محرم الحرام ،حرمت والا مہینہ کیوں بنایا گیا؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اسلامی تقویم یعنی ہجری کیلنڈر کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ یہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔ اس مہینے کی اپنی ایک خاص تاریخی، شرعی اور روحانی حیثیت ہے۔
آئیے جانتے ہیں اسے حرمت والا مہینہ کیوں بنایا گیا؟ اس میں ہمارے لیے کیا احکامات ہیں اور موجودہ دور میں اس حوالے سے کون سی بدعات رائج ہو چکی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے وقت ہی بارہ مہینے مقرر فرمائے تھے۔ جن میں سے چار مہینوں کو خصوصی ادب، احترام اور حرمت کا درجہ دیا گیا۔
قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ۙ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ
“یقیناً اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب میں بارہ ہے، اسی دن سے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، پس تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔” سورۃ التوبہ 36
نبی کریم ﷺ نے ان چار مہینوں کی وضاحت فرماتے ہوئے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا:
”سال بارہ مہینوں کا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین لگاتار ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم، اور چوتھا رجب ہے جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان ہے۔” صحیح بخاری: 4662
ان مہینوں کو حرمت والا دو وجوہات کی بنا پر کہا جاتا ہے:اسلام سے قبل اور اسلام کے بعد بھی ان مہینوں میں جنگ، خون خرابہ اور ظلم و ستم کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا تاکہ لوگ امن و امان کے ساتھ حج اور عمرہ کی ادائیگی کر سکیں۔
مفسرِ قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ” اللہ تعالیٰ نے ان چار مہینوں کو خاص کیا ہے، ان کی حرمت کو بڑا گناہ قرار دیا ہے، ان میں گناہ کا وبال بھی بڑھ جاتا ہے اور نیک اعمال کا اجر و ثواب بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔”
محرم الحرام میں ہمیں کون سےمسنون اعمال کرنے چاہیے۔
مستند احادیث کی روشنی میں محرم کے مہینے میں خاص طور پر درج ذیل دو اعمال کی ترغیب دی گئی ہے: کثرت سے نفلی روزے رکھنا
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔” صحیح مسلم: 1163
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا مہینہ روزہ رکھا جائے، بلکہ اس مہینے میں جتنے زیادہ ہو سکیں نفلی روزے رکھنے چاہئیں۔
عاشورہ (10 محرم) کا روزہ اور اس کی فضیلت
۱۰ محرم کا دن تاریخِ اسلام میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہودی اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی تھی، جس کے شکرانے میں وہ روزہ رکھتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: “تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام پر ہمارا حق ہے۔” چنانچہ آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی حکم دیا۔ صحیح بخاری: 2004
نبی کریم ﷺ سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
”مجھے اللہ کی ذات پر امید ہے کہ یہ پچھلے ایک سال کے (صغیرہ) گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔” صحیح مسلم: 1162
زندگی کے آخری سال رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو (یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کے لیے) ۹ محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔ صحیح مسلم: 1134۔
اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ ۹ اور ۱۰ محرم یا ۱۰ اور ۱۱ محرم کا روزہ رکھنا مستحب ہے تاکہ یہود کی مشابہت نہ ہو۔
دورِ حاضر میں محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس میں در آنے والی چند انتہائی سنگین اور غلو پر مبنی رسومات ہیں، جو اسلامی تعلیمات، خاص طور پر توحید اور عقیدۂ رسالت کے بنیادی اصولوں سے صریحاً متصادم ہیں۔ ان رسومات کی مماثلت غیر مسلموں (جیسے ہندوؤں کے تہواروں) سے ہونا بالکل واضح نظر آتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس مبارک مہینے کے ساتھ بہت سی ایسی رسومات، توہمات اور بدعات جوڑ دی گئیں جن کا قرآن و سنت اور صحابہ کرام کے دور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان میں سے نمایاں درج ذیل ہیں:
1:بہت سے لوگ محرم کے مہینے کو نعوذ باللہ منحوس سمجھتے ہیں۔ اس مہینے میں شادیاں نہ کرنا، خوشی کی تقاریب منعقد نہ کرنا، نیا کاروبار شروع نہ کرنا، یا سفر کرنے کو برا سمجھنا صریحاً جہالت اور اسلام کے تصورِ توحید کے خلاف ہے۔ اسلام میں کوئی دن یا مہینہ منحوس نہیں ہوتا۔
2:سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی یومِ عاشورہ (61 ہجری) کو شہادت بلاشبہ تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی المناک اور دردناک واقعہ ہے جس پر ہر مسلمان کا دل غمگین ہے۔ لیکن اس غم میں گریبان چاک کرنا، چہرے اور سینے کو پیٹنا، اور نوحہ خوانی کرنا شریعت میں سخت حرام ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو (مصیبت کے وقت) رخسار پیٹے، گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی پکار پکارے۔” صحیح بخاری: 1294
3:عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل و عیال پر کھانے پینے میں وسعت کرے گا، اللہ پورا سال برکت دے گا۔ محدثین جیسے امام احمد بن حنبل اور دیگر کے نزدیک یہ روایت انتہائی ضعیف یا من گھڑت ہے۔ اسی طرح اس دن خاص طور پر سرمہ لگانا، غسل کرنا یا حلیم پکانے کو لازم اور کارِ ثواب سمجھنا بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔
4:عوام میں یہ بھی مشہور ہے کہ اسی دن قیامت آئے گی، اسی دن سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اسی دن سیدنا یوسف علیہ السلام کنویں سے نکلے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے دن فرعون کے غرق ہونے اور موسیٰ علیہ السلام کی نجات کے علاوہ باقی جتنی باتیں مشہور ہیں، وہ سب من گھڑت اور بے اصل ہیں۔
5:محرم (یومِ عاشورہ) کو ہاتھوں، چھریوں، تلواروں یا زنجیروں سے اپنے جسم کو زخمی کرنا اور خون بہانا۔ اسلام میں اپنے نفس کو خود تکلیف پہنچانا اور ماتم کرنا سخت ممنوع ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے رخسار پیٹنے اور گریبان چاک کرنے والوں کو اپنے طریقہ کار سے خارج قرار دیا ہے۔
6:مجالس میں بلند آواز سے بین کرنا، روایتی انداز میں گریہ و زاری کرنا اور ایسے اشعار یا کلمات پڑھنا جن میں تقدیر کا شکوہ یا مبالغہ آرائی شامل ہو۔ اسلام میں مصیبت پر صبر کرنے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کا حکم ہے۔
7: رسول اللہ ﷺ، سیدنا علی، سیدنا حسن، سیدنا حسین یا دیگر اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں سے منسوب علم (جھنڈے)، ذوالجناح (گھوڑا)، مہندی کے طشت اور مزارات کی شبیہ (تعزیے) بنانا اور ان کے جلوس نکالنا۔ ان اشیاء کو متبرک سمجھنا اور ان سے مرادیں مانگنا شرعی حدود کے خلاف ہے۔جلوسوں میں ایک خاص گھوڑے کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مبارک گھوڑے ذوالجناح کی شبیہ بنا کر لایا جاتا ہے۔ لوگ اس گھوڑے کو چھو کر برکت حاصل کرتے ہیں، اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں، منتیں مانگتے ہیں اور اپنی حاجتیں پیش کرتے ہیں۔
اسلام میں سجدہ، دعا، اور حاجت روائی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ کسی جانور کے سامنے سر جھکانا یا اس سے مرادیں مانگنا کھلا شرک ہے، جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
حالیہ دور میں یہ فتنہ بہت تیزی سے پھیلا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک اہلِ بیت (سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم) کی فرضی تصاویر، پوسٹرز، اور انسانی ماڈلز بنائے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض مجالس اور جلوسوں میں ڈرامائی انداز اپناتے ہوئے حوروں یا فرشتوں کے روپ میں لڑکے یا لڑکیاں کھڑی کی جاتی ہیں۔
اسلام میں انبیاءِ کرام، صحابہ اور اہل بیت کی شبیہ سازی (پتلے، تصاویر یا ڈرامے بنانا) سخت حرام اور ان کی توہین کے مترادف ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کے ذریعے ماضی کی امتوں میں بت پرستی کا آغاز ہوا تھا۔جلوسوں میں کربلا کے میدان کا نقشہ، روضۂ حسین کا ماڈل، اور سیدنا علی اصغر کے نام پر چھوٹا سا پنگھوڑا بنا کر لایا جاتا ہے۔ اس جھولے پر تیر لٹکائے جاتے ہیں اور فرضی خون چھڑکا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں جذباتی کیفیت پیدا کی جا سکے۔
دینِ اسلام جذباتیت کا نہیں بلکہ اتباعِ سنت کا نام ہے۔ ان مصنوعی ماڈلز اور پنگھوڑوں کو کارِ ثواب سمجھنا اور ان کے گرد طواف کی طرح چکر لگانا دین میں ایجاد کردہ بدعت ہے۔
جیسے ہندو اپنے تہواروں (مثلاً رام لیلا یا درگا پوجا) میں بھگوانوں کی مورتیاں اور ماڈلز بناتے ہیں، دن بھر ان کا جلوس نکالتے ہیں اور آخر میں انہیں کسی دریا یا سمندر میں بہا دیتے ہیں جسے وہ ‘مورتی وسرجن’ کہتے ہیں؛ بالکل اسی طرح محرم میں لکڑی اور کاغذ کے اونچے اونچے تعزیے اور کربلا کے ماڈلز بنائے جاتے ہیں ان کی زیارت کی جاتی ہے، اور ۱۰ محرم کی شام کو انہیں کسی دریا، نہر یا قبرستان میں لے جا کر دفن کیا جاتا ہے یا پانی میں بہا دیا جاتا ہے۔جسے تعزیے ٹھنڈے کرنا کہا جاتا ہے۔
یہ عمل صد فیصد ہندووانہ تہذیب اور بت پرستی کی رسومات کی نقل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا واضح ارشاد ہے:
”مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ”
“جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے۔” سنن ابی داؤد: 4031
8: مجالس اور جلوسوں کے دوران بعض ایسے بیانات یا نعرے بازی کرنا جس میں جلیل القدر صحابہ کرام مثلاً سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہماور امہات المؤمنین بالخصوص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی یا لعن طعن شامل ہو۔ قرآن و حدیث میں صحابہ کرام کی مدح بیان کی گئی ہے اور ان پر تنقید سے منع کیا گیا ہے۔
9: مجالس اور دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کو براہِ راست پکارنے کے بجائے یا علی مدد یا یا حسین کے نعرے لگانا اور ان سے حاجت روائی یا مشکل کشائی کی امید رکھنا۔ شریعت کی رو سے دعا اور پکار صرف اللہ رب العزت کا حق ہے۔
10:محرم کے مہینے میں غم کے اظہار کے طور پر مردوں، عورتوں اور بچوں کا لازمی طور پر سیاہ لباس پہننا اور اسے کارِ ثواب سمجھنا۔ اسلام میں کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کی اجازت نہیں ہے سوائے بیوہ کے، جس کا سوگ عدت کے دوران چار ماہ دس دن ہے۔
11: اس مہینے میں ہر قسم کی جائز خوشی، نکاح، نئی گاڑی یا مکان خریدنے، عطر لگانے، یا اچھے کھانے پکانے کو ممنوع سمجھنا۔ یہ دین میں اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام کرنے کے مترادف ہے۔
12:محرم کے نام پر لگائی جانے والی سبیلوں یا نیاز کے کھانوں کو عام کھانوں سے افضل یا متبرک سمجھنا، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ اس کھانے میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی خاص برکت یا شفا شامل ہے۔
محرم الحرام اللہ کا مہینہ ہےجس کا احترام گناہوں سے بچ کر، کثرت سے استغفار کر کے اور ۹ اور ۱۰ محرم کا روزہ رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی ہمیں حق پر ڈٹ جانے اور نماز و شریعت کی پابندی کا درس دیتی ہے نہ کہ بدعات و رسومات میں پڑنے کا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ لیکن محبت کا تقاضا ان کے نقشِ قدم نماز کی پابندی، حق گوئی، اور شریعت کی اطاعت پر چلنا ہے۔ نہ کہ ایسی رسومات اختیار کرنا جن کا ثبوت خود سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یا دورِ صحابہ سے نہیں ملتا۔
جب دین کو قرآن و سنت کے بجائے جذباتی روایات اور دوسری تہذیبوں کے اثرات کے تحت چلایا جائے تو دین کا اصل چہرہ مسخ ہو جاتا ہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے خلاف قیام اس لیے کیا تھا تاکہ نانا محمد ﷺ کا دین اپنی اصل حالت میں باقی رہے نہ کہ اس لیے کہ ان کی شہادت کے بعد دین کو تماشہ اور غیر مسلموں کی رسومات کا گہوارہ بنا دیا جائے۔اس لیے نبیﷺکی اطاعت و اتباع حسین رضی اللہ عنہ میں قرآن سنت پڑھ، سمجھ کر اس پر عمل کرنا چاہیے۔
![]()

