Daily Roshni News

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ — حصہ اوّل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ — حصہ اوّل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )نسب، قبولِ اسلام، ابتدائی زندگی، مکہ کا دور، ہجرت، رسول اللہ ﷺ سے تعلق، بدر اور اُحد تک کے واقعات

تمہید

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت کا اندازہ صرف ان کے کارناموں سے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے ان الفاظ سے ہوتا ہے جو آپ ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمائے۔ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ انہی عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:

“ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن الجراح ہے۔”

یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو پوری امت میں صرف انہیں حاصل ہوا۔ امانت، دیانت، اخلاص، قربانی اور وفاداری کا جو پیکر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی ذات میں نظر آتا ہے، وہ تاریخ میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اگر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تلوار کی قوت کی علامت ہیں، تو حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ امانت اور کردار کی قوت کی علامت ہیں۔

نسب اور خاندانی پس منظر

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کا اصل نام: **عامر بن عبداللہ بن الجراح** تھا۔ آپ قریش کے معزز قبیلہ بنو فہر سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا نسب چند پشتوں بعد رسول اللہ ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے، اس طرح آپ قریش کے معزز خاندانوں میں شمار ہوتے تھے۔ عرب معاشرے میں نسب کو بڑی اہمیت حاصل تھی، لیکن اسلام نے ثابت کیا کہ اصل فضیلت نسب میں نہیں بلکہ تقویٰ میں ہے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی زندگی اس حقیقت کی بہترین مثال ہے۔

زمانۂ جاہلیت میں شخصیت

اسلام سے پہلے بھی حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اپنے حسنِ اخلاق، دیانت اور سچائی کی وجہ سے معروف تھے۔ وہ جھگڑوں سے دور رہتے تھے۔ ان کے اندر نرمی، سنجیدگی اور وقار پایا جاتا تھا۔ لوگ ان پر اعتماد کرتے تھے۔ امانت داری ان کی فطرت کا حصہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب اسلام کی روشنی ظاہر ہوئی تو ان کا دل اس پیغام کو قبول کرنے کے لیے پہلے سے تیار تھا۔

اسلام قبول کرنے والوں میں ابتدائی مقام

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں شامل ہیں۔ روایات کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام قبول کرنا گویا پوری دنیا کو اپنے خلاف کھڑا کر لینا تھا۔ نہ مسلمانوں کے پاس طاقت تھی۔ نہ حکومت تھی۔ نہ کوئی فوج تھی۔ صرف ایمان تھا۔ اور یہی ایمان ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ تک لے آیا۔

سابقون الاولون میں شمولیت

قرآن کریم میں جن خوش نصیب لوگوں کو “السابقون الاولون” کہا گیا ہے، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان میں شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کو اس وقت قبول کیا جب ہر طرف مخالفت تھی۔ جب ایمان لانے والوں کو پاگل کہا جاتا تھا۔ جب ان پر ظلم کیا جاتا تھا۔ جب ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔ ایسے وقت میں ایمان لانا غیر معمولی جرات اور یقین کی علامت تھا۔

رسول اللہ ﷺ سے پہلی وابستگی

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مرکز رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک بن گئی۔ وہ آپ ﷺ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ ﷺ کے ہر حکم کو دل و جان سے قبول کرتے تھے۔ آپ ﷺ کے اخلاق، عبادات اور طرزِ زندگی کو اپنی زندگی کا نمونہ بناتے تھے۔ یہ تعلق صرف ایک شاگرد اور استاد کا نہ تھا بلکہ محبت، اطاعت اور وفاداری کا تعلق تھا۔

مکہ میں آزمائشوں کا دور

ابتدائی مسلمانوں کی طرح حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھی مخالفت اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ قریش اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر سے خوف زدہ تھے۔ وہ ہر اس شخص کو نشانہ بناتے تھے جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتا تھا۔ اگرچہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا، پھر بھی انہیں مسلسل دباؤ، طعن و تشنیع اور مخالفت برداشت کرنا پڑی۔ لیکن ان کا ایمان متزلزل نہ ہوا۔

حبشہ کی ہجرت

جب مکہ میں ظلم و ستم حد سے بڑھ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بھی ان خوش نصیب افراد میں شامل تھے جنہوں نے دین کی خاطر وطن چھوڑنے کا جذبہ دکھایا۔ حبشہ کی ہجرت اسلام کی تاریخ کا پہلا بین الاقوامی سفر تھا۔ یہ صرف جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایمان کی خاطر قربانی کی ایک عظیم مثال تھی۔

مکہ واپسی اور مسلسل جدوجہد

حبشہ سے واپسی کے بعد حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے دوبارہ مکہ میں دعوتِ اسلام اور استقامت کا سفر جاری رکھا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایمان صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ مسلسل قربانی اور استقامت کا نام ہے۔

مدینہ کی طرف ہجرت

جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدینہ ہجرت کا حکم آیا تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس حکم پر لبیک کہا۔ وہ اپنے گھر، مال اور معاشرتی آسائشوں کو چھوڑ کر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ مدینہ پہنچ کر وہ اس اسلامی معاشرے کی تعمیر میں شامل ہو گئے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ اپنے دستِ مبارک سے رکھ رہے تھے۔

مؤاخات اور اسلامی معاشرہ

مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارے کا جو نظام قائم کیا گیا، وہ انسانی تاریخ کا منفرد واقعہ تھا۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بھی اس عظیم نظام کا حصہ بنے۔ یہاں انہوں نے دیکھا کہ اسلام کس طرح دلوں کو جوڑتا ہے اور نسل، قبیلہ اور مال و دولت کی دیواریں گرا دیتا ہے۔

غزوۂ بدر اور عظیم امتحان

ہجرت کے بعد مسلمانوں اور قریش کے درمیان پہلا بڑا معرکہ غزوۂ بدر تھا۔ یہ اسلام کی بقا کا معرکہ تھا۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس جنگ میں شریک تھے۔ لیکن اس معرکے میں ان کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو ان کے ایمان کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔

باپ اور بیٹے کا امتحان

غزوۂ بدر میں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا اپنا والد مشرکین کی صف میں موجود تھا۔ جنگ کے دوران ان کا والد بار بار ان کے سامنے آنے کی کوشش کرتا رہا۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہر مرتبہ اس سے بچتے رہے۔ وہ اپنے والد کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ لیکن جب اس نے مسلسل حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو بالآخر میدانِ جنگ میں وہ مارا گیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہر تعلق سے بلند تھی۔

بدر کے مجاہدین میں مقام

غزوۂ بدر میں شرکت حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے عظیم اعزازات میں شامل ہے۔ اہلِ بدر کو اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ بعد کے تمام ادوار میں مسلمانوں نے اہلِ بدر کو انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھا۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بھی اس مبارک جماعت کے رکن تھے۔

رسول اللہ ﷺ کا اعتماد

بدر کے بعد رسول اللہ ﷺ کا اعتماد ان پر مزید نمایاں ہونے لگا۔ آپ ﷺ اہم معاملات میں ان کی دیانت اور امانت پر بھروسہ فرماتے تھے۔ صحابۂ کرام بھی انہیں نہایت قابلِ اعتماد شخصیت سمجھتے تھے۔ یہ اعتماد بعد میں “امین الامۃ” کے عظیم لقب کی صورت میں ظاہر ہوا۔

غزوۂ اُحد اور محبتِ رسول ﷺ

سن ٣ ہجری میں غزوۂ اُحد پیش آیا۔ یہ جنگ مسلمانوں کے لیے ایک سخت آزمائش ثابت ہوئی۔ ابتدائی کامیابی کے بعد بعض تیر اندازوں کی اجتہادی غلطی کے باعث حالات تبدیل ہو گئے۔ دشمن نے دوبارہ حملہ کیا اور رسول اللہ ﷺ زخمی ہو گئے۔ یہ منظر صحابۂ کرام کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان جانثاروں میں شامل تھے جو رسول اللہ ﷺ کے دفاع کے لیے ہر خطرہ مول لینے کو تیار تھے۔

وہ لمحہ جس نے تاریخ میں جگہ بنا لی

غزوۂ اُحد کے دوران رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک میں خود کے لوہے کے دو حلقے پیوست ہو گئے تھے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس تکلیف دہ منظر کو دیکھ کر پریشان تھے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ انہوں نے انتہائی محبت اور احتیاط کے ساتھ اپنے دانتوں کے ذریعے ان حلقوں کو نکالا تاکہ رسول اللہ ﷺ کو مزید تکلیف نہ پہنچے۔ اس عمل میں ان کے اپنے دانت متاثر ہوئے۔ لیکن انہیں اپنی تکلیف کی کوئی پروا نہ تھی۔ ان کی نگاہ صرف رسول اللہ ﷺ کی راحت پر تھی۔

محبتِ رسول ﷺ کی معراج

اُحد کا یہ واقعہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کی عملی تفسیر ہے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ثابت کر دیا کہ ان کے نزدیک اپنی جان، اپنا جسم اور اپنی راحت سب کچھ رسول اللہ ﷺ پر قربان ہے۔ یہی وہ محبت تھی جس نے ایک چھوٹے سے گروہ کو دنیا کی عظیم ترین امت بنا دیا۔

حصہ اوّل کا اختتام

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی ایمان، قربانی، وفاداری اور محبتِ رسول ﷺ کا روشن نمونہ ہے۔ مکہ کی آزمائشیں، حبشہ اور مدینہ کی ہجرت، بدر کے میدان میں ایمان کا امتحان اور اُحد میں رسول اللہ ﷺ کے لیے جان نچھاور کرنے کا جذبہ ان کی شخصیت کے بنیادی ستون ہیں۔

اگلے حصے میں ہم “امین الامۃ” کے لقب، دیگر غزوات، رسول اللہ ﷺ کے خصوصی اعتماد، عبادت، زہد، اخلاق، قیادت اور ان کی بے مثال امانت داری کا تفصیلی مطالعہ کریں گے۔

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ — حصہ دوم

امین الامۃ، غزوات، رسول اللہ ﷺ کا اعتماد، عبادت، زہد، اخلاق اور قیادت

اُحد کے بعد کا دور

غزوۂ اُحد کے بعد اسلامی ریاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ قریش نے اگرچہ مسلمانوں کو مکمل شکست نہ دی تھی، لیکن یہ واضح ہو گیا تھا کہ اسلام کا راستہ مسلسل آزمائشوں سے بھرپور ہوگا۔ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اس دور میں بھی رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین رفقاء میں شامل رہے۔ ان کی زندگی کا ایک نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ ہر حال میں ثابت قدم رہتے تھے۔ فتح ہو یا آزمائش۔ خوشی ہو یا غم۔ وسعت ہو یا تنگی۔ ان کا دل ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ وابستہ رہتا تھا۔

رسول اللہ ﷺ کا خصوصی اعتماد

تمام صحابۂ کرام عظیم تھے، لیکن بعض شخصیات کو رسول اللہ ﷺ نے مخصوص ذمہ داریوں کے لیے منتخب فرمایا۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ انہی منتخب لوگوں میں سے تھے۔ ان کی دیانت، حکمت، نرم مزاجی اور امانت داری اس درجے کی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کو ان پر غیر معمولی اعتماد تھا۔ جب کبھی کوئی نازک معاملہ پیش آتا تو آپ ﷺ انہیں ذمہ داری سونپنے میں تردد محسوس نہیں کرتے تھے۔

“امین الامۃ” کا عظیم لقب

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا اعزاز وہ لقب ہے جو براہِ راست رسول اللہ ﷺ نے عطا فرمایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن الجراح ہے۔” یہ الفاظ صرف تعریف نہیں بلکہ ایک عظیم گواہی ہیں۔ سوچیے!

وہ امت جس میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ، عثمان غنی رضی اللہ عنہ، علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ اور دیگر جلیل القدر صحابہ موجود ہوں، اس پوری امت میں “امین” کے لقب کے لیے ایک شخصیت کا انتخاب کیا جائے، تو یہ معمولی اعزاز نہیں۔ یہ ان کے کردار، دیانت اور امانت داری کی اعلیٰ ترین سند ہے۔

نجران کا وفد اور امانت کا امتحان

ایک مرتبہ یمن کے علاقے نجران سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے درخواست کی: “یا رسول اللہ! ہمارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیج دیجیے جو امانت دار ہو۔” صحابۂ کرام منتظر تھے کہ رسول اللہ ﷺ کس کا انتخاب فرمائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “میں تمہارے ساتھ ایک سچا اور امین آدمی بھیجوں گا۔” پھر آپ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔ اس واقعے نے ان کے مقام کو مزید واضح کر دیا۔

غزوۂ خندق میں کردار

جب عرب کے مختلف قبائل نے مدینہ پر متحد ہو کر حملہ کیا تو مسلمانوں کو سخت خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ خندق کھودی گئی۔ سردی، بھوک اور خوف کے حالات پیدا ہوئے۔ منافقین نے حوصلے توڑنے کی کوشش کی۔ لیکن حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ڈٹے رہے۔ ان کے دل میں یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور آئے گی۔

غزوۂ بنی قریظہ

خندق کے بعد بنو قریظہ کے معاملے میں بھی حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے ساتھ موجود تھے۔ یہ دور اسلامی ریاست کے استحکام کا دور تھا۔ اب مسلمان صرف اپنی بقا کے لیے نہیں بلکہ عدل کے قیام کے لیے بھی سرگرم تھے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہر مرحلے میں رسول اللہ ﷺ کے فرمانبردار سپاہی بن کر سامنے آتے ہیں۔

خیبر کا مرحلہ

خیبر کے قلعے عرب کے مضبوط ترین قلعوں میں شمار ہوتے تھے۔ یہودی قبائل نے یہاں اپنی طاقت جمع کر رکھی تھی۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس مہم میں بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنی شجاعت، نظم و ضبط اور اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے لیے اصل کامیابی ذاتی بہادری دکھانا نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل تھی۔

فتحِ مکہ

آٹھ ہجری میں وہ دن آیا جس کا مسلمان برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ وہی مکہ جس نے مسلمانوں کو نکالا تھا۔ وہی مکہ جس نے ظلم کیے تھے۔ وہی مکہ جس نے رسول اللہ ﷺ کو ستایا تھا۔ لیکن فتح کے وقت انتقام کے بجائے رحمت کا مظاہرہ کیا گیا۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بھی اس تاریخی لشکر کا حصہ تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ اسلام تلوار سے زیادہ اخلاق کے ذریعے دل جیتتا ہے۔

غزوۂ حنین

فتح مکہ کے فوراً بعد حنین کا معرکہ پیش آیا۔ ابتدائی مرحلے میں مسلمانوں کو اچانک حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض لوگ منتشر ہو گئے۔ لیکن چند عظیم صحابہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ڈٹے رہے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بھی ان وفادار جانثاروں میں شامل تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ ان کی وفاداری حالات کی محتاج نہیں۔

تبوک کی مہم

تبوک اسلامی تاریخ کی عظیم ترین عسکری تیاریوں میں سے ایک تھی۔ شدید گرمی۔ لمبا سفر۔ وسائل کی کمی۔ اور ایک بڑی طاقت سے مقابلے کا امکان۔ اس کے باوجود حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس لشکر کا حصہ بنے۔ یہ مہم اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہر مشکل وقت میں امت کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔

عبادت کا معیار

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ صرف مجاہد نہیں تھے۔ وہ عابد بھی تھے۔ ان کی راتیں اللہ تعالیٰ کی یاد میں گزرتی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں خشیتِ الٰہی کے آنسو ہوتے تھے۔ وہ دنیا کی حقیقت کو سمجھتے تھے۔ اسی لیے ان کی عبادت دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوتی تھی۔

زہد اور سادگی

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ ان کے گھر تشریف لائے۔ انہوں نے دیکھا کہ گھر میں دنیاوی سامان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک بستر۔ چند ضروری اشیاء۔ اور بس۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ انہوں نے فرمایا: “دنیا نے ہم سب کو بدل دیا، لیکن ابوعبیدہ کو نہیں بدل سکی۔” یہ جملہ ان کی پوری شخصیت کا خلاصہ ہے۔

مال سے بے رغبتی

ان کے پاس مال آتا تھا لیکن جمع نہیں ہوتا تھا۔ وہ ضرورت مندوں پر خرچ کر دیتے تھے۔ فقراء کی مدد کرتے تھے۔ یتیموں کا خیال رکھتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ اصل خزانہ  خرت کا خزانہ ہے۔

عاجزی کا مقام

بعض لوگ عظمت حاصل کر کے متکبر ہو جاتے ہیں۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ عظمت حاصل کر کے اور زیادہ عاجز ہو گئے۔ لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان کی تعریف فرماتے تھے۔ لیکن ان کے اندر غرور پیدا نہ ہوا۔ وہ عام مسلمانوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ ان کی ضروریات سنتے تھے۔ اور خود کو دوسروں سے بہتر نہیں سمجھتے تھے۔

قیادت کا منفرد انداز

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی قیادت کی بنیاد خوف نہیں بلکہ محبت تھی۔ سپاہی ان کا حکم اس لیے نہیں مانتے تھے کہ وہ طاقتور تھے۔ بلکہ اس لیے مانتے تھے کہ وہ ان سے محبت کرتے تھے۔ ان کی دیانت پر اعتماد کرتے تھے۔ اور جانتے تھے کہ ان کا قائد کبھی انہیں دھوکا نہیں دے گا۔ یہی حقیقی قیادت ہے۔

اخلاقِ نبوی کا عکس

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات یاد آتی تھیں۔ ان کی گفتگو نرم تھی۔ ان کا دل صاف تھا۔ وہ دوسروں کی غلطیوں سے درگزر کرتے تھے۔ وہ بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کا کردار اسلام کی عملی دعوت تھا۔

عشرۂ مبشرہ میں مقام

عشرۂ مبشرہ میں شامل ہونا خود ایک عظیم فضیلت ہے۔ لیکن حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں جنت کی بشارت کے ساتھ “امین الامۃ” کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ گویا وہ جنت کے وعدے اور امانت کی گواہی دونوں سے سرفراز ہوئے۔

حصہ دوم کا اختتام

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی زندگی کا یہ مرحلہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ایک انسان کس طرح بیک وقت مجاہد، عابد، قائد، امانت دار اور عاشقِ رسول ﷺ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے غزوات میں بہادری دکھائی، عبادت میں عاجزی اختیار کی، مال میں زہد اپنایا، قیادت میں انصاف قائم کیا اور کردار میں ایسی امانت داری پیش کی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں پوری امت کا امین قرار دیا۔

اگلے حصے میں ہم شام کی عظیم فتوحات، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تعلق، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تاریخی واقعات، طاعونِ عمواس، وفات، نفسیاتی و روحانی تجزیہ اور اسلامی تاریخ میں ان کے دائمی مقام کا تفصیلی مطالعہ کریں گے۔

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ — حصہ سوم

شام کی فتوحات، خلافتِ راشدہ میں کردار، طاعونِ عمواس، وفات، نفسیاتی و روحانی تجزیہ اور تاریخی مقام

تمہید

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی زندگی کا تیسرا مرحلہ اسلامی تاریخ کے عظیم ترین ادوار میں سے ایک ہے۔ یہ وہ دور تھا جب عرب کے صحرا سے اٹھنے والی ایک چھوٹی سی امت دنیا کی بڑی سلطنتوں کے سامنے کھڑی ہو رہی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب قرآن کے ماننے والے صرف اپنے ایمان کی حفاظت نہیں کر رہے تھے بلکہ پوری انسانیت تک ہدایت کا پیغام پہنچانے کے لیے میدانِ عمل میں اتر چکے تھے۔

اس عظیم دور میں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ صرف ایک سپاہی نہیں تھے، صرف ایک صحابی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسے قائد تھے جن کی دیانت، عاجزی اور امانت پر پوری امت اعتماد کرتی تھی۔

خلافتِ صدیقی کے بعد نئی ذمہ داریاں

رسول اللہ ﷺ کی ظاہری رحلت کے بعد جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو عرب میں ارتداد کے فتنے پیدا ہوئے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس نازک مرحلے میں خلیفۂ وقت کا بھرپور ساتھ دیا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر اس وقت امت تقسیم ہو گئی تو اسلام کا پورا نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ان کی وفاداری کسی شخصیت کے ساتھ نہیں بلکہ دین کے ساتھ تھی۔ اسی لیے وہ ہر دور میں حق کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

خلافتِ فاروقی اور شام کا محاذ

جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اسلامی فتوحات کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ شام اس وقت رومی سلطنت کا اہم ترین علاقہ تھا۔ رومیوں کے پاس تربیت یافتہ فوجیں، مضبوط قلعے، بے شمار وسائل اور صدیوں کا حکومتی تجربہ موجود تھا۔ بظاہر مسلمانوں کے لیے ان کا مقابلہ کرنا ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ لیکن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی قوت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ایمان میں تھی۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اسی ایمان کے علمبردار بن کر شام کے محاذ پر پہنچے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تعلق

شام کی فتوحات میں دو عظیم شخصیات نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ۔ دوسرے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ عسکری حکمتِ عملی کے نابغہ تھے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ امانت، تدبر اور انتظامی قیادت کے پیکر تھے۔ دونوں کی صلاحیتیں مختلف تھیں لیکن مقصد ایک تھا۔ اسلام کی سربلندی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے درمیان کبھی اقتدار کی جنگ پیدا نہیں ہوئی۔

ایک تاریخی امتحان

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالاری سے ہٹا کر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لشکر کا قائد مقرر کر دیا۔ یہ ایک حساس فیصلہ تھا۔ اگر کوئی دنیا پرست شخص ہوتا تو شاید اسے اپنی فتح سمجھتا۔ لیکن حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس معاملے کو انتہائی حکمت سے سنبھالا۔ انہوں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی عزت کم نہیں ہونے دی۔ دوسری طرف حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بھی مکمل اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ یہ منظر اسلامی تاریخ میں اخلاص کی سب سے خوبصورت مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔

فتوحاتِ شام

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں شام کے متعدد اہم علاقے اسلامی ریاست کا حصہ بنے۔ دمشق۔ حمص۔ اردن کے مختلف علاقے۔ اور دیگر اہم شہر۔ ان فتوحات کا مقصد زمین حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ ظلم کے نظام کو ختم کرنا اور عدل کو قائم کرنا تھا۔ اسی لیے جہاں مسلمان داخل ہوتے وہاں لوگوں کو امن، انصاف اور مذہبی آزادی ملتی۔

دمشق کی فتح

دمشق دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ رومی سلطنت کا اہم مرکز تھا۔ اس شہر کی فتح صرف ایک عسکری کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک تاریخی تبدیلی تھی۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فتح کے بعد اہلِ شہر کے ساتھ انصاف اور رحم کا برتاؤ کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اسلامی فتوحات انتقام کے لیے نہیں بلکہ اصلاح کے لیے ہوتی ہیں۔

بیت المقدس کی طرف پیش قدمی

شام کی فتوحات کے بعد مسلمانوں کی توجہ بیت المقدس کی طرف ہوئی۔ یہ وہ سرزمین تھی جس سے انبیائے کرام علیہم السلام کی یادیں وابستہ تھیں۔ جب بیت المقدس کے لوگوں نے صلح کی شرط رکھی کہ شہر کی چابیاں صرف خلیفۂ وقت کے حوالے کی جائیں گی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود مدینہ سے تشریف لائے۔ اس پورے مرحلے میں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ انہوں نے انتظامی اور عسکری سطح پر وہ بنیاد فراہم کی جس کے نتیجے میں بیت المقدس پرامن طور پر اسلامی ریاست کا حصہ بنا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نظر میں مقام

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے غیر معمولی محبت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا: “اگر ابوعبیدہ زندہ ہوتے تو میں خلافت کے لیے انہی کو نامزد کرتا۔” یہ جملہ بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت کسی کے بارے میں ایسی رائے آسانی سے نہیں دے سکتی تھی۔ یہ ان کی دیانت، اہلیت اور تقویٰ کی گواہی تھی۔

دنیا سے بے رغبتی

شام کے وسیع علاقے ان کے زیرِ انتظام تھے۔ وہ چاہتے تو محل تعمیر کر سکتے تھے۔ خزانے جمع کر سکتے تھے۔ عیش و عشرت کی زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن جب لوگ ان کے گھر آتے تو حیران رہ جاتے۔ سادہ بستر۔ سادہ لباس۔ سادہ کھانا۔ گویا ایک عظیم سلطنت کا گورنر نہیں بلکہ ایک عام مسلمان رہ رہا ہو۔ یہی ان کی شخصیت کا حسن تھا۔

طاعونِ عمواس

سن ۱۸ ہجری میں شام کے علاقے عمواس میں ایک خطرناک وبا پھیل گئی۔ یہ وبا تاریخ میں “طاعونِ عمواس” کے نام سے مشہور ہوئی۔ ہزاروں لوگ اس وبا کا شکار ہوئے۔ مسلمان فوجیں بھی اس سے متاثر ہوئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ آنے کا پیغام بھیجا۔ خلیفہ جانتے تھے کہ اگر ابوعبیدہ کو کچھ ہو گیا تو امت ایک عظیم سرمایہ کھو دے گی۔

وفاداری کی عظیم مثال

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پیغام پڑھا۔ وہ سمجھ گئے کہ خلیفہ انہیں بچانا چاہتے ہیں۔ لیکن انہوں نے جواب دیا: “میں مسلمانوں کے لشکر میں موجود ہوں اور اپنے آپ کو ان سے الگ نہیں کرنا چاہتا۔” یہ الفاظ ان کی پوری شخصیت کا خلاصہ ہیں۔ وہ اپنے سپاہیوں کو بیماری کے درمیان چھوڑ کر محفوظ مقام پر جانے کے لیے تیار نہ تھے۔

آخری ایام

وبا تیزی سے پھیلتی گئی۔ بالآخر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بھی اس مرض میں مبتلا ہو گئے۔ اس وقت بھی ان کی زبان پر شکوہ نہیں تھا۔ دل میں خوف نہیں تھا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی امید تھی۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو تقویٰ، نماز، روزہ، صدقہ اور مسلمانوں کی خیر خواہی کی نصیحت کی۔ یہی ان کے آخری پیغامات تھے۔

وفات

سن ۱۸ ہجری میں یہ عظیم صحابی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔ امت نے اپنا امین کھو دیا۔ شام نے اپنا قائد کھو دیا۔ مجاہدوں نے اپنا محسن کھو دیا۔ لیکن تاریخ نے ایک ایسا نام حاصل کر لیا جو قیامت تک عزت سے لیا جائے گا۔

شخصیت کا نفسیاتی تجزیہ

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا مطالعہ کیا جائے تو چند خصوصیات نمایاں طور پر سامنے آتی ہیں۔

غیر معمولی دیانت

ان کی پوری زندگی امانت کا عملی نمونہ تھی۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انہیں امت کا امین قرار دیا۔

طاقت کے باوجود عاجزی

اکثر لوگ اختیار ملنے کے بعد بدل جاتے ہیں۔ لیکن حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اقتدار پا کر بھی وہی سادہ انسان رہے۔

جذباتی توازن

وہ مشکل ترین حالات میں بھی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ان کا اعتماد اللہ تعالیٰ پر تھا۔ اسی لیے ان کے فیصلوں میں استحکام نظر آتا ہے۔

خدمت گزار قیادت

وہ حاکم بن کر نہیں بلکہ خادم بن کر قیادت کرتے تھے۔ لوگ ان سے محبت کرتے تھے کیونکہ وہ ان کی خدمت کرتے تھے۔

روحانی تجزیہ

اگر روحانی اعتبار سے دیکھا جائے تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی زندگی تین ستونوں پر قائم نظر آتی ہے:

امانت

ان کی روح کی سب سے نمایاں صفت امانت تھی۔ وہ مال، منصب، راز اور ذمہ داری؛ ہر چیز میں امانت دار تھے۔

اخلاص

انہوں نے کبھی شہرت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے اعمال صرف اللہ تعالیٰ کے لیے تھے۔

محبتِ رسول ﷺ

اُحد کا واقعہ، ان کی اطاعت، ان کی قربانیاں؛ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کا دل رسول اللہ ﷺ کی محبت سے بھرا ہوا تھا۔

تاریخی مقام

اسلامی تاریخ میں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کا مقام منفرد ہے کیونکہ:

* وہ عشرۂ مبشرہ میں شامل ہیں۔

* سابقون الاولون میں شمار ہوتے ہیں۔

* رسول اللہ ﷺ نے انہیں “امین الامۃ” قرار دیا۔

* بدر، اُحد اور دیگر عظیم غزوات میں شریک رہے۔

* شام کی فتوحات کے مرکزی قائدین میں شامل تھے۔

* حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں خلافت کے لیے موزوں ترین شخص سمجھتے تھے۔

* طاعونِ عمواس میں اپنے لشکر کو چھوڑنے سے انکار کیا۔

* امانت، دیانت اور عاجزی کی دائمی مثال بن گئے۔

حاصلِ سیرت

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل عظمت طاقت میں نہیں بلکہ کردار میں ہے۔ انسان تلوار کے زور سے علاقے فتح کر سکتا ہے، لیکن دل صرف امانت اور اخلاص سے جیتے جاتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک مومن بیک وقت سپہ سالار بھی ہو سکتا ہے، عابد بھی، حکمران بھی اور خادم بھی۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلا ہوا لقب “امین الامۃ” آج بھی ان کے نام کے ساتھ زندہ ہے۔

اختتامیہ

عشرۂ مبشرہ کے اس عظیم ستارے نے اپنی پوری زندگی اسلام کے لیے وقف کر دی۔ مکہ کی آزمائشوں سے لے کر شام کی فتوحات تک، میدانِ بدر سے لے کر طاعونِ عمواس تک، ہر مرحلے پر انہوں نے اخلاص، وفاداری اور امانت کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔

جب بھی امانت داری کا ذکر ہوگا، جب بھی بے لوث قیادت کی بات ہوگی، جب بھی کردار کی عظمت کو یاد کیا جائے گا، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔

#حضرت_ابوعبیدہ_بن_الجراح #امین_الامت #عشرہ_مبشرہ #صحابہ_کرام #اسلامی_تاریخ

Loading