دیوار مہربان، میزبان فریج
تحریر۔۔۔جاوید چوہدری
قسط نمبر2
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ دیوار مہربان، میزبان فریج۔۔۔ تحریر۔۔۔جاوید چوہدری) پاکستان میں بڑی تعداد میں اہل تشیع رہتے ہیں۔ مشہد ان کی نظروں میں مقدس شہر ہے، دسمبر میں چندا زائرین مشہد سے کراچی واپس آئے، انہوں نے اپنی آنکھوں سے مشہد میں دیوار مہربانی دیکھی تھی۔ یہ لوگ اس آئیڈیا سے متاثر تھے چنانچہ انہوں نے کراچی کی چند دیواروں پر دیوار مہربانی لکھا اور وہاں فالتو کپڑے لٹکا دیئے، کراچی شہر میں سردی نہیں پڑتی چنانچہ اس آئیڈیا کو یہاں زیادہ پذیرائی نہ ملی لیکن یہ آئیڈیا جب لاہور ، سیالکوٹ، راولپنڈی، کوئٹہ اور پشاور پہنچا، جب ان شہروں میں دیوار مہربانی بنیں اور جب لوگوں نے ان پر اپنے سویٹر، بیٹھیں، چادریں، کوٹ، جرابیں، لانگ شوز اور مظر انکانا شروع کئے تو اس آئیڈیا کو پر لگ گئے۔
یہ آئیڈ یا کتنا موثر ہے۔ آپ اس کا اندازہ صرف ایک مثال سے لگا لیجئے، پشاور میں جنوری میں پہلی بار دیوار مہربانی بنی، اس دیوار پر پہلے دو دن ہزار لوگوں نے گرم کپڑے لٹکائے اور اتنی ہی تعداد میں ضرور مندوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ یہ آئیڈیا اب پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے، اخبارات میں روزانہ کسی نہ کسی دیوار مہربانی کی تصویر شائع ہوتی ہے اور عوام کھونٹیوں پر لٹکے لباس اور ان میں سے اپنے ماپ کے کپڑے تلاش کرتے ضرورت مندوں کی تصویریں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور اس عظیم مشہدی انسان کے لئے دعا کرتے ہیں جس نے دنیا کو دیوار مہربانی کا آئیڈیا دیا۔
یہ ایران کا پہلا آئیڈیا نہیں جس نے تیزی سے دنیا کے دروازے دستک دی۔ اس سے قبل ایران سے فریج کا آئیڈیا بھی نکالا تھا۔ تہران کے کسی صاحب نے اپنی دکان کے سامنے ایک فریج رکھا اور اس فریج کے دروازے پر لکھ دیا ….
آپ اگر بھو کے ہیں تو آپ اس فریج سے اپنی مرضی کی چیز نکال کر کھالیں”
یہ آئیڈیا بھی کامیاب ہو گیا۔ لوگوں نے اپنے گھروں اور دکانوں کے سامنے فریج رکھنا شروع کر دیئے ، لوگ زائد کھانا ان فریجوں میں رکھ جاتے تھے، ضرورت مند آتے تھے، فریج کھولتے تھے اور اپنی ضرورت کے مطابق کھانا لے لیتے تھے ، تہران کے بعد یہ فریج ایران کے باقی شہروں میں بھی رکھے جانے لگے۔ یہ آئیڈیا بھی سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا میں پھیل گیا۔ آپ کو آج یہ فریج بھی دنیا کے مختلف ملکوں میں نظر آتے ہیں، یہ دونوں آئیڈیاز شاندار ہیں۔ ہم جس دنیا میں رو رہے ہیں، اس میں 85 کروڑ لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں، یہ لوگ ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، دنیا میں سب سے زیادہ بھوکے ایشیا میں رہتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق ایشیا کی ایک تہائی آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، آپ اگر صرف بچوں کے اعداد و شمار دیکھ لیں تو آپ پریشان ہو جائیں گے، دنیا میں ساڑھے چھ کروڑ بچے روزانہ بھوکے پیٹ سکول جاتے ہیں، ان میں سے دو کروڑ 30 لاکھ بچے افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ تصویر کی ایک سائیڈ ہے جبکہ دوسری طرف دنیا میں روزانہ ایک ارب 30 کروڑ ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے، یہ کل خوراک کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے، ہم اگر اس خوراک کو رقم میں تبدیل کریں تو ترقی یافتہ ممالک کے عوام سالانہ 680 ارب ڈالر اور ترقی پذیر ملکوں کے لوگ 310 ارب ڈالر کی خوراک ضائع کرتے ہیں، ضائع ہونے والی خوراک کا بڑا حصہ پھلوں، سبزیوں، ، گوشت، مچھلی، ڈیری مصنوعات اور اناج پر مشتمل ہوتا ہے۔
یہ ملک اگر اپنا فالتو کھانا کوڑے کے ڈھیروں پر پھینکنے کی بجائے یہ خوراک بھوک سے بلبلاتے اور مرتے لوگوں تک پہنچادیں تو دنیا کی شکل بدل جائے گی، انسان، انسان کے قریب آ جائے گا مگر ہم لوگ اپنی فالتو خوراک ڈسٹ بینوں میں پھینک دیں گے، ہمارے فالتو کھانے سے ہمارے گٹر بند ہو جائیں گے لیکن ہمیں اپنے ہمسائے میں بھوک کا بھنگڑا دکھائی نہیں دے گا۔
آپ ذرا سوچنے، ہم اپنے گھر کے سامنے ایک پرانا فریج رکھ کر بھوک کے خلاف کتنا بڑا جہاد کر سکتے ہیں..؟ کپڑوں کے معاملے میں بھی یہی صور تحال ہے، ہماری وار ڈرویز بھری رہتی ہیں، ہم سال بھر درجنوں سوئس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے، ہمارے پاس ایسے درجنوں جوتے بھی ہوتے ہیں جنہیں سال میں ایک بار بھی ہمارے پاؤس نصیب نہیں ہوتے لیکن ہم اس کے باوجود ان جوتوں اور ان کپڑوں کو اپنے آپ سے جدا نہیں کرتے ، ہمارے کپڑے، ہمارے جوتے خواہ الماری میں سڑ جائیں لیکن ہم کسی کو دیں گے نہیں! ہمارے سٹوروں میں گرم چادریں، کمبل، گدے اور تکئے سڑتے رہ جائیں گے ، ہم گھر سے نکلنے سے پہلے یہ سوچتے رہیں گے ، ہم آج کون سا سویٹر پہنیں لیکن ہمیں ہمسائے میں پڑے وہ لوگ نظر نہیں آئیں گے جو پوری رات کپکپا کر گزارتے ہیں، جن کے پاس سردیاں گزارنے کے لئے کوٹے ہوتے ہیں، بیٹیں اور نہ ہی رضائیاں اور عمیل۔ ہم زیادہ نہیں کر سکتے، نہ کریں لیکن ہم اپنی گلی میں دیوار مہربانی تو بنا سکتے ہیں، ہم اپنے تمام فالتو کپڑے دھو کر اور استری کر کے اس دیوار مہربانی پر انکا تو سکتے ہیں، ہم اسی طرح اپنی گلی میں میزبان فریج بھی رکھ سکتے ہیں تا کہ ہماری گلی کے لوگ اپنی فالتو خوراک اس فریج میں رکھ دیں اور ضرورت مند گزرتے گزرتے یہ خوراک نکال کر کھالیں، کیا یہ بھی ممکن نہیں، کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے …..؟
ہم اسی طرح غریب بستیوں کے سکولوں اور ہسپتالوں میں بھی میزبان فریج اور دیوار مہربانی بتا سکتے ہیں تا کہ لوگ وہاں اپنی زائد ادویات بھی چھوڑ جائیں، خوراک بھی اور کپڑے بھی اور یہ تمام چیزیں بعد ازاں ضرورت مند مریضوں اور ان کے لواحقین کے کام آجائیں، کیا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے ؟۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اپریل 2016
![]()

