شباب کی باتیں
بس کہ آزردہ شدم چشم بہ پایاں دارم
تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ بس کہ آزردہ شدم چشم بہ پایاں دارم۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)چوہے بلی کا کھیل پھر شروع ہونے والا ہے، ہمارے لڑکپن ہی سے یہ کھیل گتے کے ایک چھوٹے ٹکڑے پر بچوں کو خوش کرنے کے لیے بعض لوگ بنا کر ایک ایک آنے میں بیچا کرتے تھے ۔ گتے کے ٹکڑے پر جو تین مربع انچ کا ہوتا تھا یعنی جس کے چاروں کنارے تین تین انچ کے ہوتے تھے، اوپر سیم یعنی لوہے کے تار سے منسلک ایک چوہا اور ایک بلی گتے کے درمیان سے گزار کر نیچے سے انگلی کے ذریعے حرکت دی جاتی تو گتے کے اوپر چوہا آگے اور بلی اس کے پیچھے دوڑتی رہتی جبکہ بیچنے والا یہ الفاظ ادا کرتا
چوہے بلی کی لڑائی
چوہا دوڑ بلی آئی
یہ پرانی یادیں ذہن میں آنے کی وجہ ایک خبر ہے جو ایف بی ار کی جانب سے پشاور اور صوبے کے دیگر علاقوں کے حوالے سے گھر گھر دودھ فروخت کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بارے میں سامنے آئی ہے۔ خبر کے مطابق صوبے بھر میں دودھ، دہی، کینٹینز، فوڈ ٹرک، لوڈر، چاۓ فروشوں، تندور مالکان اور گھر گھر دودھ دینے والے موٹر سائیکل سواروں سمیت دیگر کاروباروں سے منسلک 52 شعبوں پر 25 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ جو فہرست اخبارات میں ان نئے ٹیکس دہندگان کی شائع ہوئی ہے اس میں جو لوگ کسی مستقل ٹھئیے کے مالک ہیں یعنی کہیں نہ کہیں روزانہ اپنا کاروبار جماتے ہیں، ان پر تو قابو پانا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے تاہم یہ جو موٹر سائیکل پر دودھ کے کین رکھ کر گھر گھر دودھ فراہم کرتے ہیں ان کو متعلقہ سرکاری اہلکار کیسے قابو کریں گے؟ کیونکہ جیسے ہی وہ کسی سرکاری اہلکار کو آتا دیکھیں گے تو وہ اسی پرانے چوہے بلی کی لڑائی والے کھیل کی مانند دوڑ پڑیں گے اور مشکل ہی سے ٹیکس وصول کرنے والوں کے ہاتھ آئیں گے اور اگر بالفرض ہاتھ آبھی جائیں تو ممکن ہے کہ ٹیکس والوں کو یہ کہہ کر جان چھڑائیں کہ جناب ہم تو دودھ بیچتے ہی نہیں ہیں بلکہ یہ تو دودھ کے نام پر پانی ہے۔
مرزا محمود سرحدی نے کہا تھا
محتسب سے کہوں تو کیا جا کر
میری مانند وہ بھی روتا ہے
پہلے ہوتا تھا دودھ میں پانی
آج پانی میں دودھ ہوتا ہے
اب ٹیکس نافذ کرنے والوں کے پاس وہ کون سا نسخہء کیمیا ہے کہ وہ شیر فروشوں کے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کر سکیں گے کیونکہ آج تک تو وہ منوں ٹنوں کے حساب سے سپلائی ہونے والے اس کیمیکل دودھ کا کوئی علاج دریافت نہیں کر سکے جو انتہائی مضر صحت بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق کینسر کا باعث بن رہا ہے اور سوشل میڈیا پر چلنے والی اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر صرف ایک کلو اصلی دودھ، واشنگ پاؤڈر اور پوسٹ مارٹم کے دوران مردوں کے جسموں کو گلنے سڑنے سے محفوظ رکھنے کے لیے جو ایک خاص کیمیکل لگایا جاتا ہے یعنی فارملین اور بناسپتی گھی یا کوکنگ آئل، ان سب کو ایک خاص مقدار میں پانی میں ملا کر مصنوعی دودھ بنا کر انسانوں کو فروخت کیا جاتا ہے ۔
جو فہرست نئے ٹیکس دہندگان کی اخبارات میں شائع ہوئی ہے اس میں چھوٹے چھوٹے تہہ بازاری سے لے کر کچھ بڑے دکاندار بھی شامل ہیں۔ ویسے حیرت اس بات پر ہے کہ جن لوگوں نے یہ فہرست مرتب کی ہے انہوں نے بائکیا کو کیوں یہ “اعزاز” نہیں بخشا؟ ممکن ہے انہوں نے یہ سوچا ہو کہ ان سے تو قدم قدم پر ایک اور “ادارے” کے اہلکار بھی بھتہ لیتے رہتے ہیں جبکہ چنگچی والوں کے بارے میں نہیں معلوم کہ ان پر بھی یہ فکس ٹیکس عائد ہوگا کہ نہیں؟ اگرچہ ان بیچاروں پر بھی ایک اور طرح کا ستم روا رکھا جاتا ہے یعنی جہاں یہ اکٹھے ہو جاتے ہیں ان کو غیر قانونی اڈے کے نام پر منتشر کر دیا جاتا ہے۔ ایک اور طبقہ بھی بائیکیا والوں کا ہے جو بڑے بڑے فوڈ چینز اور آئسکریم پارلرز کے باہر ان برینڈز کی مخصوص وردی پہنے اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کہیں سے کوئی آرڈر آئے اور وہ مطلوبہ اشیاء آرڈر کنندگان کو پہنچا کر رات کو چند سو روپے لے کر گھر جائیں۔ اگر کسی آرڈر کنندہ نے رحم کھاتے ہوئے انہیں اضافی کچھ دے دیا تو فبہا، وگرنہ اکثر انہیں دیر کرنے پر جھڑکیاں ہی ملتی ہیں۔
بعض اوقات تو مقررہ وقت کے اندر اندر سپلائی دینے پر بھی طنزیہ جملے سننا پڑتے ہیں جیسے کہ بھارت کے ایک مشہور ایکٹر پاریش راول کا ایک مشہور کلپ ایک عرصے تک وائرل رہا تھا جس میں وہ پیزا کا ارڈر دے کر اس بات پر خوشی سے جھومتا رہتا ہے کہ اچانک تیز بارش کی وجہ سے اس کو پیزا بروقت نہیں مل سکے گا تو دیر سے آنے پر پیزا فری میں مل جائے گا مگر عین مقررہ وقت پر گھر کی کال بیل بجتے ہی جب وہ دروازہ کھول کر پیزا والے بائیکی کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو طنزاً کہتا ہے “یہ تم لوگوں کو وقت پر پہنچنے کا بخار ہے کیا؟” یہ تو خیر تفن طبع کی بات تھی اصل مسئلہ تو ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے جو لوگ ایف بی آر کے ریڈار پر لائے گئے ہیں ان سے ٹیکس وصول کرتے ہوئے ایف بی آر نے قابل ٹیکس آمدن کے قانون کو بھی دیکھا ہے یا نہیں؟ یا پھر بس حکومت کو خوش کرنے کے لیے کمزور طبقات پر بلاوجہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے سے سرکار سے شاباش ہی بٹوڑنی ہے؟ بہتر تو یہ تھا کہ ان بیچاروں کی جگہ بھک منگوں اور ان کے گروہوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جاتا، جو نہ صرف اندرون ملک بلکہ عمرہ اور حج کے دوران لاکھوں ریال کما کر خورسند ہو رہے ہیں، اور جن سے سالانہ لاکھوں روپے ٹیکس کے بٹورے جا سکتے ہیں۔
زندگی قصہء تلخیست کہ از آغازش
بس کہ آزردہ شدم چشم بہ پایاں دارم
![]()

