Daily Roshni News

لمرینس یعنی کسی انسان کی لت لگ جانا

لمرینس یعنی کسی انسان کی لت لگ جانا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی نفسیات کا ایک عجیب اور تکلیف دہ پہلو وہ کیفیت ہے جسے علمی زبان میں ‘لِمرینس’ کہا جاتا ہے۔ سادہ لفظوں میں یہ ایک ایسی شدید جذباتی اور ذہنی وابستگی ہے جہاں انسان کسی دوسرے شخص کے سحر میں اس حد تک گرفتار ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے نفع و نقصان کا ہوش نہیں رہتا۔ اکثر یہ کیفیت ایسے شخص کے لیے پیدا ہوتی ہے جس سے نہ تو کوئی حقیقی رشتہ ہوتا ہے اور نہ ہی دوسری طرف سے محبت کا کوئی جواب مل رہا ہوتا ہے۔ لوگ عام طور پر اسے سچی محبت سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ یہ محبت نہیں بلکہ ایک خیالی دنیا اور جنون کی حد تک بڑھی ہوئی کشش ہوتی ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

جب کوئی شخص اس نفسیاتی جال میں پھنستا ہے تو اس کے اندر چند واضح تبدیلیاں نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ سب سے پہلے تو ذہن پر ایک ایسا جنون سوار ہوتا ہے کہ چوبیس گھنٹے بس اسی ایک انسان کا خیال گردش کرتا رہتا ہے۔ انسان لاشعوری طور پر اس شخص کا ایک مثالی اور بے عیب خاکا اپنے ذہن میں تراش لیتا ہے اور اسے دنیا کی سب سے غیر معمولی ہستی سمجھنے لگتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ وابستگی اتنی گہری ہو جاتی ہے کہ انسان کی اپنی خوشی، سکون اور خود اعتمادی کا دارومدار سامنے والے کی ایک نظر یا معمولی سے ردِعمل پر ٹک جاتا ہے۔ اندر سے ایک شدید تڑپ اٹھتی ہے کہ کاش دوسری طرف سے بھی وہی تپش اور جذبہ محسوس کیا جائے، اور یہی تڑپ ہر وقت ایک انجانے خوف میں بدل جاتی ہے کہ کہیں وہ شخص اسے یکسر مسترد نہ کر دے۔ یہ ذہنی اذیت صرف سوچوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ بے چینی، نیند کی کمی، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا اور اس شخص کی ایک جھلک یا بات پر غیر معمولی ہیجان کا محسوس ہونا اس کے جسمانی اثرات ہیں۔

اس ذہنی قید سے آزادی حاصل کرنا اگرچہ مشکل نظر آتا ہے، لیکن یہ ناممکن ہرگز نہیں ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہے کہ یہ سچی محبت نہیں ہے۔ یہ محض ایک نفسیاتی الجھاؤ ہے جو اکثر انسان کے اندرونی اکیلے پن یا کمزور خود اعتمادی کی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ سچی محبت تو وقت کے ساتھ انسان کو سکون، اعتماد اور باہمی احترام دیتی ہے، جبکہ یہ کیفیت صرف بے چینی بڑھاتی ہے۔

دوسرا اہم اور عملی قدم یہ ہے کہ اس شخص سے اپنے رابطے کو یکسر ختم کر دیا جائے یا کم از کم اتنا محدود کر دیا جائے کہ وہ نہ ہونے کے برابر ہو۔ اگر پیشہ ورانہ یا تعلیمی مجبوری کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو، تو گفتگو کو صرف رسمی اور انتہائی مختصر حد تک رکھا جائے۔ فینٹسی یا خیالی دنیا سے نکلنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حقیقت کا سامنا کیا جائے۔ اس شخص کی خامیوں اور زمینی حقائق کو ایک کاغذ پر لکھیں تاکہ ذہن کو بار بار یہ یاد دلایا جا سکے کہ آپ جس شخصیت کے سحر میں مبتلا ہیں، وہ محض آپ کے ذہن کا تراشا ہوا ایک تصوراتی ورژن ہے، اصل انسان نہیں۔

یہاں پر مائنڈفل نیس  mindfulness اور اپنی سوچوں کی ازسرنو تربیت بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ طریقے انسان کو ماضی یا مستقبل کے خدشات سے نکال کر موجودہ لمحے میں جینا سکھاتے ہیں۔ جب بھی دل میں یہ سوال اٹھے کہ مجھے اس شخص کی اتنی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے، تو جواب باہر تلاش کرنے کے بجائے اپنے اندر جھانکیں۔ دراصل یہ لِمرینس اکثر ہمارے ان پرانے اندرونی زخموں کا نتیجہ ہوتی ہے جو بچپن کی کسی محرومی، نظرانداز کیے جانے یا ماضی کی تنہائی سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان زخموں کو بھرنے کے لیے کسی ماہرِ نفسیات کی مدد لی جا سکتی ہے یا خود احتسابی کے ذریعے، ڈائری لکھ کر اور اپنی روحانی و ذہنی ترقی پر توجہ دے کر اس خلا کو پور کیا جا سکتا ہے۔

زندگی کو ایک بامقصد رخ دینا اس کیفیت کا بہترین علاج ہے۔ جب انسان ایک منظم معمول بناتا ہے، ورزش کرتا ہے، مطالعے کی عادت ڈالتا ہے یا کوئی نیا ہنر سیکھتا ہے، تو اس کا ذہن تعمیری کاموں میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اپنے مخلص دوستوں اور خاندان کے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں اور ایسے اہداف مقرر کریں جو آپ کو ایک نئی پہچان اور حقیقی خوشی دیں۔ اس مغالطے سے بھی باہر نکلنا ضروری ہے کہ جو درد آپ محسوس کر رہے ہیں وہ محبت کی گہرائی کی دلیل ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے، یہ درد صرف اس بات کی گواہی ہے کہ آپ جذباتی طور پر کسی کے محتاج ہو چکے ہیں۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ لِمرینس بظاہر ایک ذہنی قید ضرور ہے، لیکن گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ آپ کے اندرونی نظام کا ایک اشارہ ہے جو آپ کو بتا رہا ہے کہ آپ کے وجود کا کوئی حصہ شفا کا طلب گار ہے۔ جب آپ اپنی توجہ اس شخص سے ہٹا کر خود کو سمجھنے اور اپنی ذات کو بہتر بنانے پر لگاتے ہیں، تو آپ نہ صرف اس سراب سے باہر نکل آتے ہیں بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، خودمختار اور ایک متوازن انسان بن کر ابھرتے ہیں۔

Loading