Daily Roshni News

ہم سے ہے زمانہ۔۔۔تحریر۔۔۔ ناز پروین

ہم سے ہے زمانہ

تحریر۔۔۔ناز پروین

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ہم سے ہے زمانہ۔۔۔تحریر۔۔۔ ناز پروین)کبھی عورت کے لیے نازک سی کمر، مورنی جیسی چال، پنکھڑی جیسے ہونٹ اور حنائی ہاتھ جیسے استعارے استعمال کیے جاتے تھے۔ اسے کمزور، محتاج اور معاشرے کا مظلوم ترین طبقہ سمجھا جاتا تھا۔ مشرق ہو یا مغرب، عورت کی شناخت زیادہ تر اس کی نزاکت اور کمزوری سے جوڑی جاتی تھی۔ لیکن وقت نے کروٹ لی اور آج کی عورت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف حسن و نزاکت کی علامت نہیں بلکہ عزم، حوصلے اور صلاحیت کا دوسرا نام بھی ہے۔

آج زندگی کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جہاں خواتین اپنی موجودگی کا احساس نہ دلا رہی ہوں۔ دفاعِ وطن سے لے کر ہوابازی، تعلیم، صحت، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں تک خواتین اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہی ہیں۔ ان کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے نہ صرف معاشرے کے خدوخال بدلے ہیں بلکہ لوگوں کی سوچ میں بھی مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔

گزشتہ دنوں مجھے شرکت گاہ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں شرکت کا موقع ملا۔ اس پروگرام میں خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، خصوصاً خیبر، کوہاٹ، مردان، سوات اور چارسدہ سے تعلق رکھنے والی خواتین شریک تھیں۔ انہیں مختلف شعبوں میں تربیت دی گئی تھی اور خاص طور پر اپنے قانونی اور سماجی حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی تھی۔

کانفرنس کا موضوع خواتین پولیس افسران کا کردار تھا۔ اس موقع پر مختلف اضلاع سے آئی ہوئی خواتین پولیس افسران نے اپنے تجربات بیان کیے۔ بڈھ بیر سے تعلق رکھنے والی ایس ایچ او صائمہ خان نے بتایا کہ ان کے علاقے میں خواتین کی قانون تک رسائی پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے۔ خواتین اب بلا جھجھک پولیس سے رابطہ کرتی ہیں، اپنے مسائل بیان کرتی ہیں اور انصاف کے حصول کے لیے قانونی راستہ اختیار کرتی ہیں۔

یہ سن کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ ہمارے معاشرے میں طویل عرصے تک تھانے کو ایسا مقام سمجھا جاتا رہا جہاں شریف خواتین جانے سے گریز کرتی تھیں۔ لیکن آج صورتحال بدل رہی ہے۔ خواتین پولیس افسران کی موجودگی نے نہ صرف ماحول کو دوستانہ بنایا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال کیا ہے۔

سوات، مردان اور چارسدہ سے آئی ہوئی خواتین پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ پولیس کے شعبے میں اصلاحات کے بعد خواتین کے لیے ایک محفوظ اور سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔ اب وہ نہ صرف عام پولیس سروس بلکہ ایلیٹ فورس جیسے مشکل شعبوں میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہی نازک کلائیاں جن میں کبھی چوڑیاں کھنکتی تھیں، آج بندوق اٹھا کر معاشرے کے امن کی حفاظت کر رہی ہیں۔

اس کانفرنس میں ایک مرد پولیس افسر کی گفتگو بھی نہایت متاثر کن تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں اگر کوئی خاتون رات کے وقت تھانے آتی تو اس سے غیر ضروری سوالات کیے جاتے تھے، لیکن تربیتی ورکشاپس اور آگاہی پروگراموں کے بعد پولیس کے رویوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب توجہ متاثرہ خاتون کے لباس یا وقت پر نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور انصاف کی فراہمی پر مرکوز ہوتی ہے۔

اس تبدیلی کی ایک زندہ مثال خیبر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی گیارہ سالہ بیٹی کو غگ کی رسم کے تحت زبردستی حوالے کر دیا گیا تھا۔ شرکت گاہ کے تربیتی سیشنز میں شرکت کے بعد وہ اپنے حقوق سے آگاہ تھیں، چنانچہ انہوں نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔ نتیجتاً پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بچی کو بازیاب کرا لیا۔ ایک ان پڑھ خاتون کا اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا دراصل شعور اور آگاہی کی طاقت کا ثبوت ہے۔

خواتین کو بااختیار بنانے کا مطلب صرف انہیں روزگار فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں اپنے حقوق، قانونی تحفظ اور فیصلہ سازی کی قوت دینا بھی ہے۔ جب ایک عورت اپنے حق کو پہچان لیتی ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدلتی ہے بلکہ پورے خاندان اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔

خیبر پختونخوا، جہاں کبھی خواتین روایات اور سماجی پابندیوں میں جکڑی ہوئی زندگی گزارتی تھیں، آج وہیں انیلا ناز، شازیہ شاہد، سونیا شمروز، نازش شہزادی اور ریشم جہانگیر جیسی خواتین اعلیٰ پولیس عہدوں پر فائز ہو کر نئی نسل کے لیے مثال بن رہی ہیں۔ ان کی کامیابیاں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ اگر خواتین کو مواقع اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ کسی بھی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کے حقوق اور آگاہی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کیونکہ ایک باشعور عورت صرف اپنا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مستقبل سنوارتی ہے۔ جب خواتین اپنے حقوق سے آگاہ ہوں گی، قانون تک ان کی رسائی آسان ہوگی اور انہیں انصاف ملے گا تو یقیناً ایک زیادہ منصفانہ، محفوظ اور ترقی یافتہ معاشرہ وجود میں آئے گا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آج کی عورت کمزور نہیں، بااختیار ہے؛ خاموش نہیں، باخبر ہے؛ اور مظلوم نہیں بلکہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا جانتی ہے۔ یہی شعور ایک بہتر معاشرے کی بنیاد ہے۔

نازپروین معروف کالم نگار اور پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کی ڈائیرکٹر ہیں.

📧 nazpervin@hotmail.com

Loading