Daily Roshni News

حضرت آدم علیہ السلام کا قد اور جنت میں اہلِ ایمان کی صورت

حضرت آدم علیہ السلام کا قد اور جنت میں اہلِ ایمان کی صورت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کبھی ذرا تصور کیجیے کہ وقت کی گھڑی الٹی سمت میں چلنے لگے، زمین کے تمام شہر، بستیاں، قلعے، سڑکیں، بازار اور سلطنتیں مٹ جائیں، پہاڑ اپنی خاموشی میں کھڑے رہیں اور انسان کی پوری تاریخ ایک لمحے میں سمٹ کر آغازِ آفرینش کے دروازے پر آ کھڑی ہو۔ نہ کوئی قبیلہ ہو، نہ کوئی قوم، نہ کوئی جنگ، نہ کوئی تجارت، نہ کوئی زبانوں کا اختلاف۔ صرف ربِ کائنات کی قدرت ہو اور اس کے تخلیقی ارادے کا عظیم مظہر۔

یہ وہ لمحہ ہے جہاں انسانی تاریخ کا پہلا باب کھلتا ہے۔

زمین ابھی اپنی ابتدائی خاموشی میں لپٹی ہوئی تھی۔ بلند پہاڑ اپنے وجود کے ساتھ کھڑے تھے، سمندر اپنی وسعتوں میں موجزن تھے، ہوائیں وادیوں میں گردش کر رہی تھیں، مگر ابھی تک کوئی انسانی قدم اس مٹی پر نہیں پڑا تھا۔ فرشتے اپنے رب کی تسبیح میں مشغول تھے اور آسمانوں میں ایک عظیم اعلان ہونے والا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ زمین میں ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہے۔

یہ اعلان صرف ایک مخلوق کی تخلیق کا نہیں تھا بلکہ پوری انسانی تاریخ، تہذیب، تمدن، علم، عبادت، محبت، قربانی اور آزمائشوں کے سفر کا آغاز تھا۔ اسی اعلان کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مرحلہ شروع ہوا۔

قرآنِ کریم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا۔ مختلف روایات میں بیان ہوا ہے کہ زمین کے مختلف حصوں کی مٹی کو جمع کیا گیا، اسی لیے انسانوں کے رنگ، مزاج، طبیعتیں اور خصوصیات مختلف ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اس مٹی کو ایک کامل انسانی قالب کی صورت عطا فرمائی۔

تصور کیجیے وہ لمحہ جب پہلی بار انسانی وجود سامنے آیا ہوگا۔

ایک ایسا وجود جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے پیدا فرمایا، جسے علم عطا کیا، جسے فرشتوں پر فضیلت دی اور جسے زمین کی خلافت کے لیے منتخب کیا۔

احادیثِ نبویہ میں حضرت آدم علیہ السلام کے قد کے بارے میں واضح بیان موجود ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ساٹھ ہاتھ قد پر پیدا فرمایا۔”

عربی پیمائش کے مطابق ایک ہاتھ (ذراع) تقریباً ڈیڑھ فٹ کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ اس حساب سے حضرت آدم علیہ السلام کا قد تقریباً نوے فٹ کے قریب بنتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی اور عظیم الجثہ قامت تھی جو ابتدائی انسانی تخلیق کے شایانِ شان تھی۔

سوچیے، اگر آج کا انسان ان کے سامنے کھڑا ہوتا تو شاید کسی بلند مینار کے سائے میں کھڑا محسوس ہوتا۔ ان کی قامت درختوں کی بلندیوں سے ہم آہنگ نظر آتی، ان کا وجود زمین پر اللہ کی عظمت کی ایک زندہ نشانی معلوم ہوتا۔

لیکن یہ صرف آدم علیہ السلام کی خصوصیت نہیں تھی۔ حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ انسانوں کے قد کم ہوتے گئے یہاں تک کہ موجودہ دور کے انسان اس شکل تک پہنچے جسے ہم آج دیکھتے ہیں۔

حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی۔

یہ وہ لمحہ تھا جب خاموش مٹی زندگی میں بدل گئی۔

آنکھیں کھلیں، شعور بیدار ہوا، زبان کو قوتِ بیان ملی اور انسان نے پہلی مرتبہ کائنات کو دیکھا۔ فرشتوں نے اس نئی مخلوق کو دیکھا جو علم، ارادہ، اختیار اور ذمہ داری کی حامل تھی۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھائے۔ یہ انسانی علم کا پہلا مدرسہ تھا۔ فرشتے حیران تھے، آسمان خاموش تھا اور آدم علیہ السلام کو وہ علم عطا کیا جا رہا تھا جو انہیں زمین کی خلافت کے لیے تیار کر رہا تھا۔

اس کے بعد جنت کا مرحلہ آتا ہے۔

جنت کا ذکر آتے ہی انسانی تصور کی تمام حدیں ختم ہونے لگتی ہیں۔ دنیا کے باغات، دریا، پہاڑ، جنگلات اور خوبصورت مناظر اپنی تمام تر دلکشی کے باوجود جنت کے مقابلے میں محض ایک سایہ ہیں۔

وہاں نہ سخت گرمی ہے نہ شدید سردی۔

وہاں نہ بیماری ہے نہ بڑھاپا۔

وہاں نہ غم ہے نہ جدائی۔

وہاں نہ تھکن ہے نہ کمزوری۔

حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت میں ٹھہرایا گیا۔ جنت کی وسعتوں میں وہ ایسے باغات موجود تھے جن کے نیچے نہریں بہتی تھیں، ایسے درخت تھے جن کے پھل کبھی ختم نہیں ہوتے تھے، ایسی خوشبوئیں تھیں جن کی مثال دنیا میں نہیں ملتی اور ایسا سکون تھا جو کسی انسانی دل نے کبھی محسوس نہیں کیا۔

وہاں کی زمین مشک سے زیادہ خوشبودار تھی، وہاں کے محلات موتیوں اور سونے سے مزین تھے اور وہاں کی فضا اللہ کی رحمت سے لبریز تھی۔

اگر ہم جغرافیائی انداز میں تصور کریں تو جنت دنیا کے کسی خطے، کسی پہاڑی سلسلے یا کسی وادی سے مشابہ نہیں۔ اس کی وسعتیں انسانی عقل کے اندازوں سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں بھی اس کے ایک گوشے کے برابر نہیں ہو سکتیں۔

پھر آزمائش کا وقت آیا۔

شیطان، جو اپنی تکبر اور سرکشی کی وجہ سے مردود قرار پا چکا تھا، آدم علیہ السلام کو بہکانے کے لیے سرگرم ہوا۔ اس نے دھوکے اور فریب کا راستہ اختیار کیا۔

وہ جانتا تھا کہ براہِ راست مقابلہ ممکن نہیں، اس لیے اس نے وسوسے کا ہتھیار استعمال کیا۔

بالآخر آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام سے وہ لغزش ہوئی جس کا ذکر قرآنِ کریم میں موجود ہے۔

لیکن یہاں ایک عظیم حقیقت سامنے آتی ہے۔

انبیاء علیہم السلام کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی پر فوراً رجوع کرتے ہیں۔

آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے توبہ کی، معافی مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔

اس کے بعد زمین پر نزول کا مرحلہ آیا۔

یہ انسانی تاریخ کی پہلی ہجرت تھی۔

جنت کے سکون سے دنیا کی آزمائشوں کی طرف سفر۔

آرام سے جدوجہد کی طرف سفر۔

اب زمین انسان کا میدانِ امتحان بننے والی تھی۔

صدیاں گزرتی گئیں، قومیں وجود میں آئیں، قبائل آباد ہوئے، شہروں نے جنم لیا، سلطنتیں اٹھیں اور مٹ گئیں، لیکن آدم علیہ السلام کی نسل زمین پر پھیلتی رہی۔

پھر ایک دن ایسا آئے گا جب دنیا کا یہ امتحانی سفر ختم ہو جائے گا۔

قیامت برپا ہوگی۔

زمین اور آسمان کا موجودہ نظام بدل دیا جائے گا۔

اور پھر اہلِ ایمان کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔

یہاں وہ عظیم سوال سامنے آتا ہے کہ جنت میں اہلِ ایمان کی صورت کیسی ہوگی؟

رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں نہایت واضح رہنمائی فرمائی ہے۔

صحیح احادیث کے مطابق جنتی لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوں گے۔ ان کا قد ساٹھ ہاتھ ہوگا، وہ جوان ہوں گے، ان کے چہروں پر نور ہوگا، ان کے جسم بیماریوں، کمزوریوں اور نقائص سے پاک ہوں گے۔

ایک روایت کے مطابق جنتیوں کی عمر تینتیس سال کے جوان کی عمر کے برابر ہوگی۔

نہ بڑھاپا ہوگا، نہ جھریاں، نہ کمزوری۔

ہر شخص اپنی بہترین حالت میں ہوگا۔

سوچیے ایک ایسی دنیا جہاں کسی ہسپتال کی ضرورت نہیں، کسی دوا کی ضرورت نہیں، کسی آنسو کا وجود نہیں، کسی قبرستان کا تصور نہیں۔

جہاں ہر انسان اپنی کامل جسمانی حالت میں موجود ہوگا۔

جنتی لوگوں کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے دلوں میں حسد، بغض، نفرت اور دشمنی نہیں ہوگی۔ تمام اہلِ جنت ایک دوسرے سے محبت کریں گے۔

وہ ایک دوسرے سے ملیں گے، گفتگو کریں گے، نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور سب سے بڑھ کر اپنے رب کی رضا حاصل کریں گے۔

جنت کی سب سے بڑی نعمت نہ محلات ہیں، نہ باغات، نہ نہریں اور نہ ہی بے شمار آسائشیں۔

سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔

وہ لمحہ جب اہلِ ایمان اپنے رب کے جمال کا مشاہدہ کریں گے، ان کے لیے جنت کی تمام نعمتوں سے زیادہ قیمتی ہوگا۔

یہی وہ منزل ہے جس کے لیے انبیاء علیہم السلام نے دعوت دی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قربانیاں دیں، صالحین نے عبادت کی اور اولیائے کرام نے اپنی زندگیاں وقف کیں۔

حضرت آدم علیہ السلام کی ساٹھ ہاتھ بلند قامت صرف ایک جسمانی خصوصیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے۔ اسی طرح جنت میں اہلِ ایمان کا دوبارہ اسی شان و عظمت کے ساتھ پیدا ہونا اس حقیقت کا اعلان ہے کہ دنیا کی کمزوریاں اور محدودیتیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔

جب ہم آدم علیہ السلام کے بلند قد کا تصور کرتے ہیں تو ہمیں اپنی اصل یاد آتی ہے، اور جب ہم جنت میں اہلِ ایمان کی صورت کا تصور کرتے ہیں تو ہمیں اپنی منزل یاد آتی ہے۔

انسان کا سفر مٹی سے شروع ہوا تھا، لیکن اس کی حقیقی منزل مٹی نہیں بلکہ جنت ہے۔

وہ جنت جہاں نہ وقت کی قید ہوگی، نہ موت کا خوف، نہ جدائی کا درد۔

وہ جنت جہاں آدم علیہ السلام کی اولاد اپنے رب کی رحمت کے سائے میں جمع ہوگی۔

وہ جنت جہاں ہر چہرہ نور سے دمک رہا ہوگا، ہر دل سکون سے لبریز ہوگا اور ہر زبان شکر کے ترانے گا رہی ہوگی۔

اور شاید اسی لمحے انسان کو پوری طرح احساس ہوگا کہ دنیا کی تمام مشقتیں، تمام آزمائشیں، تمام قربانیاں اور تمام آنسو اس ایک ابدی مسکراہٹ کے سامنے کتنے چھوٹے تھے۔

Loading