Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہوگا ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

شباب کی باتیں

 ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہوگا

تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہوگا ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب)دل دکھانے کی بات کرتے ہو؟  بے بسی کی اس سے بڑی انتہا اور کیا ہوگی کہ وہ جو علم بانٹتے ہیں عقل و فہم بانٹتے ہیں، اب انہیں اپنی کتابیں فروخت کرنے کے لیے اپنی اولاد کے علاج کی سفارش کا سہارا لینا پڑے گا، نوبت یہاں تک کیوں پہنچی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے کتاب خرید کر پڑھنے کا رجحان نہیں ہے اور گنتی کے چند (جن کی تعداد بمشکل دو ڈھائی درجن ہی ہوگی) اہل قلم کے علاوہ کسی کی کتاب خریدنے پر کوئی تیار نہیں ہوتا، اس لیے اہل قلم کتابیں اپنے خرچ پر چھاپ کر مفت بانٹنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ باوجود اس صورتحال کے کتب بینی کے حوالے سے لطیفے ہی جنم لیتے رہتے ہیں اور بقول شاعر

 سب اپنی اپنی خریداریوں کی فکر میں ہیں

 نظر کسی کی نہیں ہے میرے خسارے پر

اگر اس شعر کی وضاحت کرتے ہوئے اسے کتب بینی اور کتب فروشی کے ساتھ نتھی کر دیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ خسارے کا سارا مسئلہ اہل قلم کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، اگرچہ یہ صورتحال صرف ہمارے ملک میں نظر آتی ہے اور مغرب یا ترقی یافتہ دنیا سے تعرض نہ بھی رکھا جائے تو پھر بھی ہم اپنے ہمسائے میں اہل قلم کی توقیر اور عزت سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے اور وہ جو چند سال پہلے ایک فلم ائی تھی، تو اس میں جو کہانی بیان کی گئی تھی اگرچہ اس کے اور بھی پہلو تھے تاہم کتاب کی اہمیت اور لکھنے والے کی قدر و قیمت کے حوالے سے کہانی کا جو حصہ فلم میں شامل تھا اس میں جھوٹ کا کوئی شائبہ نہیں تھا، یعنی واقعی ہمسایہ ملک میں کتابوں سے مصنفین اتنا کما لیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اب ذرا پہلی دنیا یعنی ترقیافتہ ممالک پر بھی تھوڑی سی نظر ڈالیں تو وہاں ایک شخص صرف ایک کتاب ہی لکھ ڈالے تو اس کے کئ مجلد ایڈیشنز کے علاوہ پیپر بیک میں لا تعداد ایڈیشن شائع ہوتے رہتے ہیں اور مصنف کو ہر نئے ایڈیشن کی رائلٹی پہلے سے بھی  زیادہ ادا کی جاتی ہے جس سے وہ نہال ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب باغبان کا ناشر مصنف یعنی امیتاب بچن کو مزید چیک دیتے ہوئے کچھ اس قسم کے الفاظ ادا کرتا ہے۔  ” لیجئے صاحب ابھی اس قسم کے مزید کئی چیکس اپ کو پیش کیے جائیں گے”

اس کے برعکس ہمارے ہاں گنتی کے چند لکھاری ایسے ہوں گے جن کو ان کی کتابوں کی رائلٹی ملتی ہے باقی بیچارے تو سجاد بابر مرحوم کا یہ شعر ہی دہرانے پر مجبور ہوتے ہیں

 ایک ہا کر  انسوؤں کی دھند میں یہ کہہ گیا

 پھول بھی بیچا کروں گا کل سے اخباروں کے ساتھ

روس چین اور دیگر سوشلسٹ ملکوں میں تو حکومتی سطح پر ایسے ادارے کام کرتے ہیں جہاں لکھنے والوں کی انجمنوں کو ہر قسم کی سہولیات میسر آتی ہیں اور سرکاری سطح پر کتابیں شائع کر کے دنیا بھر میں پھیلائی جاتی ہیں، لکھاریوں کو رائلٹی ملتی ہے۔ جبکہ

 ترقی یافتہ مغربی ممالک میں بڑے بڑے کنسورشیم کام کرتے ہیں وہاں بہترین چھپائی سے کتابوں کے کئی کئی ایڈیشن مارکیٹ میں لائے جاتے ہیں جو نہ صرف اہم لائبریریوں کی زینت بنتے ہیں بلکہ انہی کتابوں کے سستے ایڈیشن جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے پیپر بیک ایڈیشن کی صورت میں شائع کئے جاتے ہیں جو قیمت کے لحاظ سے اتنے سستے ہوتے ہیں کہ متوسط طبقے کے لوگ بھی آسانی سے خرید کر پڑھ لیتے ہیں اور پھر دوسروں کے لیے مفت مہیا کرنے کی خاطر کتاب مارکیٹوں میں بلا قیمت رکھ دیتے ہیں۔ یہی کتابیں پھر ردی کی صورت میں ترقی پذیر اور غریب ملکوں کو بھیجی جاتی ہیں جو کتابوں کے سوداگر اپنے ہاں بھاری قیمت پر فروخت کر کے اچھا خاصا منافع کما لیتے ہیں۔ ان پیپر بیک کتابوں کے لیے سرکاری سطح پر بک پیپر کی صورت میں سستا کاغذ مہیا کیا جاتا ہے جبکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں  بک پیپر تو ایک طرف اس سے بھی کم معیار کے نیوز پیپر کی قیمت بھی مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی وجہ سے اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ عام ادمی کی دسترس سے باہر ہو جاتی ہے۔  یہاں تک کہ اب تو ٹیکسٹ بکس یعنی سکولوں کالجوں کی درسی کتب بھی اسی غیر معیاری کاغذ پر شائع ہونے کے باوجود یہ کتابیں مہنگی ہوتی ہیں۔  رہ گئیں ادبی کتب تو یہ لکھنے والے کی صوابدید پر ہے کہ وہ اپنی کتاب کا معیار کیا رکھتا ہے مگر ساتھ ہی اس کی یہ خواہش کہ کوئی اس کی کتاب خرید کر پڑھے گا؟

 ایں خیال است و محال است و جنوں۔

کتابیں یقیناً بکتی بھی ہیں مگر یہ ایک اور دھندا بلکہ گورکھ دھندہ ہے کہ تمام تر فائدہ کتب فروش یا ناشر کو مل جاتا ہے اور ادیب، شاعر، محقق۔۔۔ وہ تو بیچارے اگر اپنی خرچ کردہ رقم بھی واپس حاصل کر سکیں تو ان سے بڑا خوش قسمت اور کون ہوگا، جبکہ کتاب لکھنے سے لے کر کتاب کی فروخت تک کے مراحل میں بیچارہ لکھاری تو کہیں دور دور تک نظر نہیں آتا البتہ کمپوزنگ ( پہلے زمانے میں کتابت ہوتی تھی) پرنٹنگ، کاغذ کی فراہمی،  بائنڈنگ وغیرہ وغیرہ میں ملوث طبقات کو تو فائدہ ہوتا ہے مگر لکھاری؟؟؟ مرحوم مقبول عامر نے شاید ایسے ہی موقعوں کے لیے کہا تھا

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہء رسوائی ہے

 دودھ کی نہر تو پرویز کے کام آئی ہے

کالم کی ابتدا میں ہم نے ایک ایسے دوست کی بات کی تھی جنہوں نے اپنی تازہ تخلیق شائع ہونے کے بعد یہ اعلان کیا کہ وہ یہ کتاب کسی کو بھی مفت میں نہیں دیں گے بلکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدن سے اپنے فرزند ارجمند کا علاج کریں گے جو بیچارہ کینسر کے مرض سے نبرد آزما ہے، یہ صورتحال ہمارے لیے بہت دل شکن ثابت ہوئی کہ اب اہل قلم جن کے اس معاشرے پر بہت احسانات ہیں یعنی اپنی تحریروں سے معاشرے کو سدھارنے میں مصروف ہوتے ہیں اور اگر ایک لکھاری نے اپنی پہلے کی کتابوں سے کچھ نہیں کمایا اور اب وہ اس قدر مجبور ہو گیا ہے کہ اس نے کتابوں سے دلچسپی رکھنے والوں سے کچھ اور نہیں اپنا محنتانہ طلب کیا ہے یہ کہہ کر کہ وہ مزید کتابیں مفت میں نہیں بانٹ سکتا، تو اب یہ فیصلہ لوگوں نے کرنا ہے کہ بقول بابا اشفاق احمد موصوف کی کتاب فٹ پاتھ پر اور جوتے شیشے کی الماریوں میں رکھنے کا وتیرہ اختیار کرنا ہے یا پھر کتاب خرید کر کینسر سے لڑنے والے معصوم بچے کی مدد کرنی ہے

 ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہوگا

اور درویش کی صدا کیا ہے؟

Loading