Daily Roshni News

نعمت کے ساتھ ظلم

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

ہالینڈ (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پہلے تو یہ ذہن نشین کرلیں صرف ذی روح کے ساتھ ہی ظلم نہیں ہوتا عمارت معاشرہ فن روایات ان سب کے ساتھ بھی ظلم ہوتا ہے ،ظلم کے معنی وہ نقصان ہے جو زیادتی کرکے کیا جائے نعت کے ساتھ جس ظلم کا آج میں نے ذکر کرنا ہے وہ ایک نعت خواں کی نعت کے ساتھ کھلی زیادتی ہے ایک وڈیو مجھے بھیجی گئی جس میں ایک پاکستان کے معروف نعت خواں ڈھول تاشوں کے ساتھ کلام پڑھ رہے ہیں موصوف اس سے پہلے اکیلے ہی نعت پڑھتے تھے اور بہت اچھی پڑھتے تھے لیکن کوئی چھ سات سال سے وہ اپنی اصل شناخت کھوکر خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کی مصداق طبلے دف  اور ہم نواؤں کے ساتھ نعت پڑھنے لگے ہیں اور اعزازات بھی لے چکے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کے واحد نعت خواں ہیں جنہوں نے ایک رات میں پچیس لاکھ روپے کا نذرانہ وصول کیا ہے وڈیو میں واضح نظر آرہا ہے ان کے پہلو میں ایک عورت یا خواجہ سرا بیٹھا ہے اور وہ اس کے کہنے پر شعر کی تکرار کررہے ہیں اور سامنے عورت یا خواجہ سرا دھمال ڈال رہا ہے یہ نعت کے ساتھ بہت گھناؤنا ظلم ہے لیکن اس نعت خواں کو کچھ کہنے سے پہلے آپ کو تقریبا سترہ سال پیچھے جانا ہوگا جب مکمل داڑھیوں زرق برق لباس جس میں چوڑی دار پاجامہ اور پگڑیوں کے ساتھ نعت خواں منظر عام پر آئے اور جھولے لال شروع ہوا ذکر کے ردھم پر نعت خوانی کے ساتھ اعلانیہ ظلم ہوا سب خاموش رہے چار سال اس ظلم پر آنکھیں بند رکھیں اور لوگ  جب ظلم کے عادی ہوگئے تو “رجوع”کی کہانی شروع ہوگئی کیونکہ اس انداز کی موت قریب نظر آرہی تھی شاباش ہے ان نعت خوانوں پر اور ان سامعین پر جنہوں نے اس ظلم کی نہ صرف مذمت کی بلکہ کھل کے اعلان لا تعلقی کیا جس کی بدولت آج بھی نعت اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہے

سید فصیح الدین سھروردی

17جون 2026 ہیوسٹن

Loading