Daily Roshni News

ماں کو دیکھ کر بیٹی سے شادی کرو

ماں کو دیکھ کر بیٹی سے شادی کرو

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ترکی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ ( میں کہاوت میں تبدیلی نہیں کر سکتا

 “Anasına bak, kinzini al

ماں کو دیکھ کر بیٹی سے شادی کرو

“Anasına bak, kızını al; kenarına bak, bezini al”

مکمل اور لفظی ترجمہ یہ ہے:

“ماں کو دیکھ کر بیٹی سے شادی کرو، اور کنارے کو دیکھ کر کپڑا (یا دسترخوان) خریدو

ہم اس سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں البتہ ماں اور اولاد کا ایک دوسرے پر اثر ، ان مٹ اور ان مول ہے البتہ ایسا رہا کہ پچھلے ۵۰ گھنٹوں میں کم و بیش پانچ ماؤں سے بالواسطہ ملاقات ہوئی اور چاہیں تو پانچ والدین سمجھ لیں

میں اس وقت ایک مشرقی ملک میں ہوں اور ایک جگہ پر ایک آٹھ دس سال کا خوشگوار ، روشن پیشانی اور چمکتی آنکھوں والا قازقستان کا بچہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔ اُس کو قران یاد کرتے دیکھ کر بے ساختہ اس کا نام پوچھا۔ دوستانہ انداز کے اس بچے نے میرا انٹرویو کرنا شروع کر دیا۔ مجھے معمولی سی عربی آتی ہے اور اس بچے کو بھی شُدھ بُدھ تھی۔ کہنے لگا کہ وہ سول انجینئیر بننا چاہتا ہے اور مجھ سے پُوچھا کہ میں کہاں رہتا ہوں۔ امریکہ کا سُن کر اُس کا چہرہ جگمگا اٹھا۔ قران یاد کرتے ہوئے اس بچے کو جُوس اور ایک سنیک ملا اور اُس نے کھانے سے پہلے ہی مجھے کھلانے کی کوشش کی۔ آفرین ہے اُس کی ماں پر

چند گھنٹے گزر گئے اور مجھے ایک نوجوان ، خوش شکل اور خوش حال لڑکے نے خود سے سلام کیا اور چند گھنٹوں بعد ایک عمر رسیدہ شخص نے بھی مجھ سے پہلے ہی مجھے سلام کر ڈالا۔ میں نے ہمیشہ سلام میں پہل کی ہے لیکن انہوں نے مجھے موقع ہی نہیں دیا۔ دو اور ماؤں سے ملاقات ہو گئی

لفٹ میں مجھے مدد کی ضرورت پڑی اور ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ اس کا تعلق برما سے ہے اور اور اس کے والد کو بیس سال کے لئے جیل میں ڈال دیا گیا اور جیل میں ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ ساتھ ساتھ گویا حسرت سے مجھے دیکھتے ہوئے بھلے اپنے والد کی شفقت کو یاد کیا ہو اور کہنے لگا کہ عمر میں ( وفات کے وقت ) آپ سے بڑے تھے یعنی شاید اب میں ان کی عمر کو پہنچ چُکا ہوں۔ بھائی کا گھر جلا دیا گیا اور اب وہ ایک ٹینٹ میں رہتے ہیں۔ ایک صبر کرنے والی ماں سے ملاقات ہوئی۔

میرے پاؤں میں تکلیف ہے اور مجھے مدد کا کہنا ہوا۔ نوجوانی سے جواں عمری کا سفر کرتے ہوئے ایک سانولے اور دمکتے چہرے کے روشن ضمیر شخص نے میری مدد کی اور اس دوران ہم نے بات چیت شروع کر ڈالی۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کی شادی کو آٹھ سال ہو گئے ہیں لیکن وہ اولاد سے محروم ہے البتہ جب وہ ان لوگوں کو دیکھتا ہے جن کی ٹانگیں نہیں ہیں یا وہ اور مسائل کا شکار ہیں تو وہ ان تمام احسانوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہے جو اس کے پاس ہیں۔

آخر میں اس نے جو بھی کہا اس کا بین السطور مفہوم جان کر میں گویا کانپ اٹھا۔ کہنے لگا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے تو وہ تب تک انتظار کرے گا جب تک اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتے۔ وہ اس نعمت کا انتظار کرے گا لیکن وہ ان تمام انعامات پر اللہ کا شکرگزار ہے جو اس کو ملے اور دوسرے لوگ زیادہ پریشان ہیں۔ ایک ایسی ماں سے ملا جس نے ہرحال میں صبر اور شکر کا درس دیا

یوں کہئیے کہ ہم اور آپ انسانوں سے نہیں ملتے بلکہ کبھی ہم اُن کے والدین سے ملاقات کرتے ہیں۔ نرم مزاج ، شائستہ ، تہذیب یافتہ ، ہر حال میں شکر کرنے والے اور تسلیم کرنے والے۔

ہر وہ سایہ دار درخت جس کا بیج زمین میں بو دیا جاتا ہے وہ بیج بونے والے کے والدین کا پتہ دیتا ہے۔ ہر وہ ہاتھ جو مشکل وقت میں بڑھ کر ہاتھ تھام لیتا ہے اس کی بنیاد کہیں اور رکھی جاتی ہے۔ یہ وہ صدقہ ہے جو نسلوں تک چلتا ہے۔ سکھائی گئی اچھائیاں نرمی اور آہستگی سے بارش کے قطروں کی مانند زمین میں جذب ہوتی ہیں اور میٹھے پانی کی سطح کو اونچا کر ڈالتی ہیں۔ اسی زمین سے کبھی شیریں پانی کے چشمے پھوٹ بہتے ہیں اور کبھی صاف اور شفاف پانی کے لئیے کنواں کھودنا اور بور ڈالنا آسان ہو جاتا ہے

سرفراز سعید خان

انڈیانا میں ایک بھیگتی ہوئی شام 👇

Loading