ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )برأت: عربی لفظ ہے، جس کے معنی ہیں، رہائی، خلاصی، نجات، سبک دوشی
اس شعر میں "برأت” کا مفہوم محض نجات نہیں بلکہ امتحانِ ہستی سے رخصتی، کشمکشِ وجود سے آزادی، اور وقت کے تعاقب سے خلاصی ہے،
نظم مسجدِ قرطبہ کے ابتدائی حصے میں اقبال رحمہ اللّہ سب سے پہلے زمان کو موضوع بناتے ہیں،
سلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
سلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و ممات
یہ محض شاعرانہ تمہید نہیں، بلکہ پوری نظم کا فلسفیانہ دروازہ ہے،
اقبال رحمہ اللّہ کے نزدیک کائنات کی سب سے بڑی حقیقت مادہ نہیں، مکان نہیں، بلکہ زمان ہے، زمان ایک خاموش دریا ہے جو ہر شے کو اپنے ساتھ بہائے لیے جا رہا ہے، سلطنتیں، تہذیبیں، عمارتیں، تاج و تخت، حسن و شباب، سب اس کے سامنے بے بس ہیں،
اسی لیے وہ روز و شب کے اس سلسلے کو:
"صیرفیِ کائنات”
قرار دیتے ہیں،
صیرفی وہ ہوتا ہے جو کھوٹے اور کھرے سکوں کو پرکھتا ہے، زمان بھی یہی کرتا ہے، وہ ہر وجود کو آزماتا ہے، ہر دعوے کو جانچتا ہے، ہر عظمت کو کسوٹی پر رکھتا ہے،
مگر یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے،
اگر زمان سب کچھ بدل دیتا ہے تو پھر اس کی گرفت سے کون بچتا ہے؟
اقبال رحمہ اللّہ اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے اچانک موت کا ذکر کرتے ہیں،
کیونکہ زمان کی عدالت کا آخری فیصلہ موت ہے،
اقبال رحمہ اللّہ کے نزدیک موت صرف جسم کا خاتمہ نہیں،
موت دراصل وقت کے اُس فیصلے کا نام ہے جس کے بعد ہر ظاہری امتیاز ختم ہو جاتا ہے،
شاہ و گدا، فاتح و مفتوح، عالم و جاہل، سب ایک ہی دروازے سے گزرتے ہیں،
اسی تناظر میں اقبال رح کہتے ہیں،
تُو ہو اگر کم عیار، میں ہوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برأت، موت ہے میری برأت
یعنی اگر تو بھی زمان کی کسوٹی پر پورا نہ اترا، اور میں بھی نہ اتر سکا، تو آخرکار موت ہم دونوں کو یکساں طور پر اس امتحان سے آزاد کر دے گی،
یہاں موت سزا نہیں، بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو سب کو برابر کر دیتی ہے،
مگر اقبال رحمہ اللّہ کی فکر کا ایک اور پہلو بھی ہے،
ان کے نزدیک موت صرف خاتمہ نہیں بلکہ انتقال ہے،
وہ موت کو فنا نہیں سمجھتے، بلکہ ایک نئی سطحِ وجود میں داخلہ قرار دیتے ہیں،
اسی لیے ان کے ہاں مردِ مومن کے لیے موت خوف نہیں بلکہ ارتقاء کا دروازہ ہے،