے آپ خود دھوتے تھے۔ بلالؓ آ کر عرض کرتے: یا رسول اللہ ﷺ! نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ فرماتے: بلال! میرے کپڑے ابھی خشک نہیں ہوئے۔ کبھی تاخیر ہو جاتی، کیونکہ دوسرا جوڑا موجود نہیں ہوتا تھا۔”
پھر فرمایا:
“اور کیا تمہیں یاد ہے کہ ایک مرتبہ چادر بھی موجود نہ تھی، تو آپ ﷺ نے ایک انصاری خاتون سے چادر منگوائی، اسے اوڑھا اور جا کر نماز پڑھائی؟ کیا تمہیں یہ سب یاد ہے؟”
یہ سنتے ہی پوری مجلس اشک بار ہو گئی۔
پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا:
“عائشہ! جنہوں نے تمہیں بھیجا ہے، انہیں جا کر کہہ دو کہ تین دوست ایک منزل کی طرف چلے تھے۔ پہلا چلا اور اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ دوسرا اس کے پیچھے چلا اور وہ بھی پہنچ گیا۔ اب تیسرا انہی کے راستے پر چل رہا ہے۔ اگر وہ اس راستے سے ذرا بھی ہٹ گیا تو بھٹک جائے گا۔”
پھر فرمایا:
“اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں اپنی جان کو اسی طرح کھپاؤں گا جس راستے پر میں ہوں، یہاں تک کہ میرا اللہ مجھے میرے دونوں ساتھیوں سے ملا دے۔”
💔 یہ تھے عمر فاروق رضی اللہ عنہ…
جن کے قدموں میں سلطنتیں تھیں، مگر دل میں صرف ایک خواہش تھی…
“میرا انجام بھی میرے نبی ﷺ اور میرے ابوبکرؓ کے راستے پر ہو۔”
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں سادگی، تقویٰ، اتباعِ سنت اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت نصیب فرمائے۔ آمین۔ 🤲
![]()

